مصیبت زدہ انسان کی مدد حکمرانوں کا مذہبی فریضہ نہیں

اس سال بارشیں معمول سے زیادہ ہوں گی، دریاؤں میں طغیانی بھی آئے گی لیکن عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس اس سے نمٹنے کے لیے پیشگی حفاظتی انتظامات مکمل ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشیئر پگھلیں گے، دریا بپھریں گے تو اس سے ہمارے ڈیم بھر جائیں گے۔ اس پانی سے ہم بجلی بنائیں گے۔ پورے ملک میں بجلی مفت ہوگی۔ اس پانی سے ہماری زمینیں سیراب ہوں گی۔ زراعت کا شعبہ ترقی کرے گا۔ یہ سننے میں کتنا بھلا لگ رہا لیکن یہ ہمیں سننے کو کبھی نہیں ملے گا۔
سننے کو ملے گا تو یہ کہ اس سال پہلے سے کئی گنا بڑا سیلاب آیا ہے، دریا بپھر گئے ہیں، اور پانی کے آگے کسی کا زور نہیں۔ فصلیں تباہ ہو گئیں، لوگ بے یارو مددگار ہیں۔ ان کے لیے خوراک، ادویات اور ٹینٹوں کی اشد ضرورت ہے، وہی گھسے پٹے بیانات، وہی ایک دوسرے پہ الزام تراشیاں ہوں گی، اور وہی مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے عوام سے فنڈز کی اپیل کی جائے گی۔ ہر نئی آفت کے بعد یہی پرانے بیان۔
کیا لکھوں نگاہ میں پانی ہے اور حد نگاہ پانی ہی پانی۔ اس پانی نے سب کچھ دھندلا کر رکھ دیا کہ کچھ نظر نہیں آ رہا۔ اگر کچھ نظر آتا ہے تو وہ مزید پانی ہے۔ پورے ملک میں جو تباہی پھیلی ہے اس پر رونے کو دل نہیں کرتا۔ اس لیے کہ رویا اس بات پر جاتا ہے جو بات اچانک ہو۔ اس آفت کے آنے کی اطلاع تو بہت پہلے سے مل چکی تھی۔ اس لیے اس پر رونا دھونا بیکار کا مشغلہ لگتا ہے۔ انسانی ہمدردی کے جذبات یہاں کسی کام کے نہیں۔
ہمدردی میں بہنے والے آنسو ان تباہ حال لوگوں کے کام نہیں آئیں گے۔ کچھ لکھنا، کہنا، سننا بھی بیکار ہے کہ ایک ہی موضوع پر کتنا لکھا جائے اور پھر اس صورت جب اس کا فائدہ بھی نہ ہو۔ کیا ہمارے لکھنے، بولنے سے ان تباہ حال لوگوں کی زندگی پرانی ڈگر پہ واپس آ جائے گی؟ محکمہ موسمیات الرٹ جاری کر چکا تھا تو اقدامات کیوں نہ کیے گئے۔ اگر وارننگ ملنے کے باوجود حفاظتی اقدامات نہیں کرنے ہوتے تو کروڑوں روپے اس محکمے پہ ضائع کرنے کا فائدہ۔ اسے بند کر دینا چاہیے۔
ملک کے چاروں صوبے ہانی میں ڈوبے ہیں۔ دل دہلانے والی رپورٹس میڈیا پر چل رہیں۔ لیکن ان رپورٹس کا اثر بھی اتنی دیر تک جب تک میڈیا ان علاقوں کی فوٹیج دکھا رہا۔ جس دن میڈیا کو اپنا پیٹ بھرنے کے لیے نئی خوراک ملی، اس دن وہ ان تباہ حال لوگوں کی پریشانی بھول کر اپنی بھوک مٹانے کی فکر کرے گا۔
فصلوں کی تباہی، مویشیوں اور انسانوں کی ہلاکت، عمارتوں کا تنکوں کی طرح بہہ جانا، لوگوں کا بے گھر ہونے کا سبب کون؟ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پگھلنے والے گلیشیئر؟ ان علاقوں میں رہنے والے لوگ؟ یا آسمان سے برستا پانی؟ کچھ نیک چلن اس کا ذمہ دار گناہ اور گناہگاروں کو ٹھہراتے ہیں۔ یہ تو پھر وہی بات ہوئی کرے کوئی بھرے کوئی۔
اس کے ذمہ دار عوامی نمائندوں کی غیر ذمہ داری ہے۔ ان کی مس مینجمنٹ ہے۔ جو عوام کی فلاح کا کارڈ استعمال کر کے اقتدار میں تو آ جاتے ہیں لیکن بعد میں بھول جاتے کہ وہ کرنے کیا آئے تھے۔ مشکل کی اس گھڑی میں ہم اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ یہ بیانیہ بہت پرانا ہے اور اس میں حقیقت بھی نام کو نہیں۔ کہ اگر مصیبت زدہ بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھر محفوظ گھروں کے ائر کنڈیشنڈ کمروں میں کون بیٹھا ہے۔ کسی آفت کے بعد حکمران کہتے ہیں وہ ان مصیبت زدہ لوگوں کی مدد مذہبی فریضہ سمجھ کر کر رہے ہیں۔
خدا کے لیے اسے مذہبی فریضہ نہ سمجھیں کہ یہ مذہبی فریضہ نہیں ہے۔ یہ وہ ذمہ داری ہے جو آپ نے عوام کے ووٹوں کے ذریعے اپنے ذمہ خود لی تھی۔ لیکن منصب حاصل کرنے کے بعد اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑے اپنی عیاشیوں میں پڑے رہے۔ اس لیے کہ جانتے ہیں جب بھی کوئی مشکل کوئی آفت آئے گی اس سے نمٹنے کے لیے پاک فوج اور عوام سے مدد مانگ لیں۔ کشکول اٹھائیں گے اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر عالمی برادری بھی اچھا تعاون مل جائے گا۔ بس اسی لیے اللہ کے فضل سے ان آفتوں سے نمٹنے کے لیے کبھی کام کیا ہے نہ کرنا ہے۔ مصیبت کے وقت امداد کہیں نہ کہیں سے پہنچ ہی جانی تو پھر اپنی شاہانہ عیاشیوں، اور شاہی پروٹوکول میں اضافہ کا سوچیں۔ یا ملک اور عوام کے مسائل حل کرنے کا۔

