جوامع الحکایات اور اختر شیرانی

جوامع الحکایات دراصل محمد عوفی کی فارسی تالیف ہے اس کا دل چسپ اردو ترجمہ اختر شیرانی نے کیا۔ اختر کی شاعری کا ایک زمانے میں شہرہ تھا۔ بدقسمتی سے آج اس کا کلام طاق نسیاں کی نذر ہے۔ مترنم اور غنائی شاعری کا مزا لینے والے اب خال خال نظر آتے ہیں۔ پردہ نشیں اور برقع پوش سلمیٰ اور ریحانہ کی محبت میں رومان کی سنسنی خیزی نہیں رہی۔ غزل میں محبوبہ تو کجا محبوب کا نام بھی نہیں

Read more

شہزاد احمد کی فکری اور تخلیقی جہات

اردو ادب کے معروف شاعر، ادیب، نقاد، مترجم اور مجلس ترقی ادب کے ڈائریکٹر شہزاد احمد 16 اپریل 1932 ع کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے نفسیات اور فلسفہ میں ماسٹر کیا۔ ان کے شعری اور نثری کام پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے ہمہ گیر پہلووٴں میں دلچسپی لینے والے ادیب تھے۔ شاعری میں صدف، جلتی بجھتی آنکھیں، ادھ کھلا دریچہ، خالی آسمان، بکھر جانے کی رت، رنگ غزل، ٹوٹا ہوا پل، زینہ بہ زینہ سمیت دس شعری مجموعے شائع ہوئے۔

Read more

مکاتیب اقبال بنام خان نیاز الدین خاں

علامہ صاحب کے خطوط کا یہ مجموعہ ڈاکٹر عبداللہ شاہ ہاشمی کا مرتب کردہ ہے اور اسے اقبال اکادمی پاکستان نے تیسری بار 2019 ع میں شایع کیا ہے۔ قبل ازیں یہ مجموعہ بالترتیب 1986 ع اور 2006 ع میں چھپ چکا ہے۔ کتاب کا انتساب ملک حق نواز (حضرو ضلع اٹک ) اور ممتاز اقبال شناس پروفیسر ڈاکٹر صابر کلوری (مرحوم ) کے نام کیا گیا۔ ناظم اقبال اکادمی پاکستان جناب محمد سہیل عمر نے خان نیاز الدین خاں

Read more

محمد حسن عسکری کے خطوط بنام ڈاکٹر عبادت بریلوی

ڈاکٹر عبادت بریلوی کے مرتبہ خطوط بعنوان ’خطوط محمد حس عسکری‘ ادارہ ادب و تنقید لاہور 1993ء میں اشاعت پذیر ہو کر منظر عام پر آئے۔ اس مجموعے میں شامل سارے خط ( 85 خطوط ) اس مجموعے کے مرتب ڈاکٹر عبادت بریلوی کے نام لکھے گئے۔ مجموعے کو لکھنؤ یونیورسٹی کے نامور اردو ادب کے استاد پروفیسر مولانا محمد حسین سے معنون کیا گیا ہے۔ مشمولات : 1۔ پیش لفظ۔ عبادت بریلوی 2۔ مقدمہ۔ عبادت بریلوی 3۔ عسکری صاحب

Read more

غلام عباس کی زندگی اور فن پر ایک نظر

غلام عباس اردو ادب کے نامور ادیب ہیں جو 17 نومبر 1909 کو امرتسر کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ساتویں جماعت میں انھوں نے پہلی کہانی لکھی جس کا عنوان تھا ”بکری“۔ اپنے سکول کے استاد مولوی لطیف علی پابند سے حوصلہ افزائی پا کر انہوں نے انگریزی نظموں اور کہانیوں کا اردو میں ترجمہ کرنا شروع کر دیا۔ والد کا انتقال ہوا اور ذمے داریاں بڑھیں تو نویں جماعت میں تعلیم کو ترک کر دیا۔ انھیں تین

Read more

نعتیہ ادب کے فروغ میں علمی جریدہ ”نعت رنگ“ کا کردار

ڈاکٹر ابرار عبدالسلام کی مرتبہ کتاب کا موضوع ”نعتیہ ادب : مسائل و مباحث (مدیر“ نعت رنگ ”صبیح رحمانی کے نام موصولہ مکاتیب کا موضوعاتی و تجزیاتی مطالعہ )“ ہے جسے نعت ریسرچ سینٹر نے کراچی سے 2019 میں پورے اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔ یہ ایک ضخیم کتاب ہے جو 488 صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ کتاب کا انتساب نعت رنگ کے روح رواں سید صبیح الدین رحمانی کے نام ہے۔ کتاب کو بنیادی طور پر درج ذیل چار

Read more

فروغ تصوف میں داستانوی ادب کا کردار

غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی کا شمار پنجاب کی سر برآوردہ یونیورسٹیوں کے درمیان ایک نخل نوخاستہ کی مانند ہے لیکن اس نخل تازہ کی شمشاد قامتی کے آثار ابھی سے اہل بصیرت کی نگاہوں پر ہویدا ہیں۔ یوں توں جامعہ غازی کے تمام شعبے بساط بھر اڑان بھر رہے ہیں لیکن شعبہ اردو کے صدر پروفیسر ڈاکٹر سہیل عباس اپنی باصلاحیت ٹیم کے ہمراہ نت نئی علمی، ادبی مہمات سر کرنے میں منہمک نظر آتے ہیں۔ قبل ازیں شعبہ اردو

Read more

غازی یونیورسٹی میں ”ڈاکٹر وزیر آغا صدی ( 1922۔ 2022 )“ کا انعقاد

شعبہ اردو غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان جیسی نوزائیدہ یونیورسٹی کا ابھرتا ہوا ستارہ ہے جو طلبہ کی تعلیمی، تدریسی، تحقیقی، تنقیدی، نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں سے ان کی حقیقی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ہر دم کوشاں اور سرگرم عمل ہے۔ محترم ڈاکٹر سہیل عباس بلوچ صاحب کی کرشماتی شخصیت اور علم دوست پالیسیوں کی وجہ سے شعبہ بلاشبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ گزشتہ روز یعنی 22 جولائی 2022 ع کو دنیائے ادب کے نامور

Read more

نواب واجد علی شاہ اختر کے خطوط

خط کہنے کو تو ایک نجی تحریر ہے جس کا مقصد اپنا مدعا بیان کرنا ہے۔ یہ ادب کی ایسی صنف نہیں کہ جس کا فارمیٹ طے شدہ ہو اور خط نگار کو ہر صورت اس فارمیٹ کے حضور سر تسلیم خم کرنا پڑے تاہم مکتوباتی ادب دیگر اصناف ادب سے جدا، منفرد اور الگ تھلگ ضرور ہے، خط کبھی مختصر ترین شکل میں تار بنتے ہیں تو کبھی ان کی طوالت کے سامنے دفتر کے دفتر بھی کم پڑ

Read more

سجاد ظہیر ”نقوش زنداں“ کی روشنی میں

سجاد ظہیر  نے اپنی شخصیت، تخلیقی فن پاروں اور ترقی پسند تحریک کے بانی کی حیثیت سے اردو ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ انہوں نے نہ صرف خود بلکہ اپنے ہم خیال ادیب دوستوں سے مل کر انگریزی استعمار اور سرمایہ دار طبقے کے خلاف لکھا۔ شعور و آگہی سے مملو انقلاب کے راستے میں کئی دشواریاں اور رکاوٹیں آتی ہیں سو ان کی راہ میں بھی آئیں۔ سجاد ظہیر کو اس وقت پابند سلاسل کر دیا گیا جب

Read more

حبیب جالب کے فلمی گیتوں کا سفر

شاعر عوام حبیب جالب ( 24 مارچ 1928۔ 13 مارچ 1993) نے نہ صرف ہر ظالم، جابر اور آمر کی چیرہ دستیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ عوام کے جذبات و احساسات کی بھی ترجمانی کی۔ حبیب جالب کی زندگی سیاست کے فرعونوں اور زرداریوں کو للکارتے گزری اور نتیجتاً انھیں اپنی اس مزاحمتی سوچ کا خمیازہ قید و بند کی صورت بھگتنا پڑا۔ جالب سر سے پاؤں تک مزاحمت اور بغاوت کا نام تھا۔ ان کی زندگی ان

Read more

لفظوں کے روپ بہروپ

لفظ اور خیال کی بحث اہل علم کے ہاں بہت پرانی ہے میرے جیسے کم علم آدمی کو بھی لفظوں کی بنت کاری اور معنویت کی لپک رہی ہے۔ کوئی لفظ کس زبان کا ہے، یہ لفظ کس طرح بنا اور اہل زیاں کے ہاں کیسے رواج پذیر ہوا اور کسی لفظ کے لفظی اور مرادی پہلو کتنے اور کون کون سے ہیں؟ یہ اور ان سے جڑے سوالوں کو ماہرین لسانیات بہت اہمیت دیتے ہیں، مجھے بھی ذاتی طور

Read more

تلمیحات راشد : ایک تعارفی جائزہ۔ ڈاکٹر جمیل الرحمان ملک

یہ تحریر ڈاکٹر عابد خورشید کی تصنیف کردہ کتاب تلیحات راشد کے تعارف پر مبنی ہے جس سے ن م راشد کے فکر و فن کو سمجھنے میں معاونت فراہم ہوتی ہے۔ تلمیحات راشد کے خالق ڈاکٹر عابد خورشید صاحب اس وقت غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے شعبہ اردو سے وابستہ ہیں۔ ذاتی طور پر میں جہاں ان کی محبت کا اسیر ہوں وہاں ان کی علمی، ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں سے متاثر بھی ہوں۔ شاید یہ ان کی

Read more

مجید امجد کی نظم :جیون دیس کا تنقیدی مطالعہ

پیلے چہرے، ڈوبتے سورج، روحیں، گہری شامیں! زندگیوں کے صحن میں کھلتے، قبروں کے دروازے! سانس کی آخری سلوٹ کو پہچاننے والے گیانی، ڈولتی محرابوں کے نیچے آس بھرے اندیشے! بوڑھی، کبڑی دیواروں کے پاؤں چاٹتی گلیاں، ٹوٹتے فرش، اکھڑتی اینٹیں، گزرے دنوں کے ملبے! دکھے دلوں کے سجدے چنتی پلکیں، بچھڑے پریمی! بجھے جھروکوں سے ٹکراتی یادیں، ڈھلتے سائے! بجتی ڈھولک، گاتی سکھیاں، نیر بہاتی خوشیاں، جاگتے ماتھے، سوچتے نیناً، آنے والے زمانے! خونی بازاروں میں بکتی اک اک

Read more

چھوٹے قد کے لوگوں کی آواز

بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ قدیم مصری تہذیب میں پست قامت یعنی بونوں کا احترام کیا جاتا تھا۔ ان بونوں کو احساس کمتری کے زندان میں دھکیلنے اور انھیں معذوری کا طعنہ دینے کی بجائے ان کا احترام کیا جاتا تھا۔ تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اہل مصر بونے خداؤں کی پوجا بھی کرتے تھے، اس بات کا اثبات مزاروں کی دیواروں پر بنی بونوں کی تصاویر سے ہوتا ہے، مزید

Read more

سیاسی سختیاں اور ادبی نرمیاں

ذہنی اور عملی طور پر ہم کوچۂ سیاست کی غلام گردشوں سے نابلد ہیں مگر اسے حالات کا جبر کہیے یا سوشل میڈیا کی یلغار کہ ہر طرف سے سیاسی بھونپو سے مختلف آوازیں آ رہی ہیں موبائل کی سکرین پر سیاسی کردار پتلی تماشے کی مانند ہمارا تمسخر اڑاتے نظر آتے ہیں۔ گلی کوچے، محلے، دکانیں، دفتر، مسجدیں جہاں تہاں اگر کسی بات کا چرچا ہے تو عصری سیاست کی ہنگامہ آرائیوں کا۔ عید کی چھٹیوں میں ذرا فراغت

Read more