نالہ ہائے شب دیجور

انسان چاہے کتنا ہی پوسٹ ماڈرنسٹ بن کر تاریخ کی معروضیت کو جھٹلاتا پھرے، وہ تاریخ چاہے کتنے ہی غیر مستند حوالوں کا انضمام ہو مگر بہرطور ابہام کی تہوں تلے حقائق کے ٹکڑے ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور یہ حقائق ایسی مستند آنکھوں دیکھے منظر ہیں جنہیں جھٹلانا انفرادی انا کے سوا کچھ نہیں۔ ایک ایسا ہی منظر خطہ برصغیر کا تھا جہاں ہزاروں سالہا قدیم ہندوستانی تہذیب میں ایک ہزار سال پہلے لا الہ والا مسلمان بھی ضم ہو گیا۔
مگر تہذیب کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ اس میں بیک وقت مختلف مذاہب، ثقافت اور زبانوں کے لوگ یکجا رہ سکتے۔ ہندوستانی تہذیب کا یہ جمال مغل دور کے آخری خانوادے تک قائم رہا اور اس کامیابی کے بنیادی عناصر میں سے ایک عنصر ایک آزاد ماحول تھا جہاں کثیر النظریاتی سماج میں سیکولر فضا تھی، مذاہب اور عقیدے ”اطلاق“ اور ”نفاذ“ جیسی Outlet Forces سے مبرا تھے اور معاشرہ خوشحال تھا۔ وقت کا ظلم دیکھیے کہ 1857 میں برطانوی راج قائم ہوا تو ملاؤں سے زیادہ اسلام کی تبلیغ انگریز کرنے لگے۔
مقصد صاف تھا ”تقسیم اور حکومت“ ، جیسے جیسے گورے کی اسلامی تبلیغ سینکڑوں کنال اراضیوں، ”سر“ کے خطابات اور سرکاری وظیفوں کے عوض باریش ملاؤں کے ذریعے پروان چڑھتی رہی ویسے ویسے مسلکی فسادات، مذہبی منافرت، دقیانوس نیریٹو اور قدامت پسند مزاج پنپتے رہے اور نتیجتاً سیاسی اجارہ داری کے لیے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کی آڑ میں ہندوستانی تہذیب کو دو لخت کر دیا گیا۔
اب دوسرا منظر دیکھئے 1947 کے بعد کا، تحریک پاکستان کے ذریعے بھڑکائے جذبات کی تسکین ہو گئی تو خطے کا ماحول دوبارہ سازگار ہونے لگا۔ وقت کی ستم ظریفی ہے کہ خوشحالی اور امن کا رکا پہیہ پھر سے شاہراہ ترقی پر گامزن ہوا ہی تھا کہ 80 کی دہائی آن پہنچی۔ ضیائی رجیم نے ایک بار پھر اسلام کے نفاذ کا واویلا کیا اور دولے شاہ کے تمام چوہے پگڑیاں پہنے جہاد کو نکل آئے۔ گھمسان کا رن پڑا، ڈیورنڈ لائن کی خاردار تاروں سے خون ٹپکنے لگا، پختون مدارس کا نصاب بش انتظامیہ کی تصدیقی مہر کے ساتھ ترتیب دیا گیا اور اسلام نافذ ہو گیا۔
موصوف تو آموں کی پیٹیاں لیے 1988 کو چل بسے مگر اپنے پیچھے ایک بار 1857 کا وہی متعصب، متشدد اور دقیانوس سماج چھوڑ گئے جہاں بنیاد پرستوں کو اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لیے آیتوں کی کمی کبھی نہیں رہی۔ ٹیڑھی انگلی تو درکنار ان کی تمام انگلیاں گھی میں رہیں اور آج تک ہیں۔ ان کے زر، زن اور زمین کے تمام جھگڑوں کا اختتام آج بھی ملحد، ملعون، زندیق، گستاخ اور کافر جیسی نیزہ بازیوں سے ہوتا ہے۔ اب آپ چاہیں تو ان بے لگام خداؤں کی تقلید میں غیرت، حرمت، تلوار، سنگسار، مقلد، غیر مقلد، فقے، فتوے اور لعنت ملامت کا ماحول قائم رکھیں اور چاہیں تو عقائد کو خدا اور انسان کا دوطرفہ معاہدہ سمجھ کر اپنے اعمال کی تصحیح کریں اور ایک آزاد اور روشن خیال معاشرے میں ترقی، ادراک، فکر، فہم، تدبر، تخلیق اور تحقیق کی راہیں ہموار کر کے اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں پر احسان عظیم کر دیں۔

