ایک پیر طریقت و ماہر جنات کی داستان

ہمارا تعلق جنوبی پنجاب کی جس تحصیل سے ہے وہاں روحانی وارداتیے مطلب روحانی پیروں کی بھر مار ہے، لوگ پتا نہیں کہاں کہاں سے دم درود کروانے یا جنات وغیرہ نکلوانے کے لیے روحانی عاملین کے ڈیروں پر حاضری دیتے ہیں۔ ہمارے گاؤں کے قریب ایک دیہات ہے جہاں عامل بابا مریضوں کا باقاعدہ ”روحانی آپریشن“ کرتا ہے جن میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے دھڑا دھڑ دل کی سرجری، کینسر کے پھوڑے، گردے اور مثانے کی پتھری کے روحانی آپریشن کروانے کے لیے مخصوص ایام میں دور دور سے آتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات جو ان اندھے معتقدین کو نظر نہیں آتی یا جان بوجھ کر عقیدت کی وجہ سے نظر انداز کر دیتے ہیں ”کہ یہی عامل خود کا علاج کروانے کے لیے ہسپتالوں کا رخ کرتا ہے اور کرونا ویکسین سے بھی استفادہ کر چکا ہے“
مگر بے چارے لوگ بھی کیا کریں کیونکہ دین کے معاملہ میں سوچنا اور غور و فکر کرنا جیسے عوامل کو اہل جبہ و دستار مستقل طور پر حرام قرار دے چکے ہیں اور سوچنے کے عمل کو مثل کفر قرار دینے کی وجہ سے ہی تو یہ روحانی کاروبار چل رہے ہیں۔ ہمارے گاؤں میں بھی ایک روحانی عامل ہوا کرتے تھے جو اب وفات پا چکے ہیں اور مرنے سے پہلے اپنا روحانی ورثہ و جنات وغیرہ اپنے چاروں بیٹوں کو منتقل کر گئے تھے۔ ویسے حیرت کی بات ہے کہ ان عامل جی کی بیٹیاں بھی تھیں مگر انہوں نے بیٹیوں کی بجائے بیٹوں کو ترجیح دی شاید ان کا بھی یہی ماننا ہو کہ عورتیں تو کم عقل اور کمزور ہوتی ہیں اور ان کی افادیت بچے پیدا کرنے والی مشین سے زیادہ نہیں ہوتی کون جانے؟ جب یہ ماہر جنات زندہ تھے تو ان کی زوجہ محترمہ گاؤں کی خواتین میں ان کے متعلق روحانی قصہ خوانیاں کیا کرتی تھیں مثلا۔
یہ بہت بڑے پہنچے ہوئے بزرگ ہیں۔
اس کو غسل فرشتے دینے آتے ہیں۔
اس کے پاس درجنوں جنات ہیں۔
مریض کے حالات و واقعات کا پتا اپنے جنات کی مدد سے چند سیکنڈ میں لگا لیتا ہے۔
رات سونے سے پہلے قرب و جوار کے گاؤں کے گرد روحانی دائرہ یا یوں کہہ لیں کہ روحانی طور پر پورے علاقے کو ”کارڈن آف“ کر دیتا ہے تاکہ چور ڈاکو وغیرہ ان حدود میں داخل نہ ہو سکیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ سچ کی خبر کون لیتا ہے چونکہ سچ تک پہنچنے کے لئے جہالت کے لاکھوں پردوں کو کاٹنا پڑتا ہے مگر جھوٹ کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ یہ سچ کو راستے میں ہی دبوچ کر زیر کرنے کے بعد آگے نکل جاتا ہے اور مطلوبہ کان جھوٹ سے آشنا ہو جاتے ہیں۔
حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی مگر افواہوں کے آگے کون ٹھہر سکتا ہے؟ جب کبھی حیاتی میں یہ بزرگ بیمار وغیرہ ہوتے تھے تو ہسپتالوں کا ہی رخ کیا کرتے تھے اور ان بزرگوں کی روحانی مشقت بازیوں کے باوجود بھی چوری کی وارداتیں ہوا کرتی تھیں اور ان کے اناج کے بھڑولے جنات نہیں بھرتے تھے بلکہ سالانہ روحانی یاترا اپر سندھ تشریف لے جایا کرتے تھے۔ واپسی پر سال بھر کا راشن پانی مریدین و معتقدین اور مریضوں سے مل جاتا تھا، مریدین کی تعداد بھی بڑھتی رہتی تھی اور طفیل مریدان جیپ کا حجم بھی بڑھتا رہتا تھا۔
اتنی لمبی تمہید کا مقصد آپ سے ایک واردات سانجھی کرنا ہے جس کا تعلق اسی روحانی بزرگ کے گدی نشین بیٹے سے ہے جو آج کل اپنے بزرگوں کا فیضان سمیٹنے میں مصروف عمل ہے۔ دم درود، ستاروں کی چال کے احوال، لوگوں کی تقدیر کے متعلق روحانی پیشگوئیاں، جنات وغیرہ نکالنے کے علاوہ روحانی یاترا پر تشریف لے جانا جیسے روحانی کام کرنے کا فریضہ آج کل انہی کا بیٹا سرانجام دے رہا ہے۔ موصوف گزشتہ دنوں روحانی یاترا پر تشریف لے گئے مریدین نے کافی آؤ بھگت کی جمع پونجی سمیٹ کر واپسی کا ارادہ فرمایا۔
راستے میں واردات ہو گئی گھات میں بیٹھے چند افراد نے بہانے سے رومال ناک پر رکھا جس کی وجہ سے حضرت صاحب فوری بے ہوش ہو گئے۔ انہوں نے جیب صاف کی اور چلتے بنے۔ ہوش آ جانے پر سوائے افسوس کرنے کے اور کیا ہو سکتا تھا؟ کسی طرح سے واپس گھر پہنچ گئے مگر ان کے جنات نے ان کو لفٹ نہیں کروائی اور ابھی تک خود کے ساتھ ہونے والی اس واردات کا سراغ تمام قسم کی روحانی مہارت کے باوجود لگانے میں ناکام رہے۔ ابتدائی تمہید کو اس واردات کے ساتھ جوڑنے کا مقصد چند سوالات ہیں جن پر سادہ لوح عوام کو ضرور غور کرنا چاہیے تاکہ اکیسویں صدی میں آ گہی کے سائنسی تسلسل سے جڑ کر نئی میڈیکل تحقیقات سے آگاہ ہوں اور اپنے مریضوں کو ان روحانی وارداتیوں کے پاس لے کر جانے کی بجائے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں تاکہ انسانی دکھوں کا حقیقت میں مداوا ہو سکے۔
اگر یہ تمام امراض کا علاج روحانی طریقے سے کر سکتے ہیں تو ان کا علاج خود پر اثر کیوں نہیں کرتا؟
دوسروں کی تقدیر کے متعلق پیشگوئیاں کرنے والے اپنے متعلق لاعلم کیوں ہوتے ہیں؟ کیا عجب نہیں کہ ان کا روحانی ریڈار دوسروں کے متعلق سب کچھ بتا دیتا ہے مگر اپنے متعلق کچھ بھی بتانے میں ناکام رہتا ہے؟ جو جنات دوسروں کے متعلق ان کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے رہتے ہیں وہ پیر صاحب کی باری پر منکر کیوں ہو جاتے ہیں؟ دوسروں کا روحانی علاج کرنے والے اپنا علاج ہسپتالوں سے کیوں کرواتے ہیں؟
سوچنا اور غور و فکر کرنا کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا اور ذہن میں شکوک و شبہات کا جنم لینا ”بلیسنگ ان ڈس گائز“ یا زحمت کے روپ میں رحمت ثابت ہوتا ہے اور اسی نعمت سے فیض یاب ہونے والوں نے اس کائنات کو رنگینیوں سے بھرا ہے۔ جن نعمتوں سے ہم آج فیض یاب ہو رہے ہیں وہ انہی سر پھروں کا کرشمہ ہے ورنہ ہم آج بھی اندھیروں میں ہی ڈوبے ہوتے۔ من و سلویٰ کی طرح آسمانوں سے کچھ نہیں اترتا اور کوئی اتنا مہان نہیں ہوتا کہ بغیر کچھ کیے ”چوزن ون“ بن کر دوسروں کے متعلق غیب کی باتیں بتاتا پھرے۔ جنہیں ہم روحانی مہان سمجھتے ہیں وہ ہماری ضعیف الا اعتقادی کا فیضان ہے اور ان کے اناج کے بھڑولے روحانی طور پر خود بخود نہیں بھرتے بلکہ ہم جیسے ہی ہدیہ و تحائف دینے کے نام پر بھرتے رہتے ہیں۔

