اپنے نیرو کی بانسریاں توڑ دو


بابا جی حل بتاؤ ہم سدھریں گے کب؟ بیٹے جی سدھر جائیں گے اتنی جلدی کیا ہے۔ عجیب بات ہے آپ کے منہ سے جو بات نکلتی ہے پوری ہو جاتی ہے پھر آپ ہمارے سدھرنے کی دعا کیوں نہیں کرتے؟ کیا آپ کو ہم سے محبت نہیں؟ کیا آپ نہیں چاہتے کہ کہ ہم خوش رہیں، دعا کریں دعا،

بیٹے جی،
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے؟

میرے لال، کوتاہیوں، غلطیوں کی کوئی حد ہوتی ہے۔ غلطی کے بعد واپسی کی گنجائش ہوتی ہے جب ایک بار سے زیادہ ایک ہی غلطی کو دہرایا جائے تو وہ غلطی نہیں عادت کہلاتی ہے۔ اور عادت بد کا کوئی علاج نہیں۔ تم باتیں بناتے ہو عمل نہیں کرتے عمل میں تکلیف ہوتی ہے پر ایک بار تکلیف اٹھالی جائے تو باقی کی زندگی سکون سے گزرتی ہے۔ مشقت کی عادت نہیں ہے، کسی چیز کی جستجو ہے نہیں، پھر دعا کیا اثر کرے گی۔ اپنی کوتاہیوں کو اپنے نسب سے، لسان سے، عقیدے سے، علاقے سے چھپاتے ہو، ان کے پیچھے پناہ لیتے ہو جب مصیبت آتی ہے تو چلے آتے ہو دعا کے لئے۔ تب نہیں آتے جب تم ان چیزوں کے پیچھے چھپ کر مال کماتے ہو، عہدے حاصل کرتے یو، بڑے بڑے منصب پر براجمان ہو جاتے ہو، اور وہ جو ان کے حقدار ہوتے ہیں وہ گلی کوچوں میں پھرتے ہیں۔ بیٹے جی میری دعاؤں سے زیادہ ان کی بد دعاؤں میں اثر ہے۔

بابا جی بابا جی کچھ تو کیجئے، مایوس نہ لٹائیے دست دعا بلند کیجئے ورنہ کچھ نہیں بچے گا۔

بیٹے جی یہ تمھاری بھول ہے کہ باقی کچھ بچا ہے۔ جو تم سے کہتے ہیں کہ ہمیں آگے بڑھنا ہے انہیں پتہ ہے کہ ہم کتنے پیچھے ہیں، جو کہتے ہیں کہ آج ہمیں ایک ہو جانا چاہیے متحد ہو جانا چاہیے انہیں پتہ ہے کہ ہم میں کتنی تفریق ہے کتنے فاصلے پیدا کر چکے ہیں ہمارے درمیان۔ ایسا نقصان کیا ہے جس کا مداوا صدیوں

میں نہیں ہوتا، اعتماد کا نقصان، اعتبار کا نقصان،

اور اب یہ حال ہے تمھارا کہ قحط ہے چار سو محبت کا قحط، ایثار کا قحط، قحط الرجال بھلے انسانوں اور لائق لوگوں کی کمی، تمھارے پاس وباؤں کی فراوانی، خود نمائی کی فراوانی، خود ستائش کی فراوانی، حرص و ہوس کی فراوانی، خوشی کیسے ملے؟ سکوں کیسے ملے؟ جفا کے چراغ کی لو میں وفا ملے گی بیٹے جی بھول ہے تمھاری۔

یوں مکافات عمل سب کچھ اٹھا کر لے گیا
سر پھرا سیلاب بستی کو بہا کر لے گیا

تمھیں تو بتایا گیا تھا کالے کو گورے پر کوئی برتری نہیں، مگر تم نے طبقاتی نظام بنالیا، کہتے کچھ ہو کرتے کچھ ہو، لکھتے کچھ یو عمل کسی اور چیز پر کرتے ہو۔ بیٹے جی دعا کا بہت گہرا تعلق عمل سے ہے۔

بابا جی کوئی تو حل ہو گا کوئی تو راستہ ہو گا، بتائے خدارا بتائے۔

بیٹے جی حل ہے۔ سنو روم میں ایک نیرو تھا تمھارے یہاں ہر گلی، محلے، دفتر، میں ایک نیرو بیٹھا ہے۔ تم اپنے نیروں کو قابو کر لو اور ان کی بانسریوں کو توڑ دو تمھارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS