آئی ایم ایف معاہدہ: تحریک انصاف اور بھارت ایک ہی پیج پر کیوں؟
عالمی مالیاتی فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پاکستان کا امدادی پروگرام بحال کرتے ہوئے ایک ارب 17 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک ٹویٹ میں قوم کو یہ ’خوش خبری‘ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلہ سے پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے۔ واضح رہے پاکستان کی امداد کرنے والے دیگر تمام ممالک فنڈ فراہم کرنے کے لئے عالمی ادارے کے فیصلہ کا انتظار کر رہے تھے۔ آئی ایم ایف کا بورڈ آف ڈائریکٹرز اگر امدادی منصوبہ بحال کرنے پر راضی نہ ہوتا تو پاکستان کے لئے سنگین مالی مشکلات پیدا ہو سکتی تھیں۔
آئی ایم ایف کے فیصلہ کی خبر آنے سے پہلے ملکی میڈیا کے ذریعے دو آڈیو منظر عام پر آئی تھیں جن میں تحریک انصاف کے لیڈر اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین پنجاب کے وزیر خزانہ محسن لغاری اور خیبر پختون خوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کو فون پر یہ مشورہ دے رہے تھے کہ ان دونوں صوبوں کی حکومتیں آئی ایم ایف کو امدادی پیکیج کی بحالی کے لئے کروائی گئی یقین دہانی سے منحرف ہوجائیں تاکہ وفاقی حکومت کو یہ امدادی پیکیج بحال کروانے کے لئے منی بجٹ لانا پڑے، مزید ٹیکس عائد کرنا پڑیں اور عوام میں اس کی پوزیشن خراب ہو۔ واضح رہے کہ ملک کے چاروں صوبوں نے ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے جس میں عالمی مالیاتی فنڈ کو یقین دلایا گیا تھا کہ صوبے مل کر مرکز کو 750 روپے کا سرپلس فراہم کریں گے تاکہ غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی سے پہلے آمدنی و اخراجات میں خسارہ ختم کیا جا سکے۔ اس مرحلے پر اگر صوبائی حکومتیں اپنے وعدہ سے انحراف کرتیں تو آئی ایم ایف تکنیکی لحاظ سے اسے پاکستان کی وعدہ خلافی قرار دیتے ہوئے امدادی پیکیج کی بحالی سے انکار کر سکتا تھا۔
شوکت ترین اور پنجاب و خیبر پختون خوا کے وزرائے خزانہ کی گفتگو منظر عام پر آنے سے پہلے ہی کے پی کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا وفاقی حکومت کو ایک خط میں اپنے صوبے کی طرف سے سرپلس کا وعدہ پورا کرنے سے انکار کر چکے تھے۔ یہ انکار اسی مشورہ کے مطابق تھا جو آڈیو میں ریکارڈ کی گئی ٹیلی فون گفتگو میں شوکت ترین کی طرف سے دیا گیا تھا۔ شوکت ترین نے تیمور سلیم جھگڑا کو مشورہ دیا تھا کہ وہ یہ خط وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کو بھیجیں تاکہ ’اس حکومت کو دن میں تارے دکھائی دیں اور انہیں خبر ہو کہ ہمارے اور چیئرمین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا کیا نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے‘ ۔ بعد میں مفتاح اسماعیل کو خط بھیجتے ہوئے کے پی کے وزیر خزانہ نے یقین دہانی کروائی تھی کہ انہوں نے یہ خط صرف وفاقی حکومت کو بھیجا ہے اور آئی ایم ایف کو اس بارے میں مطلع نہیں کیا گیا۔
مفتاح اسماعیل سوموار کو تیمور سلیم جھگڑا سے مل کر اس معاملہ پر بات کرنے والے تھے تاکہ آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز تک اطلاع پہنچنے سے پہلے اختلافی امور پر اتفاق رائے پیدا کر لیا جائے۔ البتہ اس دوران ریکارڈ شدہ ٹیلی فون گفتگو منظر عام پر آ گئی اور یہ واضح ہو گیا کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کسی بھی قیمت پر آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدہ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتی تھی۔ اب مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا ہے کہ تیمور سلیم جھگڑا نے انہیں اس بارے میں دھوکے میں رکھا تھا کیوں کہ معاہدے سے انحراف کا خط وفاقی حکومت کے علاوہ آئی ایم ایف کو بھی بھیج دیا گیا تھا تاکہ آخری لمحے پر اس معاہدہ کو ناکام بنایا جا سکے۔ مفتاح اسماعیل نے اسے ملکی مفاد کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سکینڈل میں ملوث لوگوں کو شرم آنی چاہیے۔ شوکت ترین ملک کے خلاف اس گھناؤنے کردار پر سیاست سے علیحدہ ہوں اور خیبر پختون خوا کے وزیر خزانہ کو اس سازش کا حصہ بننے پر اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
تحریک انصاف نے شوکت ترین کی پنجاب اور خیبر پختون خوا کے وزرائے خزانہ سے ہونے والی گفتگو سے انکار تو نہیں کیا لیکن اس کے سیکرٹری جنرل اسد عمر سمیت تمام مرکزی قیادت اس گفتگو کو معمول کی بات چیت اور تحریک انصاف کی پالیسی کا حصہ قرار دے رہی ہے۔ تاہم اس حوالے سے چند سوال ہنوز جواب طلب ہیں جن کا جواب فراہم کرنا تحریک انصاف کی سیاسی ساکھ کے لئے ضروری ہو گا۔ ایک تو صورت حال کا یہی پہلو قابل غور ہے کہ اگر تحریک انصاف آئی ایم ایف سے معاہدہ کے خلاف ہے تو کیا اسے ایک طے شدہ معاملہ سے انکار کر کے اس معاہدہ کو ناکام بنانے کا حق حاصل ہو جاتا ہے؟ اس اختلاف کو سیاسی بیان کے طور پر سامنے لانا چاہیے تھا اور اگر آئی ایم ایف کو فراہم کی گئی یادداشت سے انحراف ضروری تھا تو اس معاملہ کو یا تو صوبائی اسمبلیوں میں لایا جاتا یا کسی پبلک پلیٹ فارم پر اس بارے میں گفتگو کی جاتی تاکہ یہ جانا جاسکتا کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ آئی ایم ایف کا مالی پیکیج پاکستانی معیشت کے لئے لائف لائن کی حیثیت اختیار کرچکا تھا اور پاکستانی عوام مہنگائی اور بڑھتے ہوئے محاصل کی صورت میں اس کی بھاری قیمت ادا کرچکے تھے، درپردہ سازش نما بات چیت میں اسے ناکام بنانے کی کوشش کرنے سے کون سا قومی مقصد حاصل کیا جاسکتا تھا؟
منظر عام پر آنے والی آڈیو گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ اس فون کال کے دوران پنجاب کے وزیر خزانہ محسن لغاری نے شوکت ترین سے سوال کیا کہ کیا یہ اقدام ریاست کو نقصان پہنچانے کے مترادف نہیں ہو گا۔ اس پر شوکت ترین کا جواب تھا کہ یہ حکومت بھی تو ہمارے اور چئیر مین کے خلاف سخت کارروائیاں کر رہی ہے، اسے اس کا مزہ چکھانا ضروری ہے۔ وہ یہ کہتے بھی سنے جا سکتے ہیں کہ ’ہم یہ ظاہر نہیں ہونے دیں گے کہ ہماری طرف سے ریاستی مفاد کے خلاف کوئی اقدام کیا گیا ہے‘۔ گویا یہ گفتگو ہی اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ شوکت ترین پارٹی قیادت کی طرف سے اپنی صوبائی حکومتوں کو وفاقی حکومت ہی نہیں بلکہ پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف اقدام پر قائل کر رہے تھے اور ان کے پاس ایک صوبائی وزیر کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراض کا کوئی واضح اور کھرا جواب بھی نہیں تھا۔ اس حوالے سے یہ نوٹ کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ اس تمام تر تگ و دو کے باوجود پنجاب حکومت نے مرکز کو ویسا خط نہیں لکھا اور نہ ہی آئی ایم ایف کو سرپلس فراہم نہ کرنے کے بارے میں سیلاب کا بہانہ بنا کر اپنی معذوری سے آگاہ کیا۔ اس طرح یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ کیا عمران خان کو پنجاب میں پرویز الہیٰ کی حکومت پر اتنا ہی کنٹرول حاصل نہیں جو انہیں خیبر پختون خوا کی حکومت پر حاصل ہے۔ کیوں کہ یہ تو واضح ہے کہ تحریک انصاف آئی ایم ایف کے موجودہ معاہدے کو ناکام بنانا چاہتی تھی لیکن پنجاب نے اس کوشش میں اس کا ساتھ دینے سے گریز کیا ہے۔ اگر خیبر پختون خوا کی طرح پنجاب حکومت بھی ایک خط کے ذریعے مالی سرپلس کے وعدے سے منحرف ہونے کا اعلان کرتی تو آئی ایم ایف کا بورڈ آف گورنرز شاید پاکستان کی امداد بحال کرنے کا فیصلہ نہ کرتا اور اسے مؤخر کر دیا جاتا۔
اس حوالے سے یہ پہلو بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں بھارت نے پاکستان کی امداد بحال کرنے کی مخالفت کی جبکہ دیگر سب گورنرز نے سٹاف لیول پر طے پانے والے معاہدے کی توثیق کے حق میں ووٹ دیا۔ یعنی آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز میں بھارت وہی مقصد حاصل کرنا چاہ رہا تھا جو ٹارگٹ پاکستان میں شوکت ترین محسن لغاری اور تیمور سلیم جھگڑا کے ساتھ مل کر پورا کرنا چاہتے تھے۔ گویا عالمی پلیٹ فارم پر بھارت اور اندرون ملک پی ٹی آئی عالمی مالیاتی فنڈ اور پاکستانی حکومت کے درمیان معاہدے کو ناکام بنانے کے خواہاں تھے۔ عمران خان اس صورت حال میں مد مقابل ہوتے تو وہ اسے پاکستان میں بھارتی ایجنٹوں کی سازش کا نام دیتے۔ تاہم اب ان کی اپنی ہی پارٹی ایک اہم قومی معاملہ میں بھارتی حکومت جیسا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑی گئی ہے تو انہیں خود بتانا چاہیے کہ اسے سازش کہا جائے یا نادانی میں سیاسی کوتاہی کا نام دیا جائے؟
عمران خان کو خاص طور سے لاہور پہنچ کر پرویز الہیٰ سے استفسار کرنا چاہیے کہ وہ واقعی ان کے وفادار اور تحریک انصاف کے ہمدرد ہیں یا محض اپنی وزارت اعلیٰ قائم رکھنے کے لیے عمران خان کی خوشامد کرتے رہتے ہیں لیکن جب کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جس میں ملک سے غداری کا شائبہ ہو، تو وہ کنی کترا جاتے ہیں۔ عمران خان کو پارٹی کے دانشوروں کی ملاقات میں ضرور اس پہلو سے غور کرنا چاہیے کہ پنجاب حکومت نے شوکت ترین کے مشورہ پر شہباز شریف کو ناکوں چنے چبوانے کے لئے خط کیوں نہیں لکھا؟
آئی ایم ایف معاہدہ کو سبوتاژ کرنے کی سازش کا انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب قوم عمران خان کے ان اعلانات کو سمجھنے اور ان کی حکمت کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ سیلاب خواہ ملک کو کیسے ہی تباہ و برباد کردے لیکن نہ تو وہ جلسے بند کریں گے اور نہ ہی ’حقیقی آزادی‘ کے مشن سے پیچھے ہٹیں گے۔ حقیقی آزادی درحقیقت اب ’اقتدار دلاؤ‘ مہم میں تبدیل ہو چکی ہے جس میں عمران خان ایک طرف دھمکیوں، انتشار اور خانہ جنگی کے حالات پیدا کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف منت سماجت اور عرض گزاری کے ذریعے یہ سعی کرتے ہیں کہ کسی طرح ’نیوٹرلز‘ کا دل پسیج جائے۔ اقتدار سے علیحدہ ہونے کا غم اس قدر سنگین اور شدید ہے کہ عمران خان اس وقت ملک کے ساڑھے تین کروڑ لوگوں کے بے گھر ہونے اور ذرائع معاش سے محروم ہونے پر توجہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔
آئی ایم ایف کے ساتھ امدادی پیکج کے بارے میں بحث کی جا سکتی ہے۔ اس کے اچھے برے پہلوؤں پر بات کر کے بہتر راستہ تلاش کرنے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے لیکن پاکستان گزشتہ کچھ عرصہ سے جس بحرانی صورت حال کا شکار ہے، اس میں فوری ریلیف کے لئے غیر ملکی امداد ہی واحد ذریعہ ہے۔ یہ وسائل آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے بعد فراہم ہونے کا امکان پیدا ہو گا۔ اس صورت میں یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا مرکزی حکومت کو ناکام بنانے کے لئے ریاستی و قومی مفاد کو نقصان پہنچانا ایک جائز اور قابل قبول سیاسی طرز عمل ہے؟ عمران خان کی محبت و عقیدت میں مبتلا لوگوں کو یہ بات سمجھانا شاید ممکن نہ ہو لیکن باقی قوم کو ضرور اس پہلو کو جانچ کر سیاسی مفاد کی جنگ میں قومی مفاد کو داؤ پر لگانے کے طرز عمل کو مسترد کرنا ہو گا۔


