رشتوں کی امرتی
زندگی کا اک اہم پہلو رشتے ہیں۔ ہم رشتوں سے گھرے ہوئے ہیں۔ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ہماری زندگی رشتوں کے بغیر ادھوری ہے۔ رشتہ خون کا، احساس کا، انسانیت کا، دوستی، محبت کا، یہ ہی سرمایہ حیات ہوتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ رشتے نہایت نازک ہوتے ہیں۔ خود غرضی، لالچ، طعنہ زنی، الزام تراشی، بے ایمانی، نفرت و غصہ اور بے احتیاطی کے سبب رشتوں میں تلخی آجاتی ہے جو رشتوں کو گھن لگا دیتی ہے۔
انسان ایک سماجی جانور ہے وہ کبھی تنہا نہیں رہ سکتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کے درمیان رشتوں کی دیوار قائم کر دی۔ اسے تنہائی کے اندھیرے غار سے نکال کر رشتوں کی کھلی فضا میں لا کھڑا کیا۔ ان ہی رشتوں کے سہارے انسان خوشحال اور پرسکون رہتا ہے اور کبھی تنہائی محسوس نہیں کرتا۔ پیار اور اپنا پن سے انسان اپنے آپ کو کبھی تنہا محسوس نہیں کرتا ہے۔
شرط یہ ہے کہ انہیں بخوبی نبھایا جائے، رشتوں کی قدر و قیمت کو سمجھتے ہوئے ہمیں رشتے داری نبھانی پڑتی ہے اور یہ رشتے داری سمجھداری، پیار و محبت سے، اپنا پن و احساسات سے پروان چڑھتی ہے اور ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ رشتے باتوں سے نہیں بنتے ہیں۔ کچھ لوگ باتوں سے بھی اپنے نہیں بنتے اور کچھ لوگ خاموش رہ کر اپنے سلوک سے اپنے بن جاتے ہیں۔ رشتہ معصوم پرندے کی طرح ہوتا ہے، اگر سختی سے پکڑیں تو مر جائے گا، نرمی سے پکڑیں تو اڑ جائے گا مگر محبت سے پکڑیں تو وہ کبھی اڑ نہیں پائے گا ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا۔
رشتے موتیوں جیسے ہوتے ہیں وہ اگر گر بھی جائیں تو انہیں جھک کر اٹھا لینا چاہیے۔ رشتوں کو جوڑے رکھنے کے لئے ہمیں کبھی گونگا، بہرہ اور اندھا بننا پڑتا ہے۔ رشتے میں احساس کی بہت زیادہ ضرورت پڑتی ہے کیونکہ احساس کے رشتے دستک کے محتاج نہیں ہوتے ہیں وہ تو خوشبو کی طرح ہوتے ہیں جو بند دروازے سے بھی گزر جاتے ہیں۔
لیکن حال پہ نظر دوڑائی جائے۔ تو اوپر بیان کردہ اپنی ہر بات ہی کھوکھلی محسوس ہو رہی ہے۔ شاید اب یہ ہی غیر ضروری بنا دیے گئے ہیں۔ نفسا نفسی کے اس درو رشتے بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ہم بہت آ گے نکل گئے ہیں۔ اور ایک طرح سے کہا جائے تو اس کو مجبوری کا نام دے دیا گیا ہے۔ پیٹ کی آگ بجھانے کی تگ و دو، یا نمایاں دیکھنے کی چاہ، یا بڑھتی مہنگائی، وقت کی قلت، سمجھ میں نہیں آتا کس پہ الزام دھرا جائے۔
موجود صورت حال کچھ یوں ہے۔ مہمان سے بڑی کوئی زحمت نہیں لگتی، بھلے وقتوں میں جیسے رحمت تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن اب مہمان نوازی یا دکھاوا کہہ سکتے ہیں اس میں میز بھر دیے جاتے ہیں۔ چار دن کا کھانا اک وقت میں بنا دیا جاتا ہے۔ تو اگلے دن خود ہی تاثرات بدلنے پہ مجبور ہو جاتے اس کی واپسی کب ہو گی جیسے خیالات کا آنا ہی بنتا ہے۔ اب اس رویہ پہ قصور وار کون اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ شادیاں، شادی حال میں کی جاتی ہیں میزبان خود کو بھی ہر طرح کے جھمیلے سے بالاتر ہو کر خود کو مہمان تصور کرتا ہے۔
ایک پرائیویسی جیسی بلا نے گھروں کو الگ تھلگ کر دیا ہے۔ اور اس ماحول میں پلنے والے بچے رشتوں کی اہمیت کو کبھی محسوس ہی نہیں کر سکتے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ بتانا پڑتا ہے بیٹا میں تمہارا چچا ہو، بیٹا یہ آپ کی دادو ہیں۔ یہ رشتے بھی اب سرسری تعارف کے محتاج ہو گئے ہیں۔ ڈر ہے کہ آنے والے وقت میں یہ سب کچھ زیادہ ہی غیر ضروری ہو جائے گا۔ یہ آخری نسل ہے جو چند رشتوں کا پاس رکھتی ہے۔
آج کل رشتوں میں دوری کی بڑی وجہ بڑے بزرگوں کا چلے جانا، بے جوڑ شادیاں کرنا اور ان کا ختم ہو جانا، ڈھیروں جہیز کا لالچ، اور فضول رسوم و رواج، اور بے شمار ایسے مسائل رشتوں کے خاتمے کا سبب بن گئے ہیں۔ رشتے بیوپار کی طرح ہو گئے ہیں پیار کم اور مطلب زیادہ نظر آتا ہے۔ جہاں لگا کل کو مجھے اس سے فائدہ مل سکتا ہے، تو وہاں ہاتھ بڑھانے میں پہل کر لی جاتی ہے۔ جہاں لگا ادھر کچھ نہیں ملنے والا ہاتھ کھینچ لیا جاتا ہے، یہ ہی نہیں ساتھ اس کو برا بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی ہے۔
رشتوں کی خوبصورتی تو تب ہوتی ہے جب ہم ایک دوسرے کو سمجھیں، ایک دوسرے کی قدر کریں، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہیں اور ایک دوسرے کو برداشت کریں۔ وہی رشتہ مضبوط اور پائیدار ہوتا ہے جہاں ناراضگی کے بعد بھی ہمارے الفاظ اور لہجوں میں خوشی کی جھلک اور ہمارے لبوں پر مسکراہٹ نظر آئے۔ جن رشتوں میں ایک دوسرے کو دل سے عزت دی جائے، رشتوں کا احترام کیا جائے تو وہ برے حالات میں یا مجبوری میں خاموش ہو جاتے ہیں مگر ٹوٹتے نہیں۔
کاش لوگ یہ سمجھ پائیں کہ رشتے ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے، اپنائیت سے اور ایک دوسرے کے ساتھ اپنا سکھ دکھ بانٹنے کے لئے ہوتے ہیں۔ ہمیں رشتے داروں سے ہمیشہ رابطہ قائم رکھنا چاہیے۔ ان کے بچوں کی خیر و عافیت معلوم کرتے رہنا چاہیے تاکہ انہیں محسوس ہو کہ ہم ہمیشہ ان کے اپنے ہیں اور ان کے دکھ، سکھ میں ساتھ ہیں۔
فاصلے انسان کو دور ضرور کرتے ہیں مگر اچھے لوگ ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ رشتے داری کے معاملے میں اپنے آپ کو اتنا مضبوط بنائیں کہ جہاں ہم جائیں وہاں لوگ ہمارے ساتھ اپنائیت اور پیار و خلوص سے پیش آئیں۔ اپنے بچوں کو بھی رشتے اور رشتے داری کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ ان کے سامنے اپنی مثال پیش کریں تاکہ بچے بھی آگے چل کر رشتے کی اہمیت سمجھ کر رشتے داروں سے خلوص و اپنائیت سے ملیں اور ان کا احترام کریں۔ انہیں یہ بھی سکھائیں کہ اگر کسی وجہ سے رشتوں میں تلخی آ گئی ہے تو اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔ بڑوں سے معافی مانگ لینے سے رشتے سنبھل جاتے ہیں۔
