مخمصہ

تو کبھی اس شہر سے ہو کر گزر
راستوں کے جال میں الجھا ہوں میں
( آشفتہ چنگیزی)
شنید ہے کہ تاریخ مختلف اوقات کا مجموعہ ہوتی، سو جیسے نہ کبھی وقت رکا ویسے ہی تاریخ بھی جاری ہے اور جاری رہے گی۔ ہمارا حال کل کا ماضی ہو گا اور ہمارا مستقبل کل کا حال۔ چونکہ تاریخ کے ساتھ ارتقاء برابر جاری ہے سو انسانی عقل ہمیشہ اس ارتقاء کو تلاش کر اپنے مستقبل کی خوشحالی یا بدحالی کا تیقن کرتی ہے۔ مگر نوائے حیف! کہ عین اس وقت ہم تاریخ کے اس کمزور لمحے میں موجود ہیں جہاں ارتقاء کا پرانا باب ختم ہو رہا اور مستقبل ایک بار پھر اندیشوں سے معمور ہے۔
غاروں اور جنگلوں کے انسان نے ارتقاء دیکھا اور زرعی انقلاب (neolithic revolution) کی کدال سے فصلیں کاشت کرنے لگا۔ پیٹ بھر گیا تو چند شاطر العقل انسانوں نے اناج کا ذخیرہ کیا اور لوگ مزارعے بنا لیے، وقت گزرا، پہیہ بنا اور صنعت وجود پانے لگی۔ تبھی یورپ میں ریفارمیشن کے تین زوردار دھماکے سنے گئے اور ہم نئی دنیا میں داخل ہو گئے! اس نئی دنیا میں ہٹلر کے فاشزم نے اپنی عمر پوری کی اور چلتا بنا، لینن نے دنیا کو اشتراکی جنت (communism) کے خواب دکھائے، تجربات کیے اور اسی کی دہائی میں آخری سانسیں لیتا مر گیا۔
ریفارمیشن کے دھماکوں کی آخری پیداوار سرمایہ داریت (capitalism) نے دنیا کی ترقی کا بیڑا اٹھایا اور انسانی آزادی کا منشور بیچا۔ منشور بکا بھی، ریاستوں نے ترقی بھی کی اور صنعتی انقلاب اپنے عروج پر پہنچ گیا مگر۔ ”ہر عروج کو زوال ہے“ ۔ اکیسویں صدی کا سورج نکلا تو صنعتوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اوور ٹیک کرنا شروع کیا۔ آج دو ہزار بائیس کے عین اس لمحے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی مریخ پر سانسیں کاشت کرنے کو ہے، انسانی دماغوں کو ہائی جیک کرنے کو ہے، روبوٹس دنیا کا نظام سنبھالنے کو ہیں!
سرمایہ داریت بستر مرگ پر اپنی سانسیں پوری ہونے کا منتظر ہے اور مزید برآں یہ کہ شاید اسے کچھ مزید دہائیوں کی عمر نصیب ہوجاتی اگر ”وار اینڈ ٹیرر“ ، ”اسرائیل سپریمیسی“ اور ”ڈانلڈ ٹرمپ“ جیسے مضر صحت کھانوں سے گریز کیا جاتا۔ بہرحال صنعتی انقلاب نے تو ریفارمیشن کے دھماکوں سے اگلے سو سال کے مستقبل کا نقشہ ہمارے ہاتھ میں دے دیا تھا پر اب وہ نقشہ بھی ایکسپائر ہو چکا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہم انسانوں اور ہماری اس چھوٹی سی دنیا کو کس جانب دھکیل دے گی ہیومن تھنک تھینک اب تک اس کا کوئی اندازہ یا تخمینہ نہیں لگا پائے، ہم تاریخ کے عین اس لمحے میں موجود ہیں جہاں ہمارے حال اور مستقبل کے درمیان کچھ دھماکے ہونے ہیں مگر یہ کب کیسے اور کیا ہوں گے ، کوئی سراغ نہیں!

