انگریزوں کی آمد سے پہلے برصغیر کی مالی حالت
ہمارے فارن ”گولی“ فائیڈ سکالر حضرات اکثر شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر قوم کو یہ بھاشن دیتے ہیں کہ مغل شہنشاہوں نے برصغیر کو تباہ و برباد کر دیا تھا، اگر انگریز نہ آتا تو ہم آج بھی پتھر کے دور میں رہ رہے ہوتے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر اتنا امیر ملک تھا کہ بقول واکر سکندر تک کو اس کی مالی حالت نے للچایا اور وہ جب ایران سے ادھر روانہ ہونے لگا تو اس نے کہا: اب تم اس ہندوستان کی طرف جانے لگے ہو جہاں نہ ختم ہونے والے خزانے ہیں، اسی طرح ہیرین اپنی مشہور تصنیف ہسٹاریکل ریسرچ میں لکھتا ہے : ہندوستان پرانے زمانے میں اپنی دولت کے لیے بہت مشہور تھا۔
یہی بات چیمبرس انسائیکلومیڈیا نے بھی لکھی ہے۔ پروفیسر تھارن ٹن نے لکھتا ہے : یورپ کو تہذیب سکھانے والے یونان اور اٹلی جب بالکل جنگلیوں کی سی زندگی گزار رہے تھے تو اس وقت بھی ہندوستان درجہ کمال پر پہنچا ہوا تھا اور دولت کا مرکز تھا، یہاں چاروں طرف صنعت و حرفت کا بازار گرم تھا، کاروبار عروج پر تھا، زمین بہت زرخیز تھی، ہنرمند ایسے کہ خام مال سے ایسا مال تیار کرتے، پوری دنیا میں اس کی مانگ تھی۔
برصغیر ہر گز ایک پسماندہ خطہ نہیں تھا اگر ایسا ہوتا تو سوال یہی ہے کہ انگریز کیا یہاں غربت خریدنے آیا تھا؟ فرانس کا مشہور سیاح برنیر، مسٹر کالبرٹ کو اپنے ایک خط میں ہندوستان کی بابت بتاتے ہوئے لکھتا ہے : وہ (ہندوستان) ایک ایسی خلیج ہے جس میں دنیا بھر کے سونے اور چاندی کا بڑا حصہ ہر طرف سے آ کر جمع ہو جاتا ہے اور بڑی مشکل سے ایک طرف کو نکلتا ہے۔ برنیر کی ”بڑی مشکل سے باہر نکلتا ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ برصغیر کی کرنسی ہی اشرفی تھی جو سونے کی بنی ہوتی تھی، لہٰذا دنیا بھر کی اقوام یہاں تجارت کرنے آتیں تو انھیں اپنا سونا بھی یہاں دینا پڑتا لیکن یہاں کا سونا باہر نہیں جاتا تھا کیونکہ برصغیر ہر لحاظ سے خود انحصار تھا اور ضرورت کی ہر چیز خود پیدا کرتا تھا۔
جیسا کہ آج کل پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ دولت صرف بادشاہوں کے لیے مختص تھی، حالت اس کے بالکل برعکس تھی جیسا کہ میجر باسو نے لکھا ہے :رعایا کہ خوش حالی اور سرمایہ داری کے اعتبار سے بھی مسلمانوں کا دور حکومت سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ دولت مندی اور آرام و سکون کا جو نقشہ شاہ جہان کے وقت دیکھنے میں آتا ہے، بلاشبہ وہ ایک بے مثال اور بے نظیر دور ہے۔ میجر باسو کی معروضات اس ضمن میں پڑھنے کے لائق ہیں آج کل یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کی تقدیر بدلی حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے، ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہاں کی دولت لوٹ کر باہر منتقل کی اور اس خطے کی زبوں حالی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
میجر باسو لکھتا ہے : بنگال کے جگت سیٹھوں کا کاروبار بینک آف انگلینڈ تک پھیلا ہوا تھا جو انگلینڈ کا سب سے بڑا بینک تھا اور بقول کپتان الیگزینڈر ہملٹن صرف سورت کے عبد الغفور نامی ایک مسلمان تاجر کا سرمایہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کل سرمائے کے برابر تھا انہی وجوہات کی وجہ سے لارڈ کلائیو نے ہندوستان کی دولت کو لازوال کہا تھا۔ عوام اس قدر امیر تھے کہ بقول فاہیان چینی: یہاں کی رعایا نہایت خوش حال اور فارغ البال تھی اور انھیں کسی قسم کا محصول (ٹیکس) نہیں بھرنا پڑتا تھا، بعد میں جب انگریز آیا تو اس نے لگان وغیرہ لگانا شروع کر دیا۔ مشہور انگریز سیاح نکوموڈی کانتی لکھتا ہے : یہاں سونے کے دریا بہتے ہیں اور موتی جواہرات کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔
یہ برصغیر کی دولت مندی ہی تھی کہ یہاں کی کرنسی سونے کی تھی۔ 1773 میں تقریباً ملک بھر میں ایک ہزار قم کے مختلف سونے کے سکے رائج تھے جن میں 139 طلائی مہریں یا اشرفیاں، 61 قسم کے طلائی ہن یا پگوڈے، 556 قسم کے نقرئی روپے اور 214 قسم کے دوسرے ممالک کے سکے رائج تھے جو شاید کرنسی ایکسچینج کا کردار ادا کرتے تھے کرنسی کی مالیت کچھ اس قسم کی تھی؛سب سے بڑی اشرفی یا مہر شاہی 102 تولے سونا، دوسری اشرفی کی مالیت 90 تولہ سونا، تیسری اشرفی 50 تولے، چوتھی 25 تولے، پانچویں 20 تولے، چھٹی 3 تولے، ساتویں 2 تولے، آٹھویں ایک تولے جبکہ سب سے چھوٹا نوٹ 11 ماشے سونے کا ہوتا تھا۔
یہ بادشاہ اکبر کے دور کی بات ہے جبکہ جہانگیر کے دور میں سب سے بڑا نوٹ یا نورشاہی نامی اشرفی 100 تولے جبکہ سب سے چھوٹا نوٹ یا رواجی نامی اشرفی تین ماشہ سونے کی ہوتی تھی، دولت کی اتنی فراوانی تھی بادشاہ کو سال میں تین تین بار سونے میں تول کر وہ سونا بدیشی فقرا اور غربا میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ مشہور مؤرخ مقریزی لکھتا ہے کہ محمد تغلق ہر سال دو لاکھ جوڑے اور دس ہزار گھوڑے تقسیم کرتا تھا جبکہ لوگوں کے لیے شاہی باورچی خانے میں 2500 گائیں اور 2000 بکرے روزانہ ذبح کیے جاتے تھے، ایک ہزار مدارس (سکول) اور دو ہزار مسافر خانے اس کے علاوہ تھے۔
کالم کی تنگ دامنی آڑے ہے اس لیے مختصراً اتنا ہی، دیسی لبرلز جو بتاتے ہیں ایسا ہر گز نہیں تھا۔ اس خطے کی دولت مندی کے افسانے دنیا بھر میں مشہور تھے اور یونانی، عرب، تاتار، ترک، پرتگیز، ڈچ، فرنچ اور انگریز سمیت دنیا کی اقوام اسی وجہ سے یہاں کشاں کشاں کھینچی آئیں۔ اورنگزیب عالمگیر جب تخت نشین ہوا تو اس نے خزانے کی مقدار کرنے کا حکم دیا، چھ مہینے تک کئی ہزار افراد تولنے میں مصروف رہے لیکن بمشکل خزانے کا ایک حصہ تل پایا اس خطے اور لوگوں کی زبوں حالی کا سفر انگریز دور میں شروع ہوا جو آج بھی ان کے جان نشینوں اور ”پڑھاکوؤں“ کی وجہ سے جاری ہے۔


