غدار کون؟


آج جو ملک کے حالات ہیں وہ آٹھ دس سال کی وجہ سے نہیں اس کے پیچھے وہ غلطیاں ہیں جو ہم دہائیوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں نہ صرف غلطیوں پر غلطیاں کر رہے ہیں بلکہ ان غلطیوں سے سیکھ بھی نہیں رہے۔

دہائیوں سے بربادی اور تباہی کی پاکستان کی تاریخ کے یہ اوراق ہمیں کتابوں میں پڑھنے کو نہیں ملیں گے۔ آج جلسوں اور جلوسوں میں ایک محکمے کے سیاسی کردار کے بارے سوال اٹھائے جا رہے ہیں تو یہ کردار تو پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد ہی شروع ہوا گیا تھا جمہوری ادوار میں عسکری مفادات کو لاحق خطرات کو دفاع پاکستان، قومی سلامتی اور بھارت دشمنی کے عنوانات کی تحت بچایا جاتا ہے۔ ”قومی سلامتی“ اور ”ففتھ جنریشن وار“ جیسی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں تاکہ رائے عامہ پر کنٹرول مکمل رہے۔

اس حوالے سے میں قیام پاکستان کے دور کے دو واقعات کا ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بھجوائی تو ساتھ نوٹ میں لکھا کہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کے بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا ہے

اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا

” میں اس آرمی افسر (ایوب خان) کو جانتا ہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔“ بحوالہ

کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
مصنف: قیوم نظامی

قائد اعظم خاص جمہوری انداز میں مملکت چلانا چاہتے تھے۔ اور اسی حوالے سے کسی کی مداخلت پسند نہیں کرتے تھے۔ اس حوالے سے قائد اعظم نے ایک اور فوجی افسر اکبر خان کے مشوروں سے زچ ہو کر اس سے کہا تھا کہ آپ کا کام پالیسی بنانا نہیں، حکومت کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔ اور بعد ازاں وہی جنرل اکبر لیاقت علی خان کے خلاف بغاوت کے جرم میں گرفتار ہوا اور تقریباً پانچ سال جیل میں رہا۔ لیکن اس کے بعد یہ محکمہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اتنا طاقتور ہو گیا کہ طاقت اور اختیارات کا مرکز بن گیا اپنی پسند کی حکومت بنانا اور توڑنا معمول بن گیا۔

کوئی لیڈر پسند نہیں آیا تو اس لیڈر کو غدار یا ایجنٹ ڈیکلیئر کر دیا جاتا اگر اس سے بھی کام نہیں چلاتا تو مذہب کا کارڈ استعمال کیا گیا۔ 1965 میں محترمہ فاطمہ جناح نے جب ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا تو انہیں غدار قرار دیا گیا۔ الیکشن مہم کے دوران ایوب خان کی طرف سے تقسیم ہونے والے پمفلٹ کچھ ایسے تھے جن میں محترمہ فاطمہ جناح پر پاکستان توڑنے کی سازش کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو پر بھی غداری اور غیر ملکی ایجنٹ ہونے کی تہمت لگی۔

1990 کی الیکشن مہم میں ان کے مخالف سیاسی اتحاد آئی جے آئی (IJI) نے اخبارات میں اشتہار شائع کروائے ’جس میں نصرت بھٹو اور پیپلز پارٹی پر ”کہوٹہ لے لو۔ کرسی دے دو“ کا الزام لگایا گیا جبکہ بے نظیر بھٹو اور راجیو گاندھی کی تصویر والے اشتہار میں ”کشمیر سے غداری، دشمنوں سے یاری“ کا الزام لگایا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر داخلہ اعتزاز احسن پر خالصتان تحریک میں شامل سکھوں کی فہرستیں انڈیا کو دینے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔

بینظیر بھٹو کے سب سے بڑے مخالف اور ملک کے 3 بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف بھی بینظیر کو سکیورٹی رسک قرار دیتے رہے۔ پھر وقت نے پلٹا کھایا اور انہی نواز شریف پر بھی سکیورٹی رسک اور مودی کے یار کا لیبل لگا دیا گیا۔ اور معلوم نہیں کب عمران خان پر یہ الزام لگایا جائے اور اچانک عوام کو پتہ لگے کہ عمران خان محب وطن نہیں رہے بلکہ وہ بھی دوسرے سیاستدانوں کی طرح غدار ہے۔ پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، پاکستان میں نظریاتی اور سیاسی مخالفین کو غدار قرار دینے اور انڈیا کے ایجنٹ بنانے کی روایت اور تاریخ کافی پرانی ہے۔

عوام میں غیر مقبول بنانے کے لئے ان کی کردار کشی کی جاتی ہے، ان کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی ہے، عوام میں ان کا امیج خراب کیا جاتا ہے۔ فاطمہ جناح سے لے کر عمران خان تک نظریہ ضرورت اور سیاسی انتقام کے جوش میں مخالفین کو غدار کہنا بڑا عام چلن رہا ہے۔ غداری کا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ مودی کی یاری اور غداری ایسا عام لفظ ہے جو ہمیں پچھلے چند برسوں سے کثرت سے سننے کو مل رہا ہے۔ ایک طرف ملک میں سیاسی بحران جاری ہے تو دوسری طرف غداری کے لفظ نے ہمارے منظر نامے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

ایک ایسا الزام جسے کسی پر لگاتے ہوئے سو بار سوچنا چاہیے، اتنے سہل انداز سے لگایا جا رہا ہے کہ سیاسی میدان اسی لفظ غداری کا اکھاڑہ بن کر رہ گیا ہے۔ اخبارات کے صفحات سیاسی رہنماؤں کے بیانات سے بھرے پڑے ہیں، جن میں وہ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے نظر آتے ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سیاستدان غداری کے یہ سرٹیفکیٹ کسی کے کہنے پر بانٹتے ہیں۔ اور پھر ان سیاستدانوں پر بھی یہ الزام دوسرے سیاستدان اسی ادارے کے کہنے پر لگاتے ہیں۔

دہائیوں سے ملک میں غداری کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں میں غداری کے یہ الزامات پاکستان کے ایک بڑے میڈیا گروپ اور کچھ صحافیوں پر بھی لگایا گیا۔ اب سوشل میڈیا کا دور ہے عوام سوال کرتی ہے کہ نواز شریف جس کو اپ نے مودی کا یار بتایا اب کیسے اچانک سے ملک دوست ہو گیا کیوں ان کو حکومت دی گئی؟ عمران خان جس کو اپ نے 22 سال سے ملک کا نجات دہندہ کہتے آئے ہیں قومی ہیرو بتایا ہے کو کیوں اقتدار سے ہٹایا؟

ایک ٹی وی چینل جس کو اپ نے غدار کہا اب اس کی بات پر ہم کیوں اعتبار کریں؟ اور جس ٹی وی چینل کو اپ محب وطن قرار دیتے تھے آج وہ آپ کو غلط کہ رہا ہے۔ اپ نے اپنی سیاست کی وجہ سے اپ کے حق میں آواز اٹھانے والوں کی زبان خود ہی بند کر دی۔ نواز شریف اور مریم نواز شریف نے جب اسٹیبلشمنٹ محالف بیانیہ اپنایا تو اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی تمام ضمنی الیکشن جیت گئے ایک مقبول سیاسی جماعت بنے۔ لیکن حکومت میں آنے کے بعد اسٹبلشمنٹ کے ساتھ اچھے تعلقات کی وجہ سے اس وقت وہ مقبول جماعتیں غیر مقبول ہو گئی اور ایک ایسی جماعت جو پونے چار سال کے حکومت میں کچھ بھی ڈیلیور نہ کرنے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ محالف بیانیہ اپنانے پر کیسے مقبول ہو گئی؟

تو یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ صاحب اقتدار محکمے کو اس بات پر سوچنا چاہیے عوام کیوں اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعت کو ووٹ دینا چاہتی ہے؟ سیاستدانوں کو بھی چاہیے کہ طاقت کا سر چشمہ عوام کو سمجھے۔ نہ کہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک محکمے کو۔ پارلیمنٹ ایک ایسا ادارہ ہے جو اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا سکتا ہے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ حکمران جماعت اور اپوزیشن پارلیمنٹ سے قریباً لاتعلق ہی رہی جس سے غیرسیاسی قوتوں کو اپنی اخلاقی دلیل کے ذریعے حکومت کو پچھاڑنے کا موقع مل جاتا ہے۔

جب تک سیاسی قوتیں پارلیمنٹ کو با اختیار نہیں بناتیں، پارلیمنٹ بیانیے کی تشکیل اور تنازعات کو سلجھانے میں اپنا قائدانہ کردار ادا نہیں کرتی تو پھر ایسا خلا جنم لیتا ہے جس سے کوئی بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو پارلیمنٹ کو با اختیار بنانے کے لئے ایک میز پر آنا ہو گا عسکری ادارے کے سیاسی کردار کو محدود کرنا ہو گا ورنہ یہ غداری کا کھیل چلتا رہے گا۔ اور اقتدار جانے کے بعد عمران خان کی طرح بیان جاری کیا جاتا رہے گا کہ ہمارے تو ہاتھ باندھے گئے تھے ہم تو کٹھ پتلی حکومت تھے۔

پاکستان کے آئین میں غداری کی تعریف کچھ اس طرح سے کی گئی ہے آئین پاکستان کا آرٹیکل 6 کہتا ہے کہ‘ ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے آئین پاکستان کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے۔ ’یہ آئینی تعریف کی وہ شکل ہے جو آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد سامنے آتی ہے۔ اس تعریف کی رو سے کسی بھی سویلین لیڈر پر غداری کا الزام نہیں لگایا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS