کہیں آپ مغرور تو نہیں ؟


میرا مشورہ یاد رکھیں، اگر گھر کا نوکر یا مالی آپ کو سلام کرے تو جواب نہیں دینا کیونکہ ان کے سلام کا جواب دینے کا مطلب ہے کہ آپ یا تو مالی بن گئے ہیں یا نوکر، اگر نہیں بنے تو بس بننے والے ہیں، یا پھر آپ کے عزت دار خاندان کے ماضی پر غربت کی مہر ثبت ہو نے والی ہے۔

گھر کے مرد یا خاتون باورچی کو اگر سلام کا جواب دینا بھی ہو تو صرف وعلیکم کہنے کی عادت بنا لیں تاکہ آپ کی عزت کم نہ ہو جائے۔ کسی کمتر سے مجبوراً عید ملنا پڑ جائے تو سینوں کے درمیان ایک ہاتھ کھڑا کر لیں تاکہ آپ کے عظیم مرتبے پر کسی کو شک نہ ہو۔

میرے ایک استاد ہوا کرتے تھے جن کی گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے ذہنی حالت زیادہ اچھی نہیں رہی تھی، ایک وقت آیا جب کوئی سلام کرے تو گالیوں کے تمغوں سے نوازا کرتے تھے، باقی کاموں میں بالکل ٹھیک تھے، ہمیں ان سے ہمدردی تھی۔ حقیقت میں کچھ اساتذہ بھی ایسے ہوتے ہیں جو روحانی والد کے مرتبے کو پانے کے بعد سلام کا جواب دینے سے ہچکچاتے ہیں، لیکن سب ایسے نہیں ہوتے اور استاد کا احترام کرنا ہم سب کے لئے ضروری ہے۔

ایک اچھے ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز ایک افسر ہیں جو ماتحتوں کے سلام کا جواب دینے کے لئے اپنے الفاظ ضائع نہیں کرتے بلکہ صرف گردن کی ورزش کرتے ہیں، بعض دفعہ تو وہ سلام یا حال چال پوچھنے پر نظریں بھی نہیں ملاتے کیونکہ کبھی کبھی آنکھ سے آنکھ میں عہدہ منتقل ہو جاتا ہے۔

بعض گھمنڈی لوگ سلام میں پہل کرنے سے بچتے ہیں کہ اپنے سے کمتر یا چھوٹے کو سلام کر لیا تو عزت گئی۔ دفتروں میں کچھ ایسے مغرور افسران بھی ہوتے ہیں جو جونئیرز کے سلام کا جواب کرخت آواز میں ’وسام‘ کہہ کر دیتے ہیں اور اپنے مرتبے کی لاج رکھ لیتے ہیں۔ یقین جانیں، میں ایسا نہیں ہوں اور آپ یہ بھی نہ سمجھیں کہ میں طنز کر رہا ہوں، یہ تو دنیا کی حقیقت ہے اور میں صرف آئینہ دکھا رہا ہوں۔

آپ سب ایمان داری سے خود سے سوال کریں، کتنے لوگ ہیں جو اپنے آفس بوائے یا ٹی بوائے کا استقبال اسی انداز اور انہی الفاظ میں کرتے ہیں جیسا اپنے افسر کے ساتھ کرتے ہیں؟

اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جب کوئی جونیئر سٹاف ملنے آئے تو ہم کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہاتھ ملا لیتے ہیں اور کوئی سینئر آ جائے تو نا صرف کھڑے ہو کر ملتے ہیں بلکہ خواہش ہوتی ہے کہ گلے بھی ملا جائے۔ ابھی بھی شرم نہیں آئی تو گفتگو کو جاری رکھ لیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے مجھے میری ٹیلی کام کی نوکری کے دوران اچھی اچھی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کرنے کا موقع عطا کیا اور بہترین عہدوں سے نوازا۔ اس موقع پر میں موضوع کی مناسبت سے اپنے سینئر اور محسن بریگیڈئیر ریٹائرڈ نیر افضل کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اللہ ان کو صحت اور لمبی عمر عطا کرے۔ میری نوکری کے ابتدائی دور میں وہ ایک اہم اور سینئر عہدے پر فائز تھے، لیکن گفتگو کا انداز ایسا کہ ہر مثبت سوچ رکھنے والا ان کا فین تھا، چائے پینی ہوتی تو ٹی بوائے سے پہلے پوچھتے ”بیٹا چائے پلاؤ گے“ ۔

میرے دادا حسین امتیاز عالم مرحوم ریلوے پولیس میں اعلیٰ ترین عہدے پر فائز رہے۔ عاجزی، ایمانداری، شخصیت، قابلیت، ذہانت، نصیحتیں اور مشورے ایسے کہ خاندان کے ساتھ ساتھ باہر والوں نے بھی ہمیشہ مثالی سمجھا اور پیروی کی کوشش کی۔ بریگیڈیر نیر افضل کو جب سے میں نے دیکھا ہے، مجھے اپنے دادا کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہ غرور سے پاک وہ شخصیات ہیں جن کو اللہ نے ان کی عاجزی اور ایمانداری کی وجہ سے خوب نوازا۔ اللہ میرے دادا مرحوم کو اعلی مقام عطا کرے۔

کسی کو عزت دینا مقصود ہو تو اسے اردو میں محترم یا جناب کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔ انگریزی میں سر کہنا عزت دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور ای میل میں بھی سینئر کو عموماً سر لکھا جاتا ہے۔ دفاتر میں دو اور اقسام کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ حقیقتاً سینئر اور قابل ہوتے ہوئے اپنے افسر کو سر کہنے یا لکھنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ مغرور ہی ہوں، لیکن ان کا دل اپنے افسر کو خود سے زیادہ قابل یا بڑا سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے۔

دوسری قسم وہ ہے جو سینئر تو نہیں ہوتے لیکن اپنے افسر کی کرسی پر بیٹھنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے بوس کو محفل میں بھی بد تمیزی سے مخاطب کر لیتے ہیں اور ای میل میں بھی سر لکھنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو اپنے بوس کے بوس کا آشیرباد حاصل ہوتا ہے اور یہی ان کو جرات اور اعتماد بخشتا ہے۔

عزت وہ چیز ہے جو مال کی طرح دینے اور تقسیم کرنے سے بڑھتی ہے۔ یہ شرائط اور قوانین ہم نے خود بنا دیے ہیں کہ سر کا لفظ صرف بڑے کے لئے ہے، ایسا نہیں ہے۔ یقین رکھیں کمزور یا کمتر کی عزت اور مدد کا اجر اللہ کی طرف سے ہمارے گمان سے زیادہ ملتا ہے اور کئی نسلوں تک چلتا ہے، ان تک بھی جن کے اپنے اعمال کسی قابل نہ ہوں۔

کبھی غور کریں ایک عام سے سرکاری یا پرائیویٹ ادارے کے افسر کو اچانک سے کیا ہو جاتا ہے جب ڈرائیور کے ساتھ سفر کرنا ہو۔ یک دم خیال آ جاتا ہے کہ ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنا تو توہین ہے اور پچھلی سیٹ کو ایسے انجوائے کرتا ہے جیسے جنت کا ٹکٹ مل گیا ہو۔ سوچیں ضرور، ایک لمحے کا فاصلہ ہوتا ہے روزگار اور بے روزگاری کے ہونے میں، زندگی اور موت میں، پھر غرور کس بات کا؟

ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ بڑا افسر جب چھوٹے افسر کو ای میل کرتا ہے تو حتی الامکان اس کی کوشش ہوتی ہے کہ حکم دیا جائے اور پلیز یا کائینڈلی جیسے الفاظ نہ لکھے جائیں ورنہ دنیا کو منہ کیسے دکھائے گا۔ آپ واٹس ایپ گروپس بھی دیکھ لیں۔ آج کل تقریباً ہر دفتر میں ملازمین کا گروپ بنا ہوتا ہے، سرکاری گفتگو کے لئے بھی اور گپ شپ کے لئے بھی۔ سرکاری گفتگو میں تو افسری جھاڑنے کا موقع مل جاتا ہے لیکن غیر سرکاری گفتگو میں اکثر اوقات سینئر افسران خاموشی رکھتے ہیں جب ان کا جونئیر کوئی بات کرے۔ یہ بھی چھپے ہوئے غرور کو دیکھنے کا ایک طریقہ ہے۔

آئیں کچھ باتیں کرتے ہیں نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کی جن میں کلرک بھی شامل ہوتے ہیں لیکن گفتگو اور انداز شاہانہ رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی بد قسمتی ہے کہ کسی بھی سرکاری دفتر میں بغیر سفارش یا اضافی خرچے کے بغیر جائز کام کرا لینا کسی معجزے سے کم نہیں۔

آپ اپنے ذاتی گھر کی فرد ملکیت نکلوا کر دکھائیں، پٹواری صاحب اتنا تنگ کریں گے کہ آپ کی نسلیں یاد رکھیں گی، گھر یا پلاٹ کا سائز کم بتا دیں گے یا اپنے ہی دفتر کے ماضی کے عملے کی کسی کوتاہی کا افسانہ سنا کر کام کو نا ممکن کہیں گے جب تک ان کی جیب نہ گرم کر دی جائے یا پھر ایسی سفارش نہ آ جائے جس سے ان کو نوکری جاتی لگے۔

سرکاری فنڈز کی کمی کے علاوہ محکموں کے عملے کا مجبور پینشنرز کی پینشن بند کرنا یا رکاوٹ ڈالنا بھی ہمارے ہاں بہت آسان ہے، مرتے کو مارنے کا تو مزہ ہی الگ ہے۔ آپ کو پینشن نہیں ملے گی تو کب تک گزارا چلے گا، مجبور ہو کر آپ محکمے سے رابطہ کریں گے اور پھر خالی جیب کی مزید صفائی آپ کی مجبوری بن جائے گی۔ پیسہ لائیں یا سفارش، جائز کام تب ہی ہو گا۔ یہ سب اختیارات کا غرور ہے جو ہر چھوٹے اور بڑے عہدے پر پایا جاتا ہے۔

خود کو دوسروں سے بڑا سمجھنا اور الفاظ یا عمل سے اس کا اظہار کرنا تکبر یا غرور کہلاتا ہے۔ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی عطا ہے، نہ انسان کا کوئی کمال ہے اور نہ حق، بلکہ اللہ کی باقی مخلوقات کا حصہ ہے اس عطا میں جسے ہم نے صرف اپنا سمجھ کر غصب کر رکھا ہے۔

سورہ زمر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
کیا غرور کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے۔
مغرور انسان دراصل اپنے غرور کے ذریعے اللہ کی بڑائی، بزرگی اور اپنی بندگی کو فراموش کر رہا ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی عزت ہے، اور وہی زبردست حکمت والا ہے۔
(سورۃ الجاثیۃ آیت 37)
پھر کیا خیال ہے کہیں آپ بھی مغرور تو نہیں؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments