گھبرانا بھول گئے
اب کوئی نہیں کہتا گھبرانا نہیں، لیکن عمومی حالات کچھ ایسے ہی بن چکے ہیں کہ اکثریت اس جملے کی منتظر ہے، چاہے گھر کا بڑا ہوا، ملک کا حکمران ہو، کوئی صالح بزرگ ہو، سماجی، معاشی اور کسی حد تک مجموعی سیاسی صورتحال کسی طور تسلی بخش نہیں ہیں۔ سیاست شاید ایسے ہی رہے گی، کیونکہ اس کا چلن اب بدل گیا، اس کی اخلاقیات اور ضابطے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ سماجی طور طریقے بھی راہیں بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ پریشان تو پہلے ہی تھے، کبھی کورونا، کبھی لاک ڈاؤن، کبھی تنخواہوں میں کٹوتی، روزگار کے چھن جانے، مہنگائی اور نہ جانے کیا کچھ نہیں گزرا عوام کے ساتھ پچھلے چار برسوں کے دوران، ایک طبقے اور سوچ کا بھرم بھی ٹوٹ گیا کہ ناتجربہ کاری اور نا اہلی کی قیمت چکانے کے بعد صلاحیتوں کے دعویدار معاملات درست کر دیں گے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا پر ستاروں کا حال جاننے والی پاکستانی قوم پے درپے پٹرول، بجلی، اشیائے ضروریہ کے مہنگے ہونے پر محض کڑھتے رہے مگر بڑے حوصلے والے نکلے وہ گھبرائے نہیں، قدرت نے ان سے مزید آزمائشیں لینا تھیں، کورونا کو ابتداء میں سازش کہنے والے بھی خاموش ہو گئے، اب آسمان سے توقع سے زیادہ برسنے والے بادل نے حالات کے اچھے ہونے کی امیدوں پر جیسے اوس ڈال دی۔ تاریخ کے بدترین سیلاب نے پھر سب کچھ پلٹ دیا۔ معیشت پہلے ہی سنبھلنے کی کوشش میں تھی مگر گل فیر تے پے گئی،
خبروں میں وہی جملے، کورونا کے وار جاری، وائرس کے حملے جاری، سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، ہلاکتوں کی تعداد بڑھ گئی۔ تیسرا برس چل رہا ہے پاکستان ان خبروں سے باہر نہیں نکل سکا، دوسری جانب چھوڑوں گا نہیں، اندر کردوں گا، چور، نالائق کی گونج، فلاں ادارے کی مداخلت برداشت نہیں ہوگی، ادارے اپنے دائرہ کار میں رہیں، ریاست بہتر فیصلہ کرے گی۔ ایسے بیانات اور پھر ان کے نتیجے میں منتخب اور غیر منتخب اداروں میں ہلچل، منظر تبدیل ہونے کا عمل بھی جاری۔
ہم لوگ گھبرائے نہیں، اپنی پسند کے بیان پر واہ واہ کرتے اور مخالف کی درگت بناتے رہے۔
حالات ہیں کہ سدھرنے کا نام نہیں لے رہے، میڈیا میں بھی دو فریق بن گئے، ایک نے اداروں کا پلو جبکہ دوسروں نے اپنی راہ پکڑ لی۔
ہم اتنے سمجھ دار ہیں کہ ابھی تک سمجھ نہیں آپا رہا کہ ہمارے ساتھ کس کس نے کیا کیا نہیں کیا۔ سب ہی ہمدرد اور خیرخواہی کے دعوے دار ہیں۔ سیاسی جماعتیں ہوں یا ادارے، اب یہ حال ہے کہ معلوم نہیں ہمارا امام کون ہے۔ سیاستدان اور اداروں کے ملازم بھی ایک جیسی اور ویسے لہجے میں بات کرتے ہیں۔ باہر سے امداد لینی ہو یا سیلاب متاثرین کی مدد کرنا ہو، سبھی کہتے ہیں ہم کر رہے ہیں۔ اچھا بننے کی دوڑ میں سبھی لگے ہیں۔ لوگ پریشان ہیں، برے حال میں ہیں۔ لیکن اب انہیں کوئی نہیں کہتا گھبرانا نہیں، کیونکہ اب سبھی جانتے ہیں، عوام گھبرانا جیسے بھول گئے ہیں۔


