محمد حسن عسکری کے خطوط بنام ڈاکٹر عبادت بریلوی

ڈاکٹر عبادت بریلوی کے مرتبہ خطوط بعنوان ’خطوط محمد حس عسکری‘ ادارہ ادب و تنقید لاہور 1993ء میں اشاعت پذیر ہو کر منظر عام پر آئے۔ اس مجموعے میں شامل سارے خط ( 85 خطوط ) اس مجموعے کے مرتب ڈاکٹر عبادت بریلوی کے نام لکھے گئے۔ مجموعے کو لکھنؤ یونیورسٹی کے نامور اردو ادب کے استاد پروفیسر مولانا محمد حسین سے معنون کیا گیا ہے۔
مشمولات :
1۔ پیش لفظ۔ عبادت بریلوی
2۔ مقدمہ۔ عبادت بریلوی
3۔ عسکری صاحب کے خطوط بنام ڈاکٹر عبادت بریلوی
4۔ زبان اور اللہ کا کلام۔ ڈاکٹر حمید اللہ (پیرس)
ڈاکٹر عبادت بریلوی نے مقدمہ میں اپنی یادوں کے در کھولتے ہوئے بتایا کہ کس طرح مکتوب نگار (حسن عسکری ) اور مکتوب الیہ (عبادت بریلوی ) کے مابین تعلق خاطر قائم ہوا۔ قیام پاکستان سے پہلے قائم ہونے والا یہ رشتہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد یعنی حسن عسکری کی وفات تک مضبوطی سے جاری رہا۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی نے عمدہ اسلوب میں حسن عسکری کی معصومیت، ادب سے لگاوٹ، مجرد زندگی، بہن بھائیوں اور والدہ سمیت کنبہ پروری، علمی و ادبی ارتقا، فوٹو گرافی کا مشغلہ، درس و تدریس، بلا کی برداشت اور خاموشی سمیت ان کی شخصیت کے کئی پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔
ڈاکٹر عبادت بریلوی کی حسن عسکری سے ملاقات کا سلسلہ 1944ء میں شروع ہوا۔ خط و کتابت کا سلسلہ بھی چل نکلا۔ زیر نظر مجموعے میں 1949۔ 50ء سے 1976ء تک کے عرصے میں لکھے گئے خطوط کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں علمی، ادبی مصروفیات، روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے حالات، ملازمت کے بکھیڑے، ادبی مطالعات، کتب، رسائل اور دیگر نجی امور کا ذکر ملتا ہے۔ عسکری صاحب کے یہ خط سادگی اور مدعا نگاری کے عکاس ہیں۔ کسی مقام پر تکلف سے کام نہیں لیا گیا۔ نمونے کے طور پر یہ اقتباسات پڑھیں :۔
” بھائی صاحب! معلوم ہوتا ہے کہ کہ آپ مجھے پٹوا دیں گے۔ میں نے تو لوگوں سے مضمون کے لیے کہہ دیا اور آپ نے انھیں خط نہیں لکھا۔ ثنا الحق صاحب مضمون لکھ کے لائے تھے، اس شکایت کے ساتھ کہ عبادت صاحب نے تو خط لکھا نہیں شاید مجھے اس قابل نہ سمجھتے ہوں لہٰذا میں نے مضمون بھی بے دلی سے لکھا ہے۔ خیر، میں نے انھیں سمجھا دیا ہے کہ عبادت صاحب کو فرصت نہیں ملی، علاوہ ازیں میرا اور عبادت صاحب کا واحد معاملہ ہے۔“ ( 12 مارچ 1967ء ص 59 )
******
” کل شام ہی آپ کو خط لکھا تھا۔ آج صبح پاکستان ٹائمز میں دیکھا کہ یونیورسٹی کی سنڈیکٹ نے آپ کے پرنسپل ہونے کی توثیق کر دی ہے، پڑھ کر مسرت ہوئی۔ خاص طور سے اس لیے کہ لاہور کے اخباروں سے اشارتاً معلوم ہوتا رہا کہ آپ کے خلاف کتنی سازشیں ہو رہی ہیں۔ ”
( 31 اگست 1970 ع، ص 83۔ 84 )
******
” آپ نے وعدہ کیا تھا کہ ایم اے (انگریزی ) کے سالانہ امتحان 1971ء کے پرچے بھجوا دیں گے۔ یاد دہانی کے لیے لکھ رہا ہوں۔ “
( 12 اکتوبر 1972 ع، ص 93 )
******
”۔ خسرو نمبر ضرور شائع کیجیے، چاہے چند مہینے لگ جائیں۔ سنا ہے ایک صاحب نے انگریزی میں ایک کتاب خسرو اور موسیقی پر لکھی ہے جس کا پہلا جملہ یہ ہے کہ He was a fraud اسی طرح سنتے ہیں کہ ممتاز حسین صاحب نے بھی بڑی تحقیق کے بعد ایک کتاب لکھی ہے جس میں ثابت کیا ہے کہ جتنے کارنامے امیر خسرو سے منسوب ہیں وہ سب معدوم ہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ ایک اچھا سا مجموعہ آپ بھی نکال دیں۔ “ ( 9 اکتوبر 1975 ع، ص 99 )
*******
” دوسرے خط میں آپ نے مجھے ’دینی ادب‘ پر مضمون لکھنے کا حکم دیا ہے لیکن میری نظر سے تو چند ہی کتابیں گزری ہیں۔ آپ کی تاریخ ادب کے لیے تو عربی، فارسی اور دوسری زبانوں کے دینی ادب کا بھی جائزہ ہونا چاہیے۔ اگر اردو ہی تک محدود رہیں تو بھی کئی پیچیدگیاں ہیں۔ ایک تو دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث سب کی کتابوں کا ذکر ہونا چاہیے ورنہ لوگ آپ کے پیچھے پڑ جائیں گے۔ “
( 27 اکتوبر 1976ء ص 102 )
********
حسن عسکری کی درویش صفتی کے حوالے سے ڈاکٹر عبادت بریلوی نے اپنے مقدمہ میں ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان دنوں عسکری صاحب کو روزگار کی شدید ضرورت تھی اور بریلوی صاحب نے کچھ کہہ کہا کر انھیں شبلی کالج اعظم گڑھ میں لیکچرر انگریزی کی اسامی پر کام کرنے کے لیے بھیجا لیکن انھیں حیرت اس وقت ہوئی جب وہ تیسرے روز ہی ان سے عربک کالج دہلی میں آ ملے۔ یہ کہانی ڈاکٹر عبادت بریلوی کی زبانی :
” عسکری صاحب کہنے لگے : صاحب! آپ نے مجھے کہاں بھیج دیا تھا۔ میں اعظم گڑھ تک نہ پہنچ سکا۔ درمیان سے واپس آ گیا۔“ میں نے کہا وہ کیسے؟
کہنے لگے : میں اعظم گڑھ کے اسٹیشن پر اترا۔ ویران سا اسٹیشن تھا۔ باہر نکل کر میں نے ایک تانگے والے سے کہا کہ میاں! شبلی کالج پہنچا دو۔ وہ تیار ہو گیا۔ میں اس کے تانگے میں سامان رکھ کر بیٹھ گیا۔ اجاڑ سی سڑک پر تانگہ چلنے لگا۔ کچھ دور اور آگے گیا تو سڑک کچھ اور بھی ویران نظر آنے لگی۔ اس سڑک پر تو بجلی کے کھمبے تک نہیں تھے۔ میونسپلٹی لالٹین لگی تھیں، گاؤں کا سا ماحول معلوم ہوتا تھا۔ لوگ عجیب سے پوربی لہجے میں اردو بول رہے تھے۔ اس ماحول کو دیکھ کر میری طبیعت گھبرا گئی اور اختلاج سا ہونے لگا۔ چناں چہ میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں اس ویران جگہ میں نہیں رہ سکوں گا۔ اس لیے میں نے تانگے والے سے کہا میاں! اسٹیشن واپس چلو، میں شبلی کالج نہیں جاؤں گا۔ میں اس شہر میں رہنے کے لیے تیار نہیں۔
تانگے والا میری باتیں سن کر حیران اور پریشان ہوا لیکن اس نے میری ہدایت کے مطابق مجھے اسٹیشن پہنچا دیا اور میں گاڑی میں بیٹھ کر دوسرے ہی دن دلی واپس پہنچ گیا، شکر ہے کہ اعظم گڑھ اور شبلی کالج سے مجھے نجات ملی۔ دلی پہنچا تو جان میں جان آئی۔ عبادت صاحب! میں دلی چھوڑ کر اور نہیں جا سکتا۔ ”
حسن عسکری کے اس مجموعے میں شامل خطوط رسالہ ’روایت‘ میں چھپنے والے خطوط سے مختلف ہیں جن میں علمی، ادبی اور تنقیدی موضوعات بکھرے پڑے ہیں۔ ادبی شخصیات کے خطوط اور دوسری تحریریں خواہ کتنی ہی معمولی نوعیت کی ہوں، ان کو محفوظ کرنا لازم ہے کیونکہ یہی چیزیں کل کی تحقیق کے لیے بڑا حوالہ بن سکتی ہیں۔

