اسماعیل ہانیہ کی شہادت اور عالمی سیاست کی شطرنج

کہاوت مشہور ہے کہ ”بیگانی شادی میں عبدللہ دیوانہ“ مگر پاکستان میں سماجی روابط کے پلیٹ فارمز کھولیے تو اس کہاوت کا انطباق یوں محسوس ہوتا ہے کہ بیگانی جنگ میں مُلّا دیوانہ۔ بہرحال گزشتہ چند دنوں سے آوازوں کے جنگل میں ایسی ہاؤ ہو تھی کہ کوئی سنجیدہ بات کرنا تو کجا سانس تک لینا محال تھا۔ بھلا ہو اس سائنس کی ترقی کا جسے ہمارے مذہبی پیشوا ’کافر دی ایجاد‘ کہتے رہے اور پھر حماس کے رہنما اسمٰعیل

Read more

سیکس ایجوکیشن

سیکس انسان کی بنیادی ضرورت ہے، اور انسان ہی کی نہیں بلکہ تمام انواع و اقسام کے حیوانات کی بھی۔ مگر کیسی حیرت ہے کہ یہی انسان خلائی مدار اور دیگر سیاروں کا درجہ حرارت تک معلوم کرنے کے لیے عالمگیر تحقیقی مقالے اور کروڑوں کانفرنسیں کروانے کو سائنس کی ترقی سمجھتا ہے۔ مگر اول الذکر فطری ضرورت سے متعلق کوئی ایک لفظ بھی کہہ دیا جائے تو سماج، ثقافت، غیرت، مذہب اور شرم کے سارے بیانیے تلملا اٹھتے ہیں!

Read more

شعرا دوستوں سے معذرت کے ساتھ

گویا یوں محسوس ہوتا ہے کہ ادبی کینوس میں اب شاعری کا رجحان نثر اور اس کی تمام جہتوں پر حاوی ہو چلا ہے۔ عوامی حلقے تو شاعری کے ہاتھوں پہلے ہی ہائی جیک ہیں مگر اب نثر کہنے اور سمجھنے والوں کو بھی سوشل میڈیا کی دوڑ میں مشاعرہ کلچر ہی خوب لُبھاتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ترقی پسند شاعری کے مقابل میں عامیانہ پاپولسٹ شاعری کا بڑھتا رجحان تو بہرکیف ایک مکمل تفصیلی بحث ہے۔ مگر فی

Read more

لاہور اور کراچی کا ایک تقابلی جائزہ

2020 میں کراچی چھوڑ کر لاہور ہجرت کی تو ایسا لگتا تھا کہ بقیہ عمر ساری شہرِِ جاناں کا غم کھا جائے گا۔ اور کچھ حد تک ایسا ہوا بھی۔ سو ایک ڈیڑھ سال تک ہمیں اپنے شہرِِ گزشتہ کا ہجر دیمک کی طرح کھاتا رہا مگر رفتہ رفتہ جذبات ماند ہوئے اور عقل انگڑائیاں لے کر اُٹھی تو حقائق پر غور شروع کیا۔ الغرض آج کی تاریخ میں کراچی اور لاہور کا تقابل کرنا ہو تو ہمارے چند معروضی

Read more

صرف ہندسہ ہی تو بدلا ہے

ہیگل خیالاتی جدلیات کی کسوٹی پر وقت کے بہاؤ اور حالات کی رفتار کو ماپتا ہو یا مارکس مادی جدلیات کا سہارا لیتا ہو، من حیث القوم ہمیں نہ اس بات سے کوئی شغف ہے اور نہ ہی ہمارے اذہان کی کھڑکی ایسی کسی شعوری کرن کو دماغ کے کواڑوں سے رستہ دینے کو تیار ہے۔ کیونکہ وقت چاہے 1947 کا ہو یا 2022 کا، ہمارے نہ کردار بدلے ہیں نہ افکار۔ دنیا کی دو سو ریاستوں میں شاید ہم

Read more

عورت اور ہمارا فکری فریب

عقل کا ایک سادہ سا اصول ہے کہ کسی بھی قائم رائے یا نقطہ نظر کے رد کے لیے اس نقطہ نظر میں موجود تمام دعووں کو فرداً فرداً سمجھا جاوے اور پھر ان کے منطقی و عقلی سقم کی بنیاد پر اس نظریے کی لنکا ڈھائی جاوے۔ مگر محسوس یوں ہوتا ہے کہ یہ کام بہت مشقت طلب ہے سو کسی بھی ایسی تحقیقی روش کے بجائے سنے سنائے چند ضابطوں پر ایمان لے آنا عام طرز عمل بن

Read more

ٹرانس جینڈر ایکٹ

خطہ برصغیر کی سرشت میں شامل ہے کہ گھی سیدھی انگلی سے نکلتا بھی ہو تو انگلی ٹیڑھی کرنا لازمی ہے۔ حال ہی میں قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ”ٹرانس جینڈر“ بل پیش خدمت ہے۔ اس بل کا اصل مقصد تو ٹرانس کی حفاظت، آزادی، عزت نفس، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی انسانی ضروریات کو یقینی بنا تھا اور بلاشبہ یہ اقدام قابل تعریف ہیں کہ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے مگر اسی بل کے ضمن میں سوشل میڈیا

Read more

شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

جو رنج۔ہست و بود سے تجھے نہیں شغف کوئی تو پھر خدائے خیر و شر مارا اختلاف ہے ماہ نور رانا لحظہ بھر کو آپ اپنی شناخت کا خول اتار کر ایک جانب دھر دیں، آپ کٹر مذہبی ہیں، دہریہ ہیں، انقلابی سوشلسٹ ہیں یا لبرل ڈیموکریٹ، اپنے تمام عقیدوں کے دائرے سے ذرا باہر آئیں۔ آج کا مدعا ہزاروں سال پرانا سوال خدا کا وجود، ہونا نہ ہونا ہرگز نہیں۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ جو خدا رزاق ہونے

Read more

مخمصہ

تو کبھی اس شہر سے ہو کر گزر راستوں کے جال میں الجھا ہوں میں ( آشفتہ چنگیزی) شنید ہے کہ تاریخ مختلف اوقات کا مجموعہ ہوتی، سو جیسے نہ کبھی وقت رکا ویسے ہی تاریخ بھی جاری ہے اور جاری رہے گی۔ ہمارا حال کل کا ماضی ہو گا اور ہمارا مستقبل کل کا حال۔ چونکہ تاریخ کے ساتھ ارتقاء برابر جاری ہے سو انسانی عقل ہمیشہ اس ارتقاء کو تلاش کر اپنے مستقبل کی خوشحالی یا بدحالی کا

Read more

نالہ ہائے شب دیجور

انسان چاہے کتنا ہی پوسٹ ماڈرنسٹ بن کر تاریخ کی معروضیت کو جھٹلاتا پھرے، وہ تاریخ چاہے کتنے ہی غیر مستند حوالوں کا انضمام ہو مگر بہرطور ابہام کی تہوں تلے حقائق کے ٹکڑے ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور یہ حقائق ایسی مستند آنکھوں دیکھے منظر ہیں جنہیں جھٹلانا انفرادی انا کے سوا کچھ نہیں۔ ایک ایسا ہی منظر خطہ برصغیر کا تھا جہاں ہزاروں سالہا قدیم ہندوستانی تہذیب میں ایک ہزار سال پہلے لا الہ والا مسلمان بھی ضم

Read more

مذاہب کا المیہ

ہر مذہب کے بنیاد پرستوں کو یہ بے جا زعم رہا ہے کہ ان کے مذہبی نظریات ہی کائنات کا محور و مرکز ہیں سو تمام تر آفاقی اخلاقیات  ان کے مذاہب کی دین ہے۔ لہذا ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ چونکے ان کا مذہب زمین میں بستے تمام خطوں کے لیے اخلاقیات مہیا کرتا ہے سو ان کا مذہب سب سے اول و اعلی ہے۔ تاریخی حقائق کے نیزے نے جب چند بڑے مذاہب کے اس زعم

Read more

ارتقا ناگزیر ہے

اکیسویں صدی کی طبقاتی کشمکش اور سرمایہ داری نے ہمارے اذہان میں مخصوص انداز میں کچھ لکیریں کھینچ دیں ہیں اور ہمارا لاشعور تک ان لکیروں پر خود کو منظم کرچکا ہے۔ سو اب ہماری انفرادی سوچ، مجموعی رویے، تخلیقات، نظریات اور سب سے بڑھ کر طرز زندگی انھی لکیروں پر استوار ہے۔ مادہ پرستی ان لکیروں کی وہ بنیاد ہے جس کے سبب ہمارے معاشرے اور تہذیبی خال و خد ہر گزرتے روز کے ساتھ تبدیلی کے دھارے سے

Read more