غزل گائیکی اور آج کا پاکستان


غزل گائیکی کی تاریخ قریبا نصف صدی سے زیادہ کے عرصے پر محیط ہے۔ اس کی جنم بھومی یہی خطہ ہے جو اب بھارت اور پاکستان کہلاتا ہے۔ ہر دو ممالک کے لوگوں نے اس صنف گائیکی کو بہت پسند کیا اور مختلف ادوار میں غزل گائیکوں نے اپنے فن کا لوہا منوایا جن میں بیگم اختر، استاد امانت علی خاں، نصرت فتح علی خاں، مہدی حسن خاں، استاد غلام علی خاں، ملکۂ ترنم نور جہاں، فریدہ خانم، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، ملکہ پکھراج، ہری ہرن، گل بہار بانو، ٹینا ثانی، عابدہ پروین، جگجیت سنگھ، چترا سنگھ وغیرہ کے نام سر فہرست ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس صنف گائیکی میں کمال حاصل کیا۔ ان تمام گائیکوں نے اپنے وقت کے با کمال شعراء کی غزلیں گا کر انہیں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ مثال کے طور پر استاد امانت علی خاں نے خواجہ حیدر علی آتش کی خوبصورت غزل ”یہ آرو تھی تجھے گل کے رو برو کرتے“ کو اپنے منفرد انداز میں گا کر ہمیشہ کے لیے اپنے نام کر لیا۔ ان کے علاوہ استاد مہدی حسن نے فیض ؔ، فرازؔ، قتیلؔ، پروین شاکر اور دیگر مقبول شعرا کی غزلیں گا کر شہنشاہ غزل کا لقب اپنے نام کیا۔

استاد غلام علی خاں نے تو دونوں ممالک کے سینما کو ایسی ایسی غزلیں اور گیت دیے کہ آج تک ان کی چاشنی اور موسیقیت کانوں میں رس گھول رہی ہے۔ ملکۂ ترنم میڈم نور جہاں نے تو ناصر کاظمیؔ کو ایسا گا دیا کہ اور غزلوں اور گیتوں کا کیا ذکر کرنا۔ پڑوسی ملک بھارت کی بات کی جائے تو لتا جی نے نصف صدی سے زیادہ اپنی سحر انگیز آواز کے ذریعے ایک عالم کو مسحور کیے رکھا۔ آشا بھوسلے اور غلام علی کے ڈوئیٹ کس کو بھول سکتے ہیں؟

جگجیت سنگھ نے تو بوڑھوں کو جوان کر دیا اپنی مدھر اور دھیمی گائیکی سے۔ ہری ہرن بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور فلموں میں گانے کے بعد غزل کے افق پر ایسے جلوہ فگن ہوئے کہ دو عشروں سے ماہ تاباں کی مانند چمک رہے ہیں۔ ان میں ایک ایسا نام بھی شامل ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی گائیکی کے جملہ کمالات سے ششدر کر دیا اور وہ نام ہے استاد نصرت فتح علی خاں کا۔ کلاسیکل ہو قوالی ہو، غزل ہو یا پاپ، اس نے ہر میدان میں وہ وہ جوہر دکھائے کہ آنے والی کئی صدیاں اس فن میں اس کی مرہون احسان رہیں گی۔

پڑوسی ملک میں موسیقی اور گائیکی کا چلن بھرپور انداز سے روا ہے اور ہر سال انڈین آئیڈل اور اس نوعیت کے دیگر رئیلٹی شوز دیکھنے کو ملتے ہیں جو پوری دنیا کے عوام و خواص اور سامعین موسیقی کے ذوق کا مرکز بنتے ہیں۔ سرکاری سطح ہو یا عوامی، فلم ہو یا تھیٹر، موسیقی کا عنصر بھرپور انداز سے ہر شعبے میں شامل دکھائی دیتا ہے۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں آلاپ بھرتے، راگ داری کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اپنے گرو، استادوں کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

انڈین آئیڈل کے ایک آڈیشن کا احوال سنیے کہ ایک سترہ سالہ نوجوان منچ پر آیا ججز کو پرنام کیا اور گانا شروع ہوا۔ گانا ختم ہوا تو ججز اپنی نشستوں سے اٹھے۔ تالیاں بجا کر اس کو داد دی اور اس کے استاد، گرو کا پوچھا۔ نوجوان نے کہا کہ میں فلاں صاحب سے موسیقی کی شکشا لے رہا ہوں اور وہ آج آڈیشن میں میرے ساتھ ہی آئے ہوئے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ ججز نے اس کے گرو کو اندر آڈیشن روم میں لانے کا کہا۔ گرو جی اندر آئے تو ججز نے اٹھ کر ان کا خیر مقدم کیا ان کی کلا اور شاگرد کی تعریف کی اور نیک تمناؤں کے ساتھ انہیں رخصت کیا۔

ایک نوجوان رضوان خان جب اپنا ہارمونیم اٹھائے آڈیشن روم میں داخل ہوتا ہے تو اس کی آمد سے ہی ججز متاثر ہو کر اس کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ عزت و احترام سے بات کرتے ہیں اور جب یہ سنتے ہیں کہ رضوان ایک درگاہ پر بھی گاتا ہے تو عقیدت سے اپنے سر کو جنبش دیتے ہیں۔ رضوان نیچے بیٹھتا ہے اپنا ہارمونیم سیدھا کر کے راگ کوشک دھنی میں تان لگاتا ہے اور ٹھمری ”یاد پیا کی آئے“ گانا شروع کرتا ہے اور اس دوران ایسی ایسی جگہیں لیتا ہے کہ کمال۔

گائیکی ختم کرتا ہے تو ججز میں سے ایک جج اسے اس کے پاس آ کر گلے ملتے ہیں اور داد سے نوازتے ہیں۔ خیر بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ فنون ادب سے شروع ہو کر ادب پر ختم ہوتے ہیں اور موسیقی تو فطرت کی اتنی دلنشین اور دل آویز دین ہے کہ اس بارے میں جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ اس سارے عمل اور رویے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نئی نسل میں اس صنف کے لیے ایک طرح کی اہمیت اور عقیدت کے احساسات پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ سیکھنے کی جانب راغب ہوتے ہیں۔ یہ دراصل وہ لیگیسی ہے جو ہمارے بڑوں کا طریق رہا ہے۔ لیکن افسوس۔

غزل گائیکی میں پاکستان کے فنکاروں نے جو نام کمایا وہ سب کے سامنے ہے۔ بات یہ کرنا چاہ رہا ہوں کہ ہمارے فنکاروں نے جس طرز اور معیار کا کام کیا اور گائیکی میں جس اقدار کی بنیاد رکھی آج وہ اقدار اور چلن کہاں ہے؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان مشاہیر کے بعد بھی یہ سلسلہ اسی آب و تاب کے ساتھ جاری رہتا۔ نوجوان اس صنف کی باقاعدہ تربیت حاصل کرتے اور پوری دنیا میں اپنے فن سے اپنے ملک کی ترجمانی کرتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی نوجوان کلاسیکی و نیم کلاسیکی موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اور چند ایسے نام بھی ہیں ہمارے ہاں جو اس فن کو لے کر بھرپور انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں پاک بھارت کے مشترکہ مقابلۂ موسیقی میں پاکستانی نوجوان گائیکوں نے بھی اپنا کمال دکھایا جن میں رضوان علی اور ملازم حسین سر فہرست ہیں۔ لیکن مجموعی طور پہ یہ فن کہاں دکھائی دیتا ہے؟ غزل گائیکی کی محفلیں بڑے پیمانے پر برپا کیوں نہیں ہوتیں؟ جیسا کہ پہلے ہوا کرتی تھیں۔ پاپ، جیز اور راک میوزک کے کنسرٹ تو بھرپور ہو رہے ہیں جو دراصل ہماری روایت کا حصہ ہی نہیں۔ آج ہم رونا کیوں رو رہے ہیں اپنی ثقافت کے معدوم ہونے کا؟ ہم نے کیا ہی کیا ہے اپنے ثقافتی حوالوں کی بقا کے لیے؟ کیا ہم سنجیدہ بھی ہیں اس حوالے سے؟ یا بس راک اور میٹل کی کان پڑی آوازوں میں ہمارے دماغ ماؤف ہو چکے ہیں اور ان کے علاوہ کوئی آواز ہمارے دماغ تک پہنچ ہی نہیں رہی۔

میرا ایک عرصے تک راولپنڈی آرٹس کونسل سے تعلق رہا اور ابھی تک ہے لیکن اس تمام عرصے میں میرے کان ترس گئے کسی سٹوڈنٹ سے کوئی غزل سننے کے لیے۔ کوئی ایسا نوجوان نہ دیکھا جو اس صنف میں بھی دلچسپی رکھتا ہو۔ جس کو دیکھو بس انڈین فلموں کے گانے گانا چاہتا ہے اور سٹیج پر چڑھ جانا چاہتا ہے۔ سیکھنے والی بات تو ہے ہی نہیں یہاں۔ ایک اور اہم ترین نکتہ یہ بھی اجاگر ہوتا ہے کہ غزل کا تعلق شاعری سے ہے، شاعری کا تعلق زبان سے ہے۔

آج ہماری ”اردو“ زبان کہاں ہے؟ ہم زبان کو محفوظ نہ رکھ سکے غزل گائیکی کو کیا رکھیں گے۔ لیکن آج بھی ایک راہ موجود ہے زبان کی بقا و سلامتی کے لیے کہ ہماری نئی نسل جو موسیقی و گائیکی میں دلچسپی رکھتی ہے وہ متذکرہ بالا مشاہیر کے فن اور احوال پر بھی ذرا نظر ڈال لے اور آج اپنے فن اور احوال کا جائزہ بھی لے لے۔ فرق سامنے آ جائے گا۔ پیارے ملک کی تنزلی میں مجھے تو یہ بھی ایک محرک محسوس ہوتا ہے۔

فیصلہ آپ کا ۔ سوچیے گا ضرور

Facebook Comments HS