پاکستان کے غریب مگر گناہگار عوام


جماعت چہارم میں کہانی پڑھائی جاتی تھی گوالے کی جو دودھ میں پانی ملاتا تھا پھر ایک دن سیلاب آیا اور اس کا سب کچھ بہہ گیا وہ رو رہا تھا کہ کسی دانا بزرگ نے کہا کہ یہ وہی پانی ہے جو تم دودھ میں ملاتے تھے۔

75 سالوں میں یہ ملاوٹ اور بھارت سیلاب کی بڑی وجہ رہے ہیں اس کے علاوہ عورت کا لباس، مرد کی شلوار اور لمبے بال، گناہ وغیرہ وغیرہ بھی ان وجوہات میں شامل ہو گئے۔

نہیں ہوا تو بس کوئی سائنسی وجہ، کیوں کہ ہمیں تو سائنس سے اینٹ کتے کا بیر ہے۔ دنیا بھر میں سیلاب، اور مختلف آفات یہاں تک کہ زمین کی پلیٹوں کے پیچھے کوئی سائنسی وجہ ہے اور اس کے لیے بروقت انتظامات کیے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں یہ قدرتی آفات صرف اور صرف گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں۔ ناسا اور مختلف ایجنسیاں چیختے رہے مسائل اور حل بتاتے رہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

ہمارے اندر صرف مذہب اور عقیدوں کا خوف ڈالا گیا کبھی ریشنل تھنکنگ تو ہم نے کی ہی نہیں۔

پانی اپنا رستہ نہیں بدلتا اور میں یہ پچھلے 25 سال سے خود دیکھ رہی ہوں میرے والد صاحب کی پوسٹنگ راجن پور میں تھی جب میں پیدا ہوئی تو اس سال سیلاب آیا ہوا تھا وہ سیلاب پہلی مرتبہ نہیں تھا بلکہ ہر سال آتا ہے، کوہ سلیمان سے صدیوں سے آنے والا ریلا کئی جانیں لے جاتا ہے، نہ پانی اپنا رستہ بدلتا ہے نہ ہم۔

یہ وہی گناہگار ہیں جو گنا اگاتا ہے، جو آم اگاتے ہیں جس کا ایک دانا بھی ان کو نصیب نہیں ہوتا کئی سو ڈالر میں بیرون ملک فروخت ہوتا ہے یہ وہی ہیں جنہیں آپ ریڑھ کی ہڈی کہتے ہیں اور ہر سال اس ریڑھ کی ہڈی پر وار ہوتا ہے کہ اب اس کی وجہ سے پورا جسم اپاہج ہو چکا ہے۔ سیلاب زدگان؛ تباہ حال میرے سندھی، پنجابی، سرائیکی، بلوچی وسیبی اور ان کی بے بسی ؛ آہیں ؛ سسکیاں ؛ چیخ و پکار؛ پانی میں تیرتی لاشیں ؛ معصوم بچوں کی بھوک، کوہستان میں ہیلی کاپٹر کا انتظار کرتے 5 بھائیوں کی امید۔

ہائے! یہ گناہگار غریب لوگ، ہر سال اتنے گناہ کرتے ہیں کہ کئی سو ایکڑ پانی آ جاتا ہے اور انہیں بہا لے جاتا ہے لیکن یہ گناہ سے باز ہی نہیں آتے۔ کئی بہہ گئے جو بچیں گے وہ ایک روٹی اور چند جھوٹے وعدوں پر پھر انہیں ہی اقتدار بخشیں گے جو اس وقت اپنی شاندار رہائش گاہوں میں بیٹھے اپنی بڑی سکرین اور مہنگے موبائل پر ان کا تماشا دیکھ رہے ہیں کیونکہ کیا فرق پڑتا ہے گندا ہے پر دھندا ہے کچھ مریں گے تو کئی سو ڈالر کی امداد آئے گی دھندا چلتا رہے گا شکلیں بدلتی رہیں گی۔

ان گناہگار غریبوں کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ پہلے ایک وقت کی سوکھی روٹی مل جاتی تھی اب وہ بھی نہیں ملے گی کہ اسی پانی میں ڈبو کر کھا لیں انہیں نہ شعور دیا گیا نہ تعلیم اور ان کے پیسوں پر ہارورڈ اور آکسفورڈ سے آنے والے شعور بھی رکھتے ہیں اور علم بھی لیکن ان کا علم صرف چاند کی تاریخوں تک محدود ہے انہیں آپ پارلیمنٹ میں کبھی اس مدعے پر بات کرتا نہیں پائیں گے کیونکہ یہ ان کا مسئلہ ہی نہیں ہے ان کا مسئلہ تو صرف اقتدار ہے۔

اور غریب جن کی جگہ نہ پارلیمنٹ میں ہے، نہ سرکاری سیٹوں پر وہ پیدا ہوئے ہیں بیٹ مین، چپڑاسی، سیکیورٹی افسر بنے کے لیے اور سیلاب میں بہہ جانے کے لئے۔

محسن غریب لوگ بھی تنکوں گا ڈھیر ہیں
ملبے میں دب گئے کبھی پانی میں بہہ گئے

Facebook Comments HS