جیل، ہتھکڑی اور تھانہ کچہری کی سیاست
جس طرح سیاست اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اسی طرح شاید ہی تیسری دنیا میں کوئی سیاست دان ہو جس نے جیل یاترا نہ کی ہو سیاست میں ”تھانہ کچہری“ لازم ملزوم ہوتا ہے۔ تیسری دنیا میں تو پابند سلاسل ہونا سیاست دانوں کے لئے ”طرہ امتیاز“ ہوتا ہے۔ ہے۔ انگریز کی غلامی نجات حاصل کرنے کے لئے ہمارے اکابرین نے نہ صرف برصغیر پاک و ہند کی جیلیں آباد کیں بلکہ جرات و بہادری کی داستانیں رقم کیں اگرچہ قائد اعظم کا شمار ان رہنماؤں ہوتا ہے جو کبھی جیل نہیں گئے۔ انہوں نے دانستہ یا نادانستہ کبھی قانون شکنی نہیں کی اس لئے جیل نہیں گئے تاہم انہوں نے بڑے بڑے سیاسی مقدمات لڑے ہیں اور کامیابیاں اپنے نام کیں۔
تحریک آزادی میں علماء حق نے نہ صرف قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں بلکہ تختہ دار کو چوم کر اس پر لٹک گئے اور تاریخ میں امر ہو گئے بہادری اور جرات سے جیلیں کاٹنے والوں کو تاریخ میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
علمائے ہند نے مالٹا اور کالا پانی کی جیلیں آباد کیں۔ باچا خان خان عبد الغفار خان، خان عبدالولی خان، نوابزادہ نصر اللہ خان، مفتی محمود، میر عطا اللہ مینگل، خیر بخش مری، چوہدری ظہور الہی، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، آغا شورش کاشمیری، مولانا تاج محمود، نواز شریف، شہباز شریف، چوہدری شجاعت حسین، مخدوم جاوید ہاشمی حمزہ شہباز، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق سمیت سینکڑوں کی تعداد سیاسی رہنماؤں نے سالہاسال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اف تک نہ کی جیلوں میں مختلف اداروں کی طرف سیاسی قیدیوں کے ”رکھ رکھاؤ اور میل ملاقات، کمزوریوں“ پر گہری نظر رکھی جاتی ہے۔
آغا شورش کاشمیری مرحوم جیل کو ”حجلہ عروسی“ کہا کرتے تھے۔ انہوں نے جیل میں بہادری اور جرات کی تاریخ رقم کی ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار پر لٹک گئے چار عشروں سے زائد وقت گزرنے کے باوجود آج بھی وہ تاریخ میں زندہ ہیں۔ ان کی برسی کی تقریب ”سیاسی عرس“ بن گئی ہے۔ پرویز مشرف دور میں نواز شریف کو جن مقدمات میں اٹک قلعہ میں رکھا گیا تھا۔ اس کی سزا موت تھی۔ میں نے اس دوران نواز شریف سے اٹک قلعہ میں ملاقات کی تو ان کا وزن آدھا رہ گیا تھا لیکن انہوں نے آمر مطلق سے زندگی کی بھیک نہیں مانگی۔ پرویز مشرف نے امریکہ، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک کے دباؤ میں آ کر نواز شریف کو سعودی عرب میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے کی اجازت دینے پر تیار ہو گئے
نواز شریف محض اپنی اتھارٹی منوانے کے ”جرم“ میں تین بار اقتدار سے محروم ہوئے ہیں۔ حال ہی میں دو بار ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت چکے ہیں۔ آخری بار اڈیالہ اور کوٹ لکھ پت جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں لیکن انہوں نے کوئی واویلا کیا ہے اور نہ ہی آہ و زاری۔ کل ہی کی بات ہے نیب نے شہباز شریف، حمزہ شہباز، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، سید خورشید شاہ سمیت اس وقت کی اپوزیشن کی ہر قابل ذکر شخصیت کو جیل میں ڈال کر عمران خان کے منتقمانہ جذبات کی تسکین کا باعث بنایا۔ قدرت نے عمران خان کو اپنی آئینی مدت پوری نہ کرنے دی اور پونے چار سال بعد 10 اپریل 2022 ء کو ووٹ آؤٹ ہو گئے کل تک عمران خان کی مقبولیت کا گراف نیچے کی طرف جا رہا تھا لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے نہ صرف ان کی مقبولیت کو بحال کر دیا ہے بلکہ ان کے امریکی سازش سے نکالے جانے اور ریاستی اداروں سے تصادم کے بیانیہ نے ان کو ملک کا مقبول ترین لیڈر بنا دیا ہے۔
مقبولیت کے زعم میں جہاں انہوں نے ریاستی اداروں کو للکارنا شروع کر دیا وہاں انہوں نے یہ ثابت کرنے لئے وہ ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں پی ٹی آئی کی خالی ہونے والی 9 نشستوں پر انتخاب لڑنے کا اعلان کر کے سرپرائز دیا ہے۔ پچھلے دنوں سے تو انہوں نے ڈھکی چھپی رکھے بغیر ”بوٹ والوں کی مداخلت“ کا ذکر کر کے ریاستی اداروں میں ناراضی کی لہر دوڑا دی ہے۔ رہی سہی کسر ان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے نکال دی ہے جن کو ”بغاوت اور فوج کو اکسانے“ کے الزام میں دھر لیا گیا۔ عمران خان شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دینے پر خاتون جج کو دھمکیاں دینے پر تھانہ رمنا میں دہشت گردی کا مقدمہ درج کر لیا گیا اس دوران حکومت کی طرف سے باقاعدہ طے شدہ پروگرام کے تحت عمران کی ممکنہ گرفتاری خبر اڑائی گئی۔ ٹی وی چینلوں پر بھی عمران خان کی گرفتاری کی خبر چلائی گئی بنی گالہ میں پولیس کی بھاری نفری بھیج کر خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کر دی گئی
حکومت کی جانب یہ تاثر دیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔ عمران خان کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ جہاں تک میری اطلاع ہے سر دست حکومت عمران کو گرفتار کر کے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ کرنے کی بجائے انہیں جیل سے خوفزدہ کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کو اس بات کا علم ہے عمران خان اپنے سیاسی کیریر میں کبھی جیل گئے ہیں اور نہ ہی پولیس کی مار کھائی ہے۔ اس کے سیاسی کیرئیر میں چند گھنٹے تک تھانے میں پولیس کا مہمان بننا ہے۔ حکومت عمران خان کی اس کمزوری سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ان کے لئے چند گھنٹے بھی جیل میں گزارنا مشکل ہو گا۔ اس لئے حکومت ان کو جیل بھجوانے کے خوف میں مبتلا رکھنا چاہتی ہے۔
اس خوف کی وجہ سے وہ عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں اور کبھی کسی ادارے سے ”ریلیف“ مانگتے ہیں۔ عمران خان نے بھی گرفتاری سے بچنے کے لئے ہر حربہ اس استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ یہ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ بے شک انہیں گرفتار کر لیا جائے وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ سیاسی مخالفین جیل نے ”جیل سے خوف زدگی“ کو عمران خان کی چڑ بنا لی ہے۔ یہ الگ بات ہے۔ عمران خان اپنے مشاغل کی وجہ سے جیل جانے سے گریزاں ہیں۔
تیسری دنیا میں سیاسی قائدین تختہ دار پر جھول جاتے ہیں لیکن اپنے نظریات، سوچ اور جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوتے نیلسن مینڈیلا جنوبی افریقہ میں آج بھی اس لئے قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے گوروں کی غلامی سے نجات کے لمبی زندگی جیل میں گزار دی عمران خان کا بیانیہ بھی یہی ہے کہ قومی عزت وقار پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا جب وہ کہتے ہیں۔ کہ ”مجھے نا اہل کرو جو مرضی ہے۔ کرو حقیقی آزادی تک سڑکوں پر رہوں گا۔”
اس عزم کی تکمیل کے لئے انہیں عدالتوں سے ضمانتیں کروانے لئے چکر لگانے کی بجائے گرفتار کرنے کی دھمکیاں دینے والوں کو کہنا چاہیے“ بنی گالہ میں بیٹھا ہوں جیل جانے سے خوفزدہ نہیں جس کی جرات ہے۔ آئے مجھے گرفتار کر لے ”یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ناز و نعم میں پلا ہوا لیڈر ایک جوڑے کے ساتھ کال کوٹھری میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتا۔ ہو جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے سے خوفزدہ لیڈر تاریخ کا گم گشتہ ورق بن جایا کرتا ہے۔

