قاتل حکومت، مجرم ریاست


سچ ہی کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، اگر دل ہوتا تو اتنا پتھر دل نہ ہوتا۔ پاکستانی سیاست اور ریاست اندھی، بہری، لولی لنگڑی بھی ہے، تبھی تو انہیں سیلاب سے لٹے پٹے متاثرین کی تباہی نظر آتی ہے نہ ہی ان کی آہ و زاریاں سنائی دیتی ہیں۔ ہمارے سیاستدان، حکمران اور ”اصل حکمران“ سب اتنے ظالم، بے حس اور مطلب پرست ہیں کہ انہیں اپنے پیٹ سے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ سیلاب نے تین حصے ملک تباہ کر دیا مگر اب بھی ہو رہی ہے تو وہی گندی، الزامات میں لتھڑی سیاہ ست اور صرف سیاست۔

عمران خان نے ہیلی کاپٹر پر خیبرپختونخوا کا دورہ کیا عین اس وقت جب کوہستان کے سیلابی ریلے میں 5 افراد زندگی و موت کی کشمکش میں بچاؤ بچاؤ کی آوازیں لگاتے رہے مگر خان صاحب کا ہیلی کاپٹر انہیں بچانے نہ پہنچا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق صوبائی حکومت سے ہیلی کاپٹر مدد کے لئے مانگا گیا مگر وہ ہیلی کاپٹر خان صاحب کی شاہی سواری بنا ہوا تھا اور یوں وہ پانچوں افراد سیلاب میں بہہ گئے۔ وفاقی حکومت کو شرم آئی نہ ہی 23 مارچ کو درجنوں ہیلی کاپٹرز کی نمائش کرنے والوں کو۔

یہ پانچ افراد قدرتی آفت کی نذر نہیں ہوئے بلکہ انہیں حکومتی بے حسی نے قتل کیا۔ ان کے قتل کی ذمہ دار صوبائی حکومت اور اس جرم میں ریاست بھی شامل ہے جنہوں نے تمام تر وسائل ہونے کے باوجود ان کو بچانے کی کوئی کوشش تک نہ کی۔ ان پانچوں کے قتل کا مقدمہ وزیراعلی خیبرپختونخوا اور عمران خان کے خلاف درج ہونا چاہیے۔ بات بات پر ریاست مدینہ اور حضرت عمر کی مثالیں دینے والے کی ناک کے نیچے پانچ افراد پانچ گھنٹے تک امداد کو پکارتے رہے مگر اسے خبر ہوئی نہ ہی اس کے کسی وزیر، مشیر کا سویا ضمیر جاگا۔ غفلت اور بے حسی میں اس قدر ڈوبا ریاست مدینہ کا پیروکار کیسے ہو سکتا ہے؟

ایک لمحے کے لئے سوچیے ایسا کسی بھی مہذب معاشرے میں ہوتا تو کیا حکومت وقت اور ریاست یونہی بے حسی کا مظاہرہ کرنے کا سوچ بھی سکتی تھی؟ یورپ اور دیگر غیر مسلم ملکوں میں کوئی بھی آفت آ جائے تو، کتے، بلی جیسے پالتو جانور کو بھی لاوارث نہیں چھوڑا جاتا مگر افسوس کہ ہمارے ملک میں پانچ افراد کو حکومت اور ریاست پاکستان نے خود موت کے حوالے کر دیا۔ ہم بھی بحیثیت قوم اس قدر بے حس اور سنگدل ہو چکے ہیں کہ کوئی احتجاج کرنے باہر نہیں نکلا۔ ایک آدھ دن شور ہو گا پھر ہم بھی ان کو بھول جائیں گے اور تب تک بھولے رہیں گے جب تک کوئی نیا سانحہ برپا نہیں ہو جاتا

سادگی کے پیکر اور ریاست مدینہ کے دعویدار نے شاہانہ انداز میں ایک آدھ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا، تین انچ پانی سے گزر کر پائنچے گیلے کیے، فوٹو سیشن کرایا اور یوں متاثرین سے ملے بغیر واپس چل دیے۔ یہ وقت سیاست کا نہیں، خدمت کا ہے ان لوگوں کی خدمت کا جنہوں نے آپ کو ووٹ دے کر اس ہیلی کاپٹر پر بٹھایا، حکمران بنایا۔

جنوبی پنجاب میں ایسی تباہی ہے کہ خدا کی پناہ۔ کئی بستیاں صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئیں۔ وزیراعلی پنجاب نے ایک روز کے لئے وہاں کا دورہ کیا پھر پلٹ کر نہیں گئے۔ مصیبت اور آزمائش کی اس گھڑی میں چاہیے کہ وزیراعلی پنجاب اپنی تمام مصروفیات ترک کر کے جنوبی پنجاب جا کر بیٹھ جائیں اور ہر گھنٹہ ضلعی انتظامیہ سے رپورٹ لیں،

اس سے انتظامیہ یقیناً متحرک ہو گی، ریلیف آپریشن تیز ہو گا۔ مگر پرویز الٰہی صاحب کو ایک ہی فکر ہے کہ مخالفین کے خلاف پرچے کیسے کاٹنے ہیں، سیاسی انتقام کیسے لینا ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت بھی پرچے بازی میں لگی ہے۔ 60 کے قریب وزراء ہیں مگر سیلابی علاقوں میں سوائے وزیراعظم یا بلاول بھٹو کے کوئی نظر نہیں آ رہا۔

جنوبی پنجاب سارا ڈوب گیا مگر سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کہیں نظر نہیں آئے، کیا ان کا کام حکمرانی کرنا تھا بس۔ کہاں گئے کھوسہ، لغاری برادران اور دوسرے بڑے بڑے مقامی سیاستدان۔ سب اپنے اپنے علاقے بچا کر غریبوں کی تباہی پر خاموش بیٹھے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں سیلاب تباہی مچا رہا ہے مگر پرویز خٹک صاحب کو اب ابھی اپنی سیاست کی فکر ہے۔ جب سوات اور کالام میں سیلابی ریلے سب کچھ بہا کر لے گئے عین اسی وقت پرویز خٹک مردان میں جلسہ کر رہے تھے۔ بلوچستان تو پورا ہی تباہ ہو گیا مگر وہاں کا وزیراعلی کہیں سیلاب متاثرین کی داد رسی کرتا نظر نہیں آ رہا۔

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیلاب کا پہلا ریلا ایک ماہ پہلے آیا تھا مگر ہمارے حکمران، سیاسی جماعتیں جلسے جلوسوں، ریلیوں اور ایک دوسرے کے خلاف مقدمے بنانے میں لگے رہے۔ تب کسی نے پیشگی اور بر وقت انتظامات نہیں کیے۔ اب پانی سر سے گزر چکا ہے، ہزاروں گوٹھ ڈوب چکے، لاکھوں گھر مکمل تباہ ہو گئے۔ اب بھی سب نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو تباہی اس قدر بڑھ جائے گی کہ اسے بحال کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے اس وقت تمام تر سیاسی سرگرمیاں ترک کر دیں صرف سیلاب متاثرین کی جانیں بچانے پر توجہ دیں سیاست تو چلتی رہے گی۔ اگر غریب عوام مر گئے تو سیاستدان آپس میں لڑ لڑ کر خود مر جائیں گے!

Facebook Comments HS