بولتے کیوں نہیں میرے حق میں…
پاکستان کے آزاد ہونے میں کئی عوامل کار فرما تھے لیکن سب سے اہم کردار قومیت کا تھا۔ قومیت کیا ہے؟ قومیت ایک شخص یا گروہ کی قانونی حیثیت ہے۔ قومیت کے وجود کا تحفظ ایک ریاست کرتی ہے۔ ہم یہی سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ پاکستان بھی قومیت کی بنیاد پر آزاد ہونے والی ایک ایسی ریاست ہے جہاں لوگ بہت سے بندھنوں مثلاً زبان، ادب، تصورات، روایات اور ضابطوں میں اس طرح بندھے ہوئے ہیں کہ ان میں ایک مربوط اکائی ہونے کا احساس پایا جاتا ہے۔ لیکن یہ کیسی اکائی ہے کہ آدھا ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے اور باقی آدھا سلاخوں کے پیچھے قید ایک شخص میں دلچسپی رکھتا ہے۔ جہاں سیلاب میں ڈوب جانے والوں کے لیے ایک خبر نشر نہیں ہوتی اور ”ایوارڈز شو“ کی رنگینیوں سے ہم چار چار گھنٹے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
ناخن کو چوٹ لگے تو پورا جسم دکھتا ہے یہاں جسم جگہ جگہ سے کٹا پھٹا ہے اور کوئی مرہم پٹی کرنے والا نہیں۔ معاشروں کی تشکیل میں ربط، ہم آہنگی، باہمی اشتراک، تعاون اور اخلاقی اقدار کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے، سماجی نشو و نما ان ہی عوامل کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
کیا شہباز گل، ایوارڈز، شوز، کرکٹ، کسی سیلیبرٹی کا کنسرٹ، کسی سیاستدان کے گھر کا پہرہ اتنی اہم خبریں ہیں کہ ملک کی آدھی آبادی بے یارو مددگار سڑک کنارے کسی مسیحا کی منتظر ہو اور نصف ملک بے خبر رہے۔
کسی بڑے شہر کے پوش علاقے میں گھر کے ڈرائنگ روم کی کھڑکی سے لان میں پڑتی بارش کا نظارہ کرنا کتنا خوش گوار احساس ہے، جی چاہتا ہو گا کہ یہ بارش کبھی نہ رکے۔ پاکستان کے وہ علاقے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں لیکن حکومتی وسائل سے ہمیشہ ہی محروم رہے اور اکثر بارشوں سے بھی محروم رہتے ہیں۔ اس سال ان علاقوں میں تباہ کن بارشوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں محض کہانی اور مفروضہ نہیں ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے۔ ایسی حقیقت جو آج ہمارے ہم وطنوں کے گھر بار اور ہنستی بستی زندگیاں اجاڑ رہی ہے اور بعید نہیں کہ اس کا اگلا شکار پوش علاقوں کے وہی گھر ہوں جہاں کی کھڑکی سے بارش بہت خوبصورت لگتی ہے۔
وسیب ڈوب رہا ہے جسے سیاستدان الگ صوبہ بنا کر حکومتی وسائل برابر تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں، وہ وسیب جس کے انتظامی معاملات بہتر کرنے کا منشور لے کر کئی سیاستدانوں نے اسمبلیوں میں اپنی جگہ بنائی۔ وہاں کے باسی اپنے خاندان پانیوں کے حوالے کر بیٹھے ہیں جنہیں شاید رونے والا بھی کوئی نہیں بچا۔ صرف لاشیں ہیں بچوں کی، مویشیوں کی، انسانوں کی اور حکومتی دعووں کی۔
سیاستدان اور حکومتی ارکان جو صرف سر گنتے ہیں تاکہ الیکشنز میں وہ سر کام آ سکیں، وہ سر زندہ ہیں یا مردہ ہیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ حکومتی مشینری تو ان سیلاب زدگان کے کام نجانے کب حرکت میں آئے، کیا معلوم آئے گی بھی یا نہیں، حکومت اور سیاستدانوں کی غفلت پر نہ افسوس ہے نہ گلہ۔ افسوس تب ہو جب ان پر اعتماد ہو کہ ہم پکاریں گے اور وہ چلے آئیں گے۔
افسوس مجھے ان لوگوں پر ہے جو سوشل میڈیا پر کئی لاکھ فینز رکھتے ہیں اور ہمہ وقت کچھ نہ کچھ اپنے پروفائلز پر شیئر کرتے رہتے ہیں وہ شو بز ہو، سیاست ہو، کسی کا مذاق بنانا ہو، کسی کو گالی دینی ہو، ان کا تبصرہ آ رہا ہوتا ہے۔ ان کے علم و ذہانت پر مجھے نہ پہلے کبھی شک تھا نہ آئندہ ہو گا۔ مگر مجال ہے جو ایک پوسٹ، ایک حرف، کوئی ایک سوشل میڈیا ٹرینڈ سیلاب زدگان کی مدد کے لئے ان کی طرف سے آیا ہو یا ان کی داد رسی کی گئی ہو۔
یہاں کسی سیلیبرٹی کی بلی گم ہو جائے یا کسی سیاستدان کو زکام ہو جائے، کسی گلفام اور رخشندہ کی ٹویٹر پر دوستی کے بعد شادی ہو جائے تو سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن جاتا ہے۔ سینکڑوں لوگ بے آسرا ہو گئے اور اب تک اس تعداد میں ہر گزرتے دن اضافہ ہو رہا ہے اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ انسانیت کا ایسا شدید بحران شاید ہی پہلے کبھی دیکھنے میں آیا ہو۔ یہ تمام لوگ جو بظاہر سوشل میڈیا پر اتنے ایکٹو ہیں، وہ اتنے بڑے سانحے سے کیسے اتنا بے خبر ہیں؟
آپ اپنے برانڈ کی مارکیٹنگ کریں، ہوٹل میں کھانا کھاتے ہوئے تصویریں شیئر کریں، سیر پہ جاتے ہوئے وی لاگز بنائیں، سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں پر بحث کریں، میمز شیئر کریں، لوگوں کے ”آج آپ کے گھر میں کیا بنا ہے؟“ جیسی پوسٹس پر کمنٹ کریں، آپ یہ سارے ضروری کام کریں مگر آپ ایک پوسٹ سیلاب سے متاثر تباہ و برباد ان خاندانوں کے بارے میں کر دیں گے تو خدا کی قسم آپ کے فالوورز کی تعداد میں اضافہ ہی ہو گا۔
وہ چند لوگ جو دلوں میں انسانیت کا درد رکھتے ہیں وہ کئی خاندانوں کی آواز بننے کی کوشش کر رہے ہیں مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ ان دردمند لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ وہ لوگ جو تصاویر اور معلومات شیئر کر رہے ہیں، وہ دل دہلا دینے والی ہیں، ان پر یوں چپ نہیں سادھی جا سکتی۔ یہ ہنگامی صورتحال ہے، کوئی ایک دو دن میں حل ہونے والا معاملہ نہیں ہے۔ آپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس جو اس وقت مختلف عنوانات پر ہرزہ سرائی کرنے میں مصروف ہیں، ہر تین منٹ بعد آپ کی پوسٹ آتی ہے مگر وہ آپ کے نئے کپڑے، کسی فینسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے، کسی گانے پر ڈانس، کوئی گھسا پٹا سیاسی مذاق، کوئی نیا فیشن، کوئی اولڈ فرینڈ میٹ اپ، کسی ڈرامے کے بارے میں ہوگی مگر ان آفت زدہ علاقوں کے لئے ایک لائن کی گنجائش نہیں ہے۔
آپ سے پیسے نہیں مانگے جا رہے، آپ سے سندھ، جنوبی پنجاب یا بلوچستان جا کر ان کا درد بانٹنے کو نہیں کہا جا رہا، آپ سے کوئی امدادی سامان پہنچانے کا نہیں کہا جا رہا، کیا آپ کی زبان ان سیلاب کے ستائے ہوئے لوگوں کے لئے ہمدردی کے دو بول بولنے سے بھی قاصر ہے؟
ایسی قیامت تو نہ دیکھی تھی کبھی! آپ کے اس علم و فطانت کا کیا فائدہ جو آپ سارا دن سوشل میڈیا پر مفت بانٹتے ہیں، اگر اس سے آپ کے اپنے ہم وطن محروم ہیں۔ یہ بات حق ہے کہ خدا ہم سے یہ سوال ضرور کرے گا کہ جو طاقت، جو علم تم کو بخشا تھا اس کا کیا کیا؟ آپ اسلامی تعلیمات کو ہی مد نظر رکھتے ہوئے دو سطریں لکھ ڈالیں۔ اسلام تو آپ کو سکھاتا ہے کہ ایک انسان کا درد پوری انسانیت کا درد ہے، آپ کا ہمسایہ بھوکا سو جائے اور آپ پیٹ بھر کر سوئیں تو آپ سے سوال ہو گا۔ یہ کیسی بے حسی ہے یہ کون سا مذہب ہے جس کی آپ تعمیل کر رہے ہیں؟ فیسبک پر منصف بن کر سارا دن آپ مختلف لوگوں کو سزا اور جزا سناتے ہیں، اگر آپ منصف ہیں تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟
آپ کچھ نہ کریں، ایک سطر ہی لکھ دیں آپ کے اتنے فالورز ہیں، ان میں سے کئی لوگ آپ کی پوسٹس اور ٹویٹس شیئر کرتے ہیں، ہو سکتا ہے کسی حکومتی ارکان یا سیاستدان تک پہنچ جائے اور انہیں خوف خدا محسوس ہو، جس کا امکان کم ہے مگر امکان ہے تو سہی۔ آپ کا ان بے یارو مددگار انسانوں سے کوئی ناتا نہیں ہے لیکن مجھے یقین ہے آپ کی سینے میں دل ضرور ہے۔
ہم سارا وقت انسانی حقوق کے علمبردار بنے ہوئے ہوتے ہیں مگر جب انسانی حقوق پر عمل کرنے کا وقت ہے تو چار سو سناٹا ہے۔ صرف بے آسرا لوگوں کو یہ احساس دلا دیں کہ آپ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لوگوں کے بچے، مال مویشی سامان سب پانی اپنے ساتھ بہا لے گیا ہے اور یقین مانیے آنے والے سالوں میں یہ موسمیاتی تبدیلیاں ہم سب کو اپنی لپیٹ میں لینے والی ہیں۔ اس لیے یہ التماس ہے کہ حکومت اور انتظامیہ تک اپنی آواز پہنچائیں اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں کہ آپ کو ان بہہ جانے والوں کا غم ہے اور وہ بہہ اس لیے گئے ہیں کہ بر وقت ان کو بچانے کے انتظامات نہیں کیے گئے۔
آئیے اس معاشرے کی تشکیل نو کی جانب، امن و سکون کی جانب! اپنے قلم کی طاقت کو صحیح معنوں میں آزمائیں، اپنے لوگوں کی آواز بنیں۔ ایک قوم ہونے کا ثبوت دیں۔ آپ کا ایک لفظ شاید آپ کو روز محشر کسی بڑی آزمائش سے بچا لے۔


