ہاں اعمال تو ہمارے خراب ہیں!
اس وقت ملک کے طول و عرض میں پانی بھرا ہوا ہے اور سیلابی ریلے ہیں کہ شہر شہر گاؤں گاؤں سڑکیں، پل، مکانات، ہوٹلز، کھیت کھلیان، جانور، مال مویشی اور لوگوں کو بہا کے لے گئے ہیں۔ ہر جانب پانی ہی پانی اور بے گھر افراد کی ویڈیو اور تصاویر میڈیا میں دردناک، قابل افسوس اور قابل رحم انداز میں دکھائی جا رہی ہیں۔ وقت کے کرتا دھرتا عوام کی دل جوئی کے لئے متاثرین کے پاس جا بھی رہے ہیں۔ ملک میں جگہ جگہ عوامی امداد کے کیمپ بھی لگے ہوئے ہیں اور عوام دل کھول کر اس کار خیر میں حصہ بھی لے رہے ہیں۔
بیرونی امداد آ بھی رہی ہے اور مزید آنے کے اعلانات بھی ہو چکے ہیں۔ اور ان نقصانات کا تخمینہ کوئی لگ بھگ پینتیس ارب روپے لگایا جا چکا ہے۔ امداد آ بھی رہی ہے اور آ بھی چکی ہے یہ اور بات کہ وہ مستحقین تک پہنچ رہی ہے یا نہیں۔ اور جو فنڈ اکٹھا ہو چکا ہے وہ گزشتہ کی طرح مستحقین پر خرچ ہو گا یا نہیں۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن جو یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ جو سیلاب ملک کے طول و عرض میں آیا ہے یہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔
لیکن یہ کوئی نہیں کہتا یا یہ کوئی مخصوص نہیں کرتا کہ کن اعمال کا نتیجہ ہے۔ دعا توہم کر ہی لیں گے، اللہ سے معافی بھی مانگ لیں گے لیکن یہ کون کہے گا کہ وہ کون سے اعمال ہیں جن کی وجہ سے یہ سیلاب امڈ آیا۔ یہ کون قبول کرے گا یا سینے پر ہاتھ رکھ کر کہے گا کہ ہاں یہ ہمارے اعمال ہیں کہ سارا سال مون سون کا انتظار کرتے ہیں اور یہ ہر سال دو مہینے ہمارے لئے آفت کے ہوتے ہیں لیکن اس آفت سے عافیت کے لئے ہم باقی دس مہینے کیا تدارک کرتے ہیں۔
یہ کون مانے گا کہ ہاں یہ ہمارے اعمال ہی کا نتیجہ ہے کہ ہم ہر سال سیلاب کے بعد اس ملکی اور غیر ملکی امدادی فنڈ کو انفراسٹرکچر پر استعمال کرتے ہیں لیکن وہ پھر سیلاب بہا کے لے جاتا ہے۔ یہ پل ہر سال بنتے ہیں یہ گھر ہر سال تعمیر کرائے جاتے ہیں یہ ہوٹل ہر سال کھڑے کیے جاتے ہیں یہ دریاؤں کے کنارے آبادی ہر سال ہٹائی جاتی ہے یا پھر ہر سال بنائی جاتی ہے لیکن وہ ہر بار سیلاب کی نظر ہوجاتی ہے۔ ہمارے اعمال اتنے پختہ نہیں ہوتے ہیں کہ وہ ان سیلاب کے تھپیڑوں کو سہ سکے۔
ہم ہر سال شہروں کے اندر سڑکوں پر کارپٹ یا لیپا پوتی کرتے ہیں لیکن ہر سال وہ ان بارشوں اور اربن فلڈنگ میں مزید کھڈے بن جاتے ہیں۔ ندی نالوں کو ہر سال صاف کر دیتے ہیں لیکن پھر بھی وہ غلاظت سے ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ تمام غلاظت مون سون میں گلیوں کوچوں میں پھیل جاتا ہے۔ گٹر ہر سال صاف کیے جاتے ہیں، سیوریج کے پائپ ہر سال ڈلوائے جاتے ہیں لیکن ہر مون سون میں وہ ابل آتے ہیں۔ پتہ نہیں ہم کس طرح کے ڈیم بناتے ہیں کہ وہ بارشوں کا پانی بھی اپنے آغوش میں نہیں سما سکتے بلکہ قریبی آبادی پر اپنا سارا غیض غضب نکال دیتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ اعمال صرف غریب غربا اور بے سہارا لوگوں کا ہی کیوں خراب ہوتے ہیں کہ سیلاب کے نظر ہوجاتی ہیں۔
مون سون سے پہلے ہم فخر سے دعوے کرتے ہیں کہ ہم نے اس بار بلوچستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے لئے اتنے ڈیم بنائے لیکن ان ڈیم کے ٹوٹنے اور تباہی کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا۔ ہم اپنے اعمال میں اتنے کھرے ہیں کہ اپنے فصلوں کو بچانے کے لئے سیلاب کا رخ آبادی کی طرف موڑ لیتے ہیں۔ ہم پیش آمدہ مون سون کے حوالے سے پہلے سے بتا دیتے ہیں کہ امسال زیادہ بارشیں ہوں گی اور سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے اور اس خطرے کے پیش نظر تیاری بھی بھرپور ہوتی ہیں لیکن عین وقت پر پھر تیاری کیا کہ کوئی بھی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔
ہمیں ببانگ دہل اعتراف کرنا چاہیے کہ ہاں ہمارے اعمال خراب ہیں ہمیں اپنے اعمال درست کرنے چاہیے اگر ہم اپنے اعمال درست کریں تو آئندہ اس طرح کا کوئی سیلاب ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ہمیں آسمان کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ ہم قرضوں اور خیرات کے لوگ نہیں ہیں بلکہ ہم خیرات، زکواۃ اور عطیات دینے والے لوگ ہیں۔ لیکن کیا کریں جب لوگ اتنے گر جائیں کہ اپنے پیاروں کی معذوری کو دھندا بنا کر ان سے بھیک منگوا کر نہ صرف ان کو بلکہ خود کو بھی پالتے ہوں تو اس سیلاب کا راستہ کون روکے۔ یا وہ کیوں کر معذوری اور خیرات کو برا کہے یا برا سمجھے یا خیرات کے سوتوں کو بند باندھیں۔


