مفتی طارق مسعود اور انجینئر محمد علی مرزا کے مابین آن لائن مناظرہ کی گونج


ایک ہی مذہب کو دل سے تسلیم کرنے والے مذہبی پیشوا جس مذہبی کشتی میں سوار ہیں اسی کشتی میں مختلف فرقے قائم کر کے اب تک درجنوں سوراخ کر چکے ہیں اور ان کا یہ ماننا ہے کہ ہم ایسا کر کے مذہب کی خدمت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور ہم احسن طریقے سے اس کشتی کو محفوظ مقام تک لے جانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایسا سوچنا خام خیالی یا کھلی آنکھوں سے بڑے بڑے سپنے دیکھنا تو ہو سکتا ہے مگر اس کی حقیقت بہت بھیانک ہے۔

مضبوط سے مضبوط رسی کو زمین تک آنے کے لئے ایک چھوٹا سا کٹ یا خراش ہی کافی ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے آخرکار مضبوط رسی کو کمزور کر دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح سے طاقتور سے طاقتور کشتی کو ڈبونے کے لئے بھی ایک معمولی سا سوراخ کافی ہوتا ہے اور یہاں تو درجنوں ہو چکے ہیں، پھر بھی صدقے واری جائیں غلط فہمی پر مبنی خام خیالی کے جس نے ہمیں مستقل سراب کی کیفیت میں الجھایا ہوا ہے کہ

”ہم سا ہو تو سامنے آئے“ ۔

سوشل میڈیا کے ظہور سے پہلے مناظرہ بازی کے نام پر اہل جبہ و دستار ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوتے رہے ہیں وہ سب داستانیں چھپنے والی کتابوں کی صورت میں پہلے ہی ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ مناظرہ بازی کی یہ مشقیں دوسرے مذاہب کے علماء کے ساتھ نہیں ہوئیں بلکہ ایک ہی مذہب اور ایک ہی خدا و رسول کو ماننے والے مختلف فرقوں کے درمیان ہوتی رہی ہیں اور مقام حیرت یہ ہے کہ آپس میں کئی بار یہ ایک دوسرے کو دائرہ مذہب سے خارج کرنے کا مقدس فریضہ بھی سرانجام دے چکے ہیں۔

ثبوت کے طور پر مناظرہ بازی کی چند ویڈیوز جو کہ یوٹیوب پر موجود ہیں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں، اگرچہ کیمرے کا رزلٹ تھوڑا سا کمزور ہے مگر بات چیت کے دوران مشائخ عظام کی ایک دوسرے کے خلاف فحش گوئیاں اور ہاتھوں سے کیے جانے والے قابل اعتراض قسم کے اشاروں کے ذریعے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس طرح سے جان جوکھوں میں ڈال کر یہ مذہبی پیشوا مذہب کا جھنڈا سر بلند کیے ہوئے ہیں؟ چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل پر ایک دوسرے کے خلاف ہزاروں کتابیں لکھنے کے علاوہ اپنے اپنے فرقہ کے نام لیواؤں کو مخالف فقہ و فرقہ کے امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکتے ہیں۔

جب کوئی شخص انہی کی کتابوں سے مواد نکال کر آئینہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ سنجیدگی سے اعتراضات کا جواب دینے کی بجائے اس بندے کو کافر، ملحد نہ جانے کیا کیا ثابت کر دیتے ہیں۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں وہ ایک طرح سے علمی سمندر کی آماجگاہ ہے جس میں ہر وقت معلومات کی نئی سے نئی لہریں اچھلتی رہتی ہیں۔ اس دور میں بھی اگر کوئی کنویں کا مینڈک بن کے رہنا چاہے اور اسی کنویں کا حکمران بن کر اتراتا پھرے اور سمندر سے الجھتا رہے تو اسے کم ظرف یا بیوقوف ہی کہا جا سکتا ہے۔

گوگل یونیورسٹی سے استفادہ کر کے ہر شخص اپنی شعوری سطح کا معیار بلند کر سکتا ہے کیونکہ شعور ڈگریوں کا محتاج نہیں ہوتا اور معلومات کے سیلاب میں اب کوئی خود کے متعلق ”عالم“ ہونے کا دعوی نہیں کر سکتا اور جو دعوی کرتا ہے وہ اس کی اپنی ذات کے متعلق نرگسیت تو ہو سکتی ہے مگر حقیقت سے اس کا کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔ سوشل میڈیا اور کیمرے کی وجہ سے آج فرقوں کی نوعیت ذرا مختلف ہو چکی ہے، اب ورچوئل فرقے اور ممبر کا دور ہے اور لمحہ موجود میں دو ورچوئل فرقے معرض وجود میں آ چکے ہیں اور دونوں مقبولیت کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں مگر بلند ترین سطح یا پہاڑ تک رسائی کے بعد آگے کیا ہوتا ہے یا ہو گا وہ قابل غور سوال ہے؟

ایک ورچوئل فرقے کا نام مفتی طارق مسعود ہے، جو اپنے فرقے کا بابوں سمیت دفاع کرتے ہیں اور دوسرا فرقہ انجینئر محمد علی مرزا کا ہے، جو بابوں کو تین طلاق دینے کے بعد رجوع کا حق بھی کھو چکے ہیں اور خود کو علمی کتابی کہتے ہیں۔ دونوں ہی اپنے اپنے یوٹیوب چینل کی ڈارلنگ اور فین کلب کی محبوبائیں ہیں اور دونوں کے مابین اپنی اپنی علمی دھاک، شان اور آن کو برقرار رکھنے کے لئے مناظرہ بازی کے نام پر ایک سال کے وقفہ کے بعد پھر سے کلپ بازیاں شروع ہو چکی ہیں۔

ایک سال پہلے کی کلپ بازی کا نتیجہ دونوں کے فالوورز اور سبسکرائبرز میں تین گنا اضافہ کی صورت میں سامنے آیا تھا اور یہ کوئی گھاٹے کا سودا ثابت نہیں ہوا تھا بلکہ ایک کامیاب ترین ”اسٹنٹ“ تھا جو دونوں نے اپنے اپنے فین کلب میں کھیلا تھا۔ اب دوبارہ سے دونوں نے آن لائن مناظرہ کا ڈول ڈال دل دیا ہے، ظاہر ہے جس کا نتیجہ تو کچھ بھی نہیں نکلے گا سوائے پیروکاروں کا ایک دوسرے کے خلاف بد زبان ہونے اور دست و گریباں ہونے کے مگر اس ہیجانی کیفیت کا فیض چینل تک ضرور پہنچ جائے گا اور اب اس کی اگلی قسط کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔

ویسے حیرت ہے جس مذہب پر اس کے پیشوا ہی آج تک متفق نہ ہو سکے ہوں وہ کفار کو بھلا کیسے قائل کر پائیں گے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آن لائن مناظرہ سے کیا کچھ مختلف برآمد ہو گا؟ کیا آن لائن مناظرہ روایتی مناظرہ بازی سے کچھ ذرا ہٹ کے نتائج دے پائے گا یا پرانی لکیر ہی پیٹی جائے گی؟ مذاہب کو اہل مذہب ایک طے شدہ حقیقت کے طور پر ایک کلوزڈ چیپٹر قرار دے چکے ہیں جسے بطور عقیدہ تسلیم کرنا ہی پڑے گا، سوال کی گنجائش کیسے پیدا کی جا سکتی ہے؟

تشریح کے اوپر تشریحات کا انبار چڑھانے سے جو روش شروع سے چلتی آ رہی ہے کیا معنی خیز نتائج برآمد ہو سکتے ہیں یا کنفیوژن کا حجم مزید بڑھ جائے گا؟ اگر آپ آن لائن مناظرہ کے ذریعے سے ”ریشنلٹی یا ریزننگ“ کا عنصر مذہب میں داخل کر کے اس رجحان کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے مگر کیا آپ اس آ زادی کے آ فٹر ایفیکٹس یا بعد میں پیدا ہونے والی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیونکہ ایک بات ذہن میں رکھیں کہ یہ ڈسکشن آپ سوشل میڈیا پر کرنے جا رہے ہیں جو مستقل طور پر انسانی ورثے کے ریکارڈ کا حصہ بن جائے گی اور مذہب میں جو امکانات کے راستے آپ کھولیں گے اس پر ہر بندہ اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کی بنیاد پر سوال اٹھائے گا کیا آپ میں ان سوالوں کو سپیس دینے کا حوصلہ ہے؟

اس ڈسکشن کے بعد آپ ایک طرح سے خود کو اوپن کر دیں گے اور آپ پر ہر طرح کے سوال کا جواب دینے کی ایک بھاری ذمہ داری عائد ہو جائے گی کیونکہ سوشل میڈیا انسانوں کا اجتماعی ورثہ ہے جس کی کوئی باؤنڈری نہیں ہے۔ بات جب تک چار دیواری میں رہتی ہے تو اپنی ہوتی ہے اور جب چار دیواری سے باہر نکل جاتی ہے تو پرائی ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے جب آپ مسجد کا روایتی ممبر چھوڑ کر سوشل میڈیا کے ورچوئل ممبر پر بیٹھ جاتے ہیں تو آپ روایتی چار دیواری سے نکل کر تمام دنیا کا حصہ بن جاتے ہیں جو ایک طرح سے سبسکرپشن کی صورت میں آپ کو چندہ دیتے ہیں۔

اس طرح آپ اخلاقی طور پر ہر شخص کے اعتراض کا جواب دینے کے پابند ہو جاتے ہیں۔ دونوں صاحبان علم کو پہلے ان نکات پر ضرور غور فرما لینا چاہیے۔ کیونکہ اہل مذہب سوال سے بہت خائف رہتے ہیں اور بہت جلد ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچ جاتی ہے۔ باقی شہرت اور اپنے اپنے علمی خمار میں دعوی کرنے کا نشہ بہت ظالم ہوتا ہے جس کا مظاہرہ آج کل یہ دونوں صاحبان علم فرما رہے ہیں مگر اس نشے میں ڈوب کر دھت ہونے سے بڑوں بڑوں کے ظرف، بلند نظری و علمیت کا پول کھل جاتا ہے اور رہا سہا تھوڑا بہت بھرم بھی عیاں ہو جاتا ہے۔

خاص طور پر ان لوگوں پر آپ کی حقیقت عیاں ہوجاتی ہے جو عقل کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر لوجک اور ریزننگ کی تنی ہوئی رسی پر چلتے ہوئے حق اور سچ کی تلاش میں نکلے ہوتے ہیں اور جب دماغ کا تالا کھلتا ہے اور سوچ کے کرشمے سامنے آنے لگتے ہیں تو پھر یہ بہکاوے اور وقتی تک بندیوں سے نہیں بہلتا، جس کا ادراک صرف اسی کو ہوتا ہے جو اس کیفیت سے گزر رہا ہوتا ہے۔ کیمرے کی آنکھ بہت ظالم اور چست ہوتی ہے جو چھوٹے چھوٹے اشارے کنائے، ایک دوسرے کو وقتی طور پر زیر کرنے کے حیلے بہانے اور لہجوں کے اتار چڑھاؤ کو انتہائی دیانت داری سے اپنی آنکھ میں محفوظ کر لیتی ہے۔ کفار کا یہ اوزار جہاں بڑے بڑے صاحب فکر و نظر کی رہنمائی کر کے ان کی فکری وسعت کو جلا بخشتا ہے وہیں یہ بڑے بڑے اہل جبہ و دستار کی زبان کے نیچے چھپے ہوئے اصل انسان کے نقاب کو بھی چند سیکنڈ میں پلٹ کے رکھ دیتا ہے۔

Facebook Comments HS