دفعی، دفعی، دفعی!


’چل نی بی بی منہ بند کر، تے لا زور، تھلے نوں‘
(بی بی، منہ بن کر اور زور لگاؤ نیچے کی طرف)
زچہ عورت زور لگا کر منہ لال کرلیتی ہے۔
’منہ وچ زور نہ لا، تھلے لا، پاخانے والی جگہ تے، جیویں قبض ہوندی اے تے زور لا کے پاخانہ کڈھی دا اے )

(منہ میں زور نہ لگاؤ، نیچے کی طرف زور لگاؤ، پاخانے والی جگہ پر، جیسے قبض ہونے پر زور لگا کر پاخانہ باہر نکالتے ہیں )

زچہ اور زور لگاتی ہے۔
2، 3 ماسیاں مل کر چیختی ہیں۔
’زور لا، زور لا، زور لا، زور لا، کڈھ دے باہر‘
( زور لگاؤ، زور لگاؤ، زور لگاؤ، باہر نکالو اسے )
زچہ مٹھیاں بھینچ کر کراہتی ہے۔
’بی بی منہ بند کر کے گلے وچ زور نہ لا، تھلے لا زور، تھلے‘
(بی بی منہ بند کر کے نیچے زور لگاؤ، گلے میں زور نہ لگاؤ)

ماسی ٹانگیں تھپتپھاتی ہے۔
زچہ زور لگاتی ہے۔ زچہ کا پاخانہ خارج ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹر ماسی سے کہتی ہے۔ آیا جی میز اور جسم صاف کردو۔ پاخانہ نکل آیا ہے۔
’ہائے ہائے نی بی بی، ٹھہر پہلے میں تینوں صاف کر لواں‘
(ہائے ہائے بی بی، ٹھہر جاؤ، میں تمہیں صاف کردوں )

آیا صاف کرتی ہے، پھر ہدایات دیتی ہے۔
’چل بی بی ہون دیر نہ کر، لا زور، بچہ اٹکیا پیا اے‘
(بی بی اب دیر نہ کرو، زور لگاؤ، بچہ اٹکا ہوا ہے )
زچہ پھر زور لگاتی ہے۔
ڈاکٹر جی، ایہہ چنگا زور نہیں لاندی پئی۔ تسی اینی دیر وچ دوسری نوں ویکھ لوو۔
(ڈاکٹر صاحب، یہ ٹھیک زور نہیں لگا رہی۔ آپ اتنی دیر میں دوسری عورت کو دیکھ لیں ) ۔

دوسری میز پر لیٹی عورت کے گرد بھی 2 ماسیاں موجود ہیں جو کبھی خارج ہوا پاخانہ صاف کرتی ہیں اور کبھی مل کر ہلا شیری دیتی ہیں۔

’زور لا، زور لا، زور لا‘
(زور لگاؤ، زور لگاؤ، زور لگاؤ) ۔

یہ تھے وہ مناظر جب ہم فائنل ائر میں لیبر روم میں داخل ہوئے۔
یخ۔
اف خدایا۔
نہیں۔

بہت سوں نے ناک پر کپڑا رکھا، بہت سوں نے آنکھیں بند کیں، بہت سوں نے قے کرنی شروع کی اور کچھ ہم جیسے ڈھیٹ تھے جنہوں نے یہ مناظر دیکھ کر سوچا کہ میز کے دونوں طرف والی عورتوں کی اپنی اپنی کہانی ہے۔

لیٹی ہوئی نے ماں بننے کے عمل سے گزرنا ہے اور پاس کھڑی ہوئی نے اس کی مدد کرنی ہے۔ لیٹی ہوئی درد کے سمندر میں ڈوبی ہوئی ہے سو اس کو کچھ علم نہیں کب پاخانہ نکلا، کب پیشاب۔

دوسری عورت کی یہ نوکری تو ہے لیکن وہ بو سونگھ رہی ہے، پاخانہ دیکھ رہی ہے اور صاف بھی کر رہی ہے۔

ڈاکٹر کو چاہے قصائی کہیے یا دائی، مگر کون سا پیشہ ایسا ہے جو کسی اور کے پاخانے یا پیشاب میں ہاتھ مارنا پسند کرے گا؟ کون سی ڈاکٹر ایسی ہے جس کے منہ پر بچے کے گرد موجود پانی یا آنول نال نکالتے ہوئے خون کے چھینٹے نہ پڑے ہوں اور اس نے برداشت نہ کیا ہو۔

بجا کہ ڈاکٹر کو اپنے کام کی تنخواہ یا شیئر ملتا ہے مگر کیا کسی اور شعبے کے لوگ پیسوں کے عوض یہ سب کچھ کر سکتے ہیں؟

ہماری دونوں بہنیں یہ قصے سن کر منہ پھیرتے ہوئے کہتی ہیں، توبہ توبہ، کتنی گندی ہو تم!
پھر کون کرے؟ ہم ہنستے ہوئے کہتے ہیں۔

خیر زور لگوانے کی داستان ہم سنا رہے تھے۔ ایسا دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ بچہ زور لگائے بغیر نہیں پیدا ہوتا اور زور لگانے کے لیے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

مغربی ممالک میں چل بی بی زور لا، پش پش پش میں بدل جاتا ہے۔ مائی ڈیئر، پش پش پش، ڈاؤن ڈاؤن، پش پش پش ایٹ یور پاٹی پلیس۔

(زور لگاؤ، نیچے کی طرف، پاخانے والی جگہ پر)
لیکن بہت لطف آیا ہمیں سرزمین عرب پر جب ہم نے سنا،
دفعی، دفعی، دفعی۔

ہم نے بھی سیکھ لیا۔ سو جب بھی موقع آتا، ہم بھی حصہ بقدر جثہ آواز لگاتے، حبیبی، دفعی دفعی دفعی، تحت تحت، دفعی دفعی۔

(زور لگاؤ، زور لگاؤ، نیچے، زور لگاؤ)

ایک دن یونہی ہم نے سوچا کہ یہ ’دفعی‘ تو بہت مانوس سا لفظ لگتا ہے اور یکایک چودہ طبق روشن ہو گئے۔
اوہ یہ تو دفع ہے ہمارا۔ اردو میں بولا جانے والا، دفع، پرے مر۔

تحقیق کی تو علم ہوا کہ عربی ہی کا لفظ ہے اور دفعی، دفع سے ہی نکلا ہے۔ ہم نہ صرف ہنس ہنس کر بے حال ہوئے بلکہ جب نرسوں اور آیا لوگوں نے مل کر دفعی دفعی کا راگ گایا، ان سب میں ہماری آواز سب سے نمایاں تھی،
دفعی، دفعی، دفعی، تحت، تحت، دفعی، دفعی، دفعی۔

بشکریہ ڈان اردو

Facebook Comments HS