قدرتی آفات اور عذاب الہی کی منطق


کسی بھی معاشرے میں دو قسم کے طبقات پائے جاتے ہیں، اول وہ جو اپنی زندگی کو اس کی موجودہ حالت کے ساتھ اپنا مقدر مان کر جیتے ہیں اور دوسرا وہ جو اس کے اوپر سوال اٹھا کر ان معاملات کو حل کرنے کی تراکیب سوچتا ہے۔ کسی بھی مظہر یا فعل پہ سوال اٹھانے والا شخص وہ خوش نصیب انسان ہے، جو عقل و فہم سے مالا مال اور سوچنے سمجھنے کی قوت سے متصف ہے۔ اگر وہ ان اوصاف سے محروم ہے تو وہ کبھی بھی سوال کرنے کی بابت نہیں سوچے گا، بلکہ بھیڑ چال کے ہمراہ ہو کر حیوانات کی سی زندگی گزارتا ہوا، ایک دن قبر کے دھانے تک جا پہنچے گا اور پھر مٹی میں مل کر مٹی ہو جائے گا۔

مگر وہ وجود جو اس صرف زندہ رہنے پر قانع نہیں ہے، بلکہ اپنے سوالات کے جوابات کو حاصل کرنے کی کھوج میں بے چین ہے، وہ مر کر بھی امر رہتا ہے اور اس کا وجود مٹی میں ملنے کے باوجود بھی صحیح سلامت رہتا ہے۔ اس کی زندگی جدوجہد سے عبارت اور اس کی جدوجہد اس کے متبعین کے واسطے مشعل راہ کا کام دے کر اس جیسے کئی انسانوں کو صحیح سوچنے اور عمل کی راہ پہ چلانے کے واسطے کام آتی ہے۔

زمانہ قدیم سے سیلاب، تیز آندھی، آسمانی بجلی کا چمکنا، سورج اور چاند گرہن کا لگنا، زلزلہ سے زمین کا دھنسنا، وبائی امراض کا پھوٹنا وغیرہ جیسی آفات موجود ہیں، جنہوں نے ہر زمانے اور معاشرے میں انسانوں کی اکثریت کو مشکلات سے دوچار کیے رکھا اور ہنستے بستے گھروں کو اجاڑ کر ان کے اندر ویرانی کے ڈیرے ڈال کے چلی گئیں۔ مگر ہر دور کے اندر ایسے انسان ضرور موجود رہے ہیں، جو اس کو قدرت کا عذاب یا گناہوں کی سزا سمجھنے کی بجائے، ان کے حقیقی عوامل کی طرف سوچنے پر مجبور ہوئے تاکہ اپنے معاشرے کو مستقبل میں ان سے بچایا جا سکے یا ہونے والے نقصان کی شدت کو کم کیا جا سکے۔ اگر یہ لوگ ایسا نہ سوچتے تو آج ڈیمز، ویکسینز، حفاظتی انجیکشنز، علم ہیئت، رصد گاہیں، موسمیات کے آلات اور دیگر دفاعی تدابیر کا نام بھی کسی کے ذہن میں نہ ہوتا اور دنیا ہر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایک نئی مشکل سے دوچار ہوتی چلی جاتی۔

دنیا میں تحقیق کی کثرت اور پر اسرار مظاہر کی کھوج نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ محض ہر آفت اور بلا کا مدعا قدرت پہ ڈال کر، اپنے آپ کو بے فکر کر لینا کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ قدرت یا نیچر ہی نے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ ہم ان آفات و بلاؤں کا تدارک کرنے کے واسطے پیشگی اقدامات اٹھا کر، ان مسائل سے نبرد آزما ہوں۔ مگر ہمارا پاکستانی معاشرہ چونکہ باقی دنیا سے اس لحاظ سے ممتاز ہے کہ یہاں ایسی کسی تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی، بلکہ آج بھی ہر آفت کو تقدیر الہی یا عذاب الہی سے نتھی کر کے عوام کو صبر، توبہ اور اللہ سے رجوع کی تلقین کے نام پر بے وقوف بنا کر ان کو ڈھارس اور تسلی دے دی جاتی ہے تاکہ لوگ اصلیت کی بابت سوال ہی نہ اٹھا سکیں۔ کیونکہ اگر سوال اٹھیں گے، تو کئی پردہ نشینوں کے چہرے سے نقاب اتر جائیں گے اور پھر ان کے زہد، بزرگی اور تقوی ٰ کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آ جائے گی۔

پاکستان میں سیلاب کا آنا معمول کی بات ہے اور یہ ہر سال نہ سہی مگر کچھ عرصے کے بعد باقاعدگی سے آتے ہیں۔ تاہم جب بھی سیلاب آتا ہے، یہ دو طرح کے نقصانات کا باعث بنتا ہے۔ ایک نقصان وہ جو سیلاب کے دوران ہوتا ہے اور دوسرا جو سیلاب کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہوتے ہیں۔ اور یہی حال زلزلہ کا بھی ہے جس کے باعث نظام زندگی آن واحد میں تلپٹ ہو کر رہ جاتا ہے اور لوگ اپنی آنکھوں کے سامنے وحشت زدہ آنکھوں اور حسرت بھری نگاہوں سے اپنے باغیچوں کو مٹی کے ڈھیر میں بدلتا ہوا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

پھر یہ بھی قدرت کا تماشا دیکھیے کہ اس کی لپیٹ میں وہ طبقہ آتا ہے جو پہلے ہی نان جویں کی خاطر ہر طرح کے مصائب جھیل کر زندگی کو جبر مسلسل کی مانند کاٹ رہا ہوتا ہے۔ مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ جب یہ مذہب فروش، قبر فروش، اسلاف فروش، مال حرام کے پروردہ، سرمایہ داریت کے ترجمان، جبے، قبے اور مخصوص ہیت کذائی رکھنے والے درد کی نعمت سے محروم، انسانیت کے شرف سے گرے ہوئے ادنی چوپایوں سے بھی حقیر، کس بے حسی اور ڈھٹائی کے ساتھ آ کر یہ بیانات داغتے ہیں کہ ان آفات کی بنیادی وجہ تمہارے (نہ کہ ہمارے ) اعمال ہیں۔

اے کاش! ان بے ضمیر انسانوں اور غریب کے خون کو نچوڑنے والے گدھ نما انسانوں سے کوئی پوچھے کہ یہ آسمانی بجلی کسی سرمایہ دار کے گھر کو کیوں نہیں جلاتی؟ اس ظالم کو کیوں نقصان نہیں دیتی جو ٹیکس چوری کر کے، اس ملک کی اکثریت کا پیسہ اپنے جیبوں میں ٹھونس رہا ہے؟ یہ سیلاب اور زلزلے ان مکانات کو کیوں منہدم نہیں کرتے، جن کی بنیادوں میں ظلم کا پیسہ شامل ہے اور جو کسی کا حق دبا کر حاصل کیے گئے ہیں۔ یہ عذاب ان گدی نشینوں کو کیوں کچھ نہیں کہتا جو غریب کو مذہب کے نام پر جبر کی تعلیم دے کر، اس کو سوچنے کی قوت سے محروم کرتا ہے۔

آخر یہ آفات قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہمارا ہی مقدر کیوں؟ دوسروں کو توکل کی تعلیم دے کر، خود بلٹ پروف گاڑیوں اور محافظوں کے سائے میں چلنے والے ان بد بخت بھیڑیے نما انسانوں کو کبھی توفیق ہوئی کہ وہ ان روتے ہوئے لوگوں کے آنسوں ہی پونچھ لیں۔ آنسو پونچھنا تو درکنار، الٹا انہی کو مورد الزام ٹھہرا کر یہ ان کے زخموں پر جو نمک پاشی کرتے ہیں، کیا اس سے زیادہ شقاوت قلبی اور ہو سکتی ہے؟

کیا دنیا میں عذاب کے مستحق صرف ہم ہی رہ گئے ہیں؟ کیا باقی دنیا ان اعمال سے پاک ہو چکی کہ وہاں اب یہ آفات رونما نہیں ہوتیں؟ کیا باقی دنیا بھی آفات کے بعد یونہی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی ہے یا اپنی عقل و فہم سے اس کے سدباب کی بابت سوچتی ہے؟ یہ بات کہہ کر جو تم لوگوں کی دل آزاری کرتے ہو، کیا اس کے گناہ کا اندازہ ہے تمہیں؟ اگر کسی کے آنسو نہیں پونچھ سکتے ہو تو ان کا ٹھٹھا تو مت اڑاؤ، ان کی بے بسی پہ ہنسو تو مت۔ اگر ہمدردی کے دو بول بولنے کی توفیق نہیں ہے تو کم سے کم اپنے غلاظت بھرے منہ بند رکھو تاکہ تعفن کم پھیلے اور لوگ آسانی سے سانس لے سکیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments