کراچی کی گرتی دیواریں، مٹتی پہچان اور تباہ ہوتا فطری حسن

لیاری میں حالیہ گرنے والی عمارت نے ایک بار پھر کراچی میں جاری بلڈر مافیا کی بے لگام سرگرمیوں اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی نا اہلی کو عوام کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ لیکن یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا۔ یہ اُس نظام کا شاخسانہ ہے جو دہائیوں سے اس شہر کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ کراچی کا المیہ صرف یہ نہیں کہ یہاں غیر قانونی تعمیرات ہو رہی ہیں، بلکہ یہ بھی ہے

Read more

پیپلز پارٹی کی اندرونی جنگ: وزارتوں سے ترجمانی تک سازشوں کا کھیل

پاکستان پیپلز پارٹی، جو ایک زمانے میں عوامی سیاست اور جمہوری جدوجہد کی علامت تھی، آج کل اقتدار کی راہداریوں میں سازشوں، ترجمانی کی سیاست، اور ایک دوسرے کے خلاف بنائی گئی ”پی آر مہمات“ کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سندھ میں حکومت چلانے کے بجائے وزارتوں کے درمیان ایک مسلسل رسہ کشی جاری ہے۔ اور عوامی مسائل کہیں اس جنگ کے ملبے تلے دفن ہو چکے ہیں۔ کبھی سندھ کی وزارت داخلہ اور جیل خانہ

Read more

اجرک نمبر پلیٹ پر اعتراض کیوں؟ یہ ثقافت ہے، سیاست نہیں

سندھ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کہ صوبے میں گاڑیوں کی نئی نمبر پلیٹس پر اجرک کا ڈیزائن شامل کیا جائے، ایک خوش آئند قدم ہے۔ یہ نہ صرف سندھ کی قدیمی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی ہے بلکہ دنیا کے کئی مہذب معاشروں کی طرح، اپنی مقامی شناخت کو اجاگر کرنے کی ایک خوبصورت کوشش بھی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی یہ خبر سامنے آئی، خاص طور پر کراچی کے کچھ حلقوں نے

Read more

سندھ کے کچے میں ڈاکو راج: حکومت کہاں ہے؟

سندھ کے کشمور ضلع کے لوگ ڈاکو راج سے تنگ آ کر کر اسلام آباد میں احتجاج کر رہے ہیں، سندھ میں کچے کے علاقے گزشتہ کئی دہائیوں سے بدامنی اور جرائم کا گڑھ بنے ہوئے ہیں، خاص طور پر کشمور، جیکب آباد، شکارپور اور گھوٹکی کے اضلاع۔ ان علاقوں میں پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں کے باوجود ڈاکو راج نہ صرف برقرار ہے بلکہ جدید ہتھیاروں اور ڈیجیٹل ذرائع سے لیس ہو کر مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

Read more

جدید ناہید خان: اقتدار کے سائے اور رویوں کی بدلتی دنیا

دنیا میں جو لوگ اقتدار پہ قابض لوگ ہوتے ہیں ان کے قریبی ساتھی پہلے اقتدار کے مزے لیتے ہیں پھر ان کی یاد مین کتاب لکھ کر اپنے آپ کو اچھا اور ان کو ننگا کرتے ہیں، پاکستان مین بھی اور باہر بھی، بعض اوقات لوگ اقتدار کے اتنے قریب آ جاتے ہیں کہ وہ خود کو اقتدار سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر ان کا چلنا، بولنا، دیکھنا اور برتاؤ۔ سب کچھ بدل جاتا ہے۔ بات صرف کسی وزارت یا

Read more

سندھ میں ہندو لڑکیوں کے اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور شادی: ایک انسانی المیہ!

سندھ کو ہمیشہ صوفیوں اور رواداری کی سرزمین سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اقلیتی برادری، خاص طور پر ہندو لڑکیوں کے ساتھ جبری اغوا، مذہب کی تبدیلی اور زبردستی شادیوں کی بڑھتی ہوئی اطلاعات ایک گہرے انسانی بحران کی نشان دہی کرتی ہیں۔ یہ واقعات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اقلیتوں کے تحفظ پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ اس سلسلے مین 2014 سے 2024 کے درمیان سندھ میں درجنوں ایسے کیسز رپورٹ

Read more

امریکی سیلز گرل بھی عمران خان کی گرفتاری کے بارے میں پریشان

یہ حسن اتفاق ہے کہ نواز شریف کے دور میں جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے کر قبریں کھود رہے تھے تب میں چین کے شہر شنگھائی میں تھا اور جب لاہور زمان پارک میں عمران خان کے گھر کا دروازہ کرین کے ذریعے توڑا جا رہا تھا تو اس وقت میں امریکا کے شہر ٹیمپا میں تھا۔ چین میں سابق صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو اور سندھ کابینا کے ساتھ ڈیلی گیشن میں

Read more

18 اکتوبر، جو میں نے دیکھا!

وہ 17 اکتوبر 2007 کی صبح تھی، جب مجھے اپنے ٹی وی چینل کی آفس کے سی ای او کی فون کال موصول ہوئی کہ آپ دوپہر تک کراچی انٹرنیشنل ائرپورٹ پر پہنچ جاؤ، کیوں کہ کل بینظیر بھٹو کی وطن واپسی ہے، کل شاید سڑکیں بلاک ہو جائیں اور آپ وہاں نہ پہنچ سکو۔ حالاں کہ 16 اکتوبر کو ہی کراچی شہر میں پاکستان کے دور دراز علاقوں سے لوگ پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ میں بلاول ہاؤس کے

Read more

کامران ٹسوری کو ٹنڈو باگو والے چھوٹو چائے والے کا سلام پہنچے

پاکستان پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں عتاب کا شکار بننے والا کامران ٹسوری، پیپلز پارٹی کے ہی آشیرواد سے گورنر سندھ بن گیا ہے۔ یہ وہی کامران ٹسوری ہے جس کو 2008 میں شہید بینظیر بھٹو کے بعد بننے والی پیپلز پارٹی کی سرکار نے کراچی سے گرفتار کر کے میرے آبائی گاؤں ٹنڈو باگو ڈسٹرکٹ بدین لایا گیا تھا اور وہاں کامران ٹسوری کے اوپر ٹنڈو باگو تھانے پے ایک مجاہد خواجہ نامی نوجوان کی مدعیت میں موٹر

Read more

سندھ ڈوبا یا ڈبویا گیا؟

کئی دنوں سے میں سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں کی کوریج پر تھا، اس سے پہلے بھی میں نے 2010، 2011 اور 2020 کے سیلابوں میں بھی سندھ کی کوریج کی تھی، مگر اس بار جو میں نے تباہی، بدانتظامی دیکھی ہے وہ سوچتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تین ہفتوں سے زیادہ دن گزر چکے ہیں، دریائے سندھ کے دونوں کنارے ڈوبے ہوئے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ سندھ کو ڈوبے ہوئے ایک ماہ مکمل ہو چکا

Read more

ڈوبتا سندھ اور شہباز گل کا کیلا

دریائے سندھ کے صدیوں پرانے راستے (جس کو اب پران کہا جاتا ہے ) پر میری ملاقات ایک کسان ’رمون کولھی‘ سے ہوتی، جس کا گھر حالیہ بارشوں کی نذر ہو چکا تھا، ایک گائے تھی، جو اس کے بچوں کے دودھ کا سہارا بنی ہوئی تھی، وہ بھی مر چکی تھی، دو چار ایکڑ پر جو اس نے فصل اگائی تھی وہ بھی اب جھیل کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ اپنی چارپائی کے اوپر رلی لٹکا کر سندھ

Read more

اگر دل رکھیں گے تو دل لگی ہوگی!

یونیورسٹیاں تعلیم کے ساتھ ساتھ، علم، ادب، انسانیت اور محبت کی نرسریاں ہوتی ہیں۔ یونیورسٹی کا زمانہ تھا، یہ وہ دور تھا، جب سندھ کی یونیورسٹیوں میں خاص طور پر جام شورو کے پس منظر میں رومانوی شاعری کی دنیا پر حلیم باغی کا قبضہ برقرار تھا، حالاں کہ سندھ یونیورسٹی کے طلبہ شیخ ایاز، استاد بخاری، آکاش انصاری، ابراہیم منشی، سرویچ سجاولی اور حسن درس کے گیت گنگناتے تھے، لیکن تمام طلبہ حلیم باغی کے جام شورو کے حوالے

Read more

ایک نایاب کتاب سے اچانک ملاقات

اپنی کتابوں کی الماری کی صفائی کرتے ہوئے اچانک میری نظر ایک کتاب پر پڑی، جو اخبار کے کور میں لپٹی ہوئی تھی۔ مجھے حیرت ہوئی۔ میری کوئی کتاب اس طرح سے اخبار کے سات پردوں میں چھپی ہوئی نہیں تھی، یہ کون سی کتاب ہے، جس کو میں نے اتنا چھپا کے رکھا ہے؟ کتاب کے چہرے سے نقاب اٹھایا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی، یہ کتاب تو میں برسوں سے ڈھونڈ رہا تھا! کراچی کی اردو

Read more

کرانچی والا صحافی اختر بلوچ بھی چلا گیا

  کراچی کی تاریخ، ادب، علم، سماج، خواجہ سرا سمیت لیاری تک ہر پہلو پہ ریسرچ کرنے والا محقق، صحافی اختر بلوچ ہم سے دور چلا گیا۔ یہ اس زمانی کی بات ہے جب حیدرآباد پریس کلب سندھ کا سیاسی ہائیڈ پارک تھا کراچی پریس کلب کے سامنے ابھی مظاہروں کا رواج نہیں پڑا تھا اور نہ ہی ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں کسی پریس کلب کا رواج تھا حیدرآباد پریس کلب کے سامنے صبح سے شام تک احتجاجی

Read more

مٹھی کے ایک ہندو بھگت کی کتھا

سندھ کے صحرا تھر کے مٹھی میں ایک ہندو بھگت نے ایسا کیا کیا کہ پوری انتظامیہ، میڈیا، سیاستدان اور سماجی ورکر حرکت میں آ گئے، ہوا یوں کہ مٹھی شہر میں ایک خبر آگ کی طرح پھل گئی کہ کھیمون نامی ایک ہندو سادھو بھگت ایک ہفتہ پہلے فوت ہونے والی بیوی سے کیے گئے وعدے کے مطابق سمادھی لینا چاہ رہا ہے، ہندو مذہب میں یوگا ذریعے اپنا سانس قبض کرنے والے عمل کو سمادھی کہا جاتا ہے،

Read more