جب لائل پور ڈوب رہا تھا


صبح صبح گھنٹی بجنے پہ باہر نکلا تو میاں غلام احمد کھڑے تھے۔ بغیر تمہید کہا کہ لگاتار شدید بارشوں سے پہاڑنگ نالہ بپھر گیا ہے اور یک دم سیلاب نے سب سے پہلے نشاط آباد کو ڈبونا شروع کیا ہے۔ وہاں پھنسے ہوئے ضرورت مندروں کو نکالنے رضا کار خدام کو پہنچانا ہے آپ کار  لے کے آ جائیں۔ لاہور روڈ سے نشاط ملز کی طرف کا پورا محلہ پانی پانی تھا جو ہر لمحہ اونچا ہوتا جا رہا تھا۔ پہلے پہنچ چکے تیس چالیس خدام کے ساتھ ہم بھی شامل ہو گئے۔

گھٹنے سے لے کمر تک پانی سے گزرتے دو چار چکر لگاتے محسوس کیا کہ حالات توقع سے زیادہ گمبھیر ہیں۔ محلہ کے ٹمبر مارکیٹ میں ایک لکڑی اور آرا مشین والے دوست نے بہت سی جگہ بنا دی تھی جہاں امدادی مرکز بنایا گیا تھا۔ میں اجازت لے کے اپنی دکان پہ آیا جو چھٹیاں منانے آئے میرے بھتیجے نے کھول لی تھی۔ اپنی پوری آٹو پارٹس مارکیٹ دکان دکان جا کر حالات بتاتے سب کو خود یا اپنے ملازمین کو بھجوانے کی درخواست کی۔ ٹائر مرمت کی تینوں دکانوں والوں نے اپنے پاس پڑی پرانی ٹیوبوں میں ہوا بھری اور کاروں کی چھت ڈگی یا کھڑکیوں سے باہر لٹکائے کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے بعد بیس پچیس رضاکار میرے ساتھ پندرہ بیس ٹیوبیں لئے وہاں امدادی کاموں میں شروع ہو چکے تھے۔

اور کام میں تیزی آ چکی تھی۔ محلہ سے دیگیں اکٹھی کر رضا کاروں کے لئے متاثرین کے لئے کھانے پکانے کے لئے میاں غلام احمد اور مبارک احمد دونوں بھائیوں کی غلہ منڈی آڑھت انصاف کمپنی کا اکٹھا کردہ سامان میں لا رہا تھا اور رضاکار بزرگ پکانے اور تقسیم کرنے میں مصروف تھے۔ پانی بڑھنے کی رفتار تیز ہوتی دیکھ میاں صاحب نے ربوہ انتظامیہ سے درخواست کی۔ سڑک ابھی کھلی تھی شام چار کے لگ بھگ دو ٹرک ربوہ روئنگ کلب اور تعلیم الاسلام کالج روئنگ کلب کی آٹھ دس کشتیاں اور کشتی بان لے کے پہنچ چکے تھے۔

شہر کی انتظامیہ اب تک مختلف سکولوں کالجوں میں سیلاب زدگان کو کیمپ بنا سیلاب زدگان کو منتقل کرنے کے سامان کر چکی اور شہری ان کیمپوں میں کھانے پینے کا وافر سامان پہنچانا شروع ہو چکے تھے۔ میری مارکیٹ کے احباب تھکے ہارے کشتیاں پہنچنے کے بعد واپس آچکے تھے اور رات پڑنے سے پہلے اس محلہ سے انخلا مکمل ہو چکا تھا۔

آج کے فیصل آباد اور اس وقت کے لائل پور شہر میں انچاس سال قبل انیس سو تہتر میں آنے والا یہ سیلاب شہر اور علاقہ کی تاریخ میں آنے والا واحد سیلاب ہے اور وہ بھی کسی دریا کی دین نہیں محض لگاتار بے پناہ بارشوں کے نتیجہ میں اور وہ بھی پانی کے قدرتی بہاؤ کے لئے بنے ہوئے جگہ جگہ سے بند کیے جا چکے پہاڑنگ نالہ کے اچانک بپھر جانے سے۔ ( اگلے چند دنوں میں ملک کے اکثر حصے شدید سیلاب کی لپیٹ میں آچکے تھے۔)

اگلے دو روز میں سیلاب پہاڑنگ نالہ کی پرانی گزر گاہ اختیار کرتے موجودہ جنرل بس سٹینڈ جو اس وقت پانچ چھ فٹ گہرائی پہ تھا کو پھلانگ سٹیڈیم سے ہوتے یونیورسٹی کے ساتھ سے گزر رہا تھا مصطفے آباد کریم نگر بری طرح متاثر اور پناہ گاہوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ یہ کشتیاں اب ان علاقوں میں خد مت انجام دے رہی تھیں اور بعد میں سرگودھا روڈ پہ فریضہ انجام دیا گیا۔ میری ذمہ داری رضاکاروں اور منتقلی کیمپوں میں آنے والوں کے لئے کھانا اور ضروری اشیا پہنچانے کی تھی۔

توجہ اس طرف گئی کہ سیلاب زدگان کے تمام کیمپوں میں شہر کے مخیر حضرات اور کاروباری انجمنوں اور فلاحی اداروں شہری انتظامیہ کی طرف سے ہر ممکن انتظام خدمت کے تحت کھانے پینے کا انتظام تو ہو رہا تھا۔ مگر بچوں بزرگوں کے دودھ کی بہت ضرورت تھی، کہ اب مضافات سے رستے بند ہونے کے باعث دودھ کی کمی پورے شہر میں تھی۔ چنانچہ میاں غلام احمد اور مبارک احمد دونوں نے اس محاذ کو بھی سنبھالا۔ شہر کی ہول سیل مارکیٹ سے سوکھے دودھ کی بوریاں خرید ( فیصل آباد میں کھپت کم ہونے کی وجہ سے بہت کم مقدار ملی تھی چنانچہ جب تک جڑانوالہ کے رستے لاہور رسائی رہی وہاں سے منگوایا اور رستے بند ہونے کے بعد کچھ کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز منگوانا پڑا۔

) گول امیں پور بازار میں کریم میڈیکل ہال کے سامنے یہ دونوں بھائی صحیح فارمولا کے مطابق جو چھوٹے بچوں کے لئے مناسب ہو) دودھ تیار کر اپنی نگرانی میں دیگوں میں ابلواتے۔ ناشتہ کے بعد میں پہنچ جاتا کار کی ڈگی میں دو دیگیں باندھی جاتیں۔ کچھ سامان جنگلے پہ بندھتا چار پانچ خدام ساتھ بیٹھتے اور مختلف سکولوں کالجوں کے سیلاب زدگان کیمپوں میں پہنچتے۔ پہلے دو دن دقت ہوئی انتظامیہ کی طرف سے کیمپ میں اعلان کروایا جاتا اور درخواست کی جاتی کہ جتنا بچوں بزرگوں یا چائے کے لئے ضروری ہو اتنا ہی لیا جائے۔

خدام قطار میں آنے کی درخواست کرتے اور برتنوں میں دودھ حسب خواہش ڈال دیا جاتا۔ آج حیران ہوتا ہوں کہ کہیں کوئی ہڑبونگ یا ہجوم نہ ہوا۔ اگلے چند روز میں یہ خدمت صبح دو چکر اور شام دو چکروں پہ پانچ چھ مراکز تک پہنچ چکی تھی۔ اور میری کار شہر میں دودھ والی کار کا نام پا چکی تھی۔ بہت سے کیمپوں میں طبی امداد کے میڈیکل کیمپ ایک دو گھنٹہ فرض نبھاتے۔ کبھی ہمارے بزرگ ان رضا کاروں کی ہمت بڑھانے جاتے۔ یہ ڈیوٹی دودھ والی شاید دو تین ہفتے انجام دی جب تک کہ شہر کے اندر حالات بہتر ہو چکے تھے اور کیمپ لپیٹے جا چکے تھے۔

ایک دلچسپ واقعہ یاد آیا۔ تایا فوجی بس سٹینڈ کے اندر ایک آٹو پارٹس دکان کا سیلز مین تھا۔ وہیں رہائش تھی۔ دلچسپ گپ شپ کرنے والے اس ریٹائرڈ فوجی سے دوستی سی رہی جب تک زندہ رہا۔ اس کا فون آیا کہ پانی تو تین چار فٹ ہے مگر فون چالو ہے اور میں یہیں ہوں۔ اسی شام میاں محمد ہسپتال کے قریب قائم اپنے امدادی کیمپ گیا تو خیال آیا کہ اس کی خیریت پوچھنی چاہیے۔ دو دن کا کھانا لے اور نوجوان کو ساتھ لے تین چار فٹ پانی کراس کرتے تقریباً اندھیرا ہو چکا تھا۔

دور سے اس کی دکان کے سامنے ایک مچان سی نظر آئی۔ ہمارے ہیولے دیکھ اس کی خوفزدہ سی آواز کون ہے پوچھتے آئی اونچی آواز میں تسلی دیتے نزدیک پہنچے تو دکان کے سامنے تیل والے چار ڈرم کھڑے کر ان پہ چارپائی بچھا تایا فوجی بیٹھا تھا۔ سامنے بوتل رکھی تھی اور تایا فوجی فل ٹن تھا۔ بولا میں نے تو بس ٹیلیفون چیک کرنے کے لئے فون گھمایا تھا۔ میرے مزے ہیں روز کوئی نہ کوئی ڈرائیور آ جاتا ہے کھانا بھی لاتا ہے اور چسکا بھی اور ہم کھلے عام مست ہونے کی آزادی کا مزا لیتے ہیں۔

اس دوران تمام دریا بپھر چکے تھے تمام رستے بند اور ذرائع آمدورفت و رابطہ ختم ہو چکے تھے۔ چند روز بعد ابھی چند ہی سڑکوں پہ چلتی رکتی ٹریفک کھل رہی تھی۔ پنڈی بھٹیاں سے ماموں کا خط آیا کہ وہاں کے گرد و نواح میں سیلاب نے صورت حال بہت خراب کر دی ہے۔ کھانے اور پناہ وغیرہ کا انتظام تو کچھ ہے مگر وبائی و دیگر امراض کا پھیلاؤ بہت بڑھ رہا ہے۔ کسی میڈیکل ٹیم کا بندوبست ہو سکے تو۔ ماموں شیخ محمد حسین اب طبابت میں آچکے تھے اور انگریزی ادویات کی خاصی شد بد بھی تھی۔

پنڈی بھٹیاں کی انجمن اصلاح المسلمین کے سرگرم رکن، فلاحی کاموں میں سب سے آگے رہنے والے اور انجمن کے صدر بھی رہے تھے۔ فوراً مارکیٹ کے دکان داروں کی میٹنگ میں یہ خط رکھا۔ ایک دوست نے ملت روڈ کے ایک بہت درد مند اور مریضوں میں مقبول میڈیکل پریکٹیشنر کا ذکر کیا جو خدمت کے لئے بے چین تھا مگر وسائل نہیں تھے۔ دو دن بعد جمع شدہ رقم سے اس کی بنائی فہرست کے مطابق ادویات خرید ہمسایہ دکاندار کے بہت نیک طینت اکاؤنٹنٹ بابو صادق کے ساتھ یہ ڈاکٹر اور اس کا ڈسپنسر خدمت کے لئے پنڈی بھٹیاں جا چکے تھے۔

کوئی ایک ہفتہ بعد بابو صادق میرے پاس بیٹھے رپورٹ دیتے ماموں کا خط مجھے دے رہے تھے۔ جس میں بصیغۂ راز درج تھا کہ ڈاکٹر ڈسپنسر گو بظاہر بہت شوق توجہ سے کیمپوں دیہات میں جا علاج کر رہے تھے مگر مجھے شک گزرا کہ کہ جس انجیکشن کا اندراج مریض کو لگانے کا کیا گیا ہے، وہ نہیں بلکہ کوئی دوسرا لگایا گیا ہے۔ واپس آ سٹاک چیک کیا تو تمام قیمتی انجیکشن اور ادویات غائب تھیں اور ان کی جگہ ان امراض سے لا تعلق سستے انجیکشن اور گولیاں رکھی گئی ہیں۔

علیحدہ لے جا پوچھ گچھ پہ اس نے مریضوں پہ اس ظلم کا اقرار کیا اور کچھ حد تک برآمدگی بھی ہوئی۔ لہذا شکریہ ادا کرتے ان صاحب کو کرایہ اور کچھ تحفہ دیتے واپس بھجوایا جا رہا ہے۔ بابو صادق اور مارکیٹ کے احباب کا انجمن کی طرف سے دلی شکریہ ادا کرتے۔ میں اپنے آپ میں شرم میں ڈوب چکا تھا اور آج بھی جب کبھی یاد آتی ہے کپکپا جاتا ہوں کہ مصیبت زد گان کی جان تک کھیل جانے والے بے رحم افراد پر بھروسا کیا۔ بہر حال اس حادثہ کا ذکر مارکیٹ کے چند سرکردہ دوستوں سے کر دیا تھا۔

چند ماہ قبل ”ہم سب“ میں میری تحریر دیکھ ریٹائرڈ انجینئر مرزا ظفر اقبال نے رابطہ کرتے پرانی یادیں چھیڑتے میری کار کی یہ تصویر بھیجی تھی، جو میرے پاس نہ تھی۔ ترکی کے حالیہ سفر سے واپس آتے میاں مبارک احمد کی طرف سے اپنے پوتے کے ولیمہ میں شرکت کا کارڈ پڑا تھا۔ شدید بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں اور دل کھول عوام کی طرف ہر ممکن امداد کی کوشش کے دوران کوٹ ادو کے نوجوان فعال بہت دردمند بساط سے بڑھ خدمت خلق کرنے والے صحافی کے فیس بک پر ایسی ہی کالی بھیڑوں کا ذکر آیا تو یہ درد پھر تازہ ہوا۔

جہاں پاکستان کی تاریخ کی بدترین بارش کی ہولناک تباہ کاریوں کے ساتھ عامۂ الناس کے دل کھلنے اور بے پناہ قربانی اور خدمت کی خبروں، ویڈیوز اور مناظر دل دہلایا اور گرمایا، وہاں کراچی سے چلے امدادی سامان سے بھرے ٹرک کے سیلاب زدگان تک پہنچ پانے سے پہلے گھٹیا لوگوں کے ہاتھوں لٹ جانے، وزیر صاحب کے کشتی میں بیٹھے سیلاب زدگان کے مصیبت کے نظارے کو اٹلی اور وینس کی طرح کا دل خوش کن منظر قرار دینے، ایک انجلینا جولی بنی عوامی لیڈر کے جنوبی پنجاب میں ایک متاثرہ خاتون کو گلے لگاتے دکھاتی ویڈیو کے بعد اسی خاتون کے ایک یوٹیوب چینل پر واویلا کہ ہمیں امداد کے نام پر بلایا گیا اور صرف اسے ہاتھ پھیر پورے ہجوم سے بے پروا دوڑ جانے پر روتے دہائی، ایک وڈیرے کے امدادی سامان گھر لے جاتے پکڑے جانے اور سرکاری عمال سے چھپائے گئے خیموں کا ذکر سمیت کچھ واقعات اور پرانے زلزلہ اور سیلابوں کے دوران کیے غبن اور ظلم اور جعلسازیوں کے دہرائے جاتے قصے یہ احساس دلانے لگے کہ کاش پچپن سال سے سیاست اور پیارے مذہب کو بدنام کرنے والے ملؔا کے گٹھ جوڑ اور کبھی نورا کشتی اور مفاد پرستی اور بڑھتی جاتی کرپشن قعر مذلت میں گرتے جاتے گڑھے کو گہرا کرتے جاتے اس معاشرہ میں مصیبت زدگان کی امداد کے لئے نکل چکی قوم میں ابھی ایسی دکھ کی گھڑی میں اکٹھے یک جان ہو کر قربانی کرنے کا جذبہ تو موجود ہے، بس اسے اندھیروں سے نکال لانے والی ایسی روشنی کی لہر اور ایسی ندا کی ضرورت ہے جو کوہ ندا سے آتی پکار کی طرح اپنی باہوں میں سمیٹے اس قوم کو اس راستے پہ ڈال دے جو ہادی برحق ( ﷺ ) نے سمجھایا اور جو اس مملکت کے وجود کا خواب تھا۔

ہاں، رات ولیمے کی دعوت میں میں میاں مبارک احمد بھی تھے میاں غلام احمد کے بچے بھی تھی، یورپ سے آئے دو چار اور چہرے بھی مجھے پہچان اکٹھے انیس سو تہتر کے سیلاب کی کہانیاں دوہرا رہے تھے۔ بس میاں غلام احمد نہیں تھے کہ یہ نافع الناس خود ہمہ تن خدمت اور دوسروں کو خدمت پہ لگا سکنے والا خوبصورت خوب سیرت انسان اسی کی دہائی کے اوائل میں ہی اچانک کینسر کا شکار ہوتے خدا کے حضور حاضر ہو چکا تھا۔

Facebook Comments HS