رائے ریاض حسین کی ”رائے عامہ“ کے بارے میں میری رائے
مجھے یاد نہیں رائے ریاض حسین سے کب دوستی کا آغاز ہوا پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کا شاید ہی کوئی افسر ہو جس سے میری دوستی نہ ہو لیکن رائے ریاض حسین کے بارے میں اتنا یاد ہے جب میاں نواز شریف کے اقتدار کا آغاز ہوا تو ان کے ارد گرد جھنگ کے جس قد آور وجیہہ جوان سے علیک سلیک ہوئی وہ رائے ریاض حسین تھا پھر اس علیک سلیک نے دوستی کی شکل اختیار کر لی رائے ریاض حسین میں رکھ رکھاؤ ہی تھا کہ وہ دنوں میں کسی شخص کا اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔ مجھ اور ان میں ایک قدر مشترک ہے۔ وہ نواز شریف کے عشق میں مبتلا ہیں جب کہ ہماری بھی حالت ان سے کچھ مختلف نہیں۔ وہ ایک سرکاری ملازم کی حیثیت سے نواز شریف کے گرویدہ تھے۔ میں ایک آزاد صحافی کی حیثیت سے نواز شریف کی محبت میں مبتلا ہوں
یہ محبت یک طرفہ نہیں میاں صاحب نے بھی اسی جوش و جذبہ سے محبت کا اظہار کیا جتنا ہم کرتے آرہے ہیں۔ رائے ریاض حسین بھی حلقہ احباب نواز شریف کے اہم رکن ہیں جب تک وہ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے اعلیٰ افسر کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی ادا کرتے رہے ان سے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں اکثر و اوقات ملاقات ہوتی رہتی تھی لیکن اے پی پی کے ڈائرکٹر جنرل کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ان سے کم کم ہی ملاقات ہوتی تھی۔
وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھ گئے قرطاس و قلم سے اپنا رشتہ برقرار رکھا اور چند ماہ کی دن رات کی کاوش سے اپنی خود نوشت تحریر کر لی ایک دن اچانک ان کا فون آیا کہ وہ اپنے خود نوشت ”رائے عامہ“ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ وہ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے ایک سینئر ریٹائرڈ افسر غلام حیدر اور ملک کے ممتاز صحافی اسلم خان کے ہمراہ میڈیا ٹاؤن میں غریب خانہ پر وارد ہو گئے۔ غلام حیدر اور اسلم خان میڈیا ٹاؤن میں میرے پڑوسی ہیں۔ رائے ریاض حسین نے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی شائع کردہ دیدہ زیب کتاب مطالعہ کے لئے پیش کی تو میں نے بھی رائے ریاض حسین، غلام حیدر اور اسلم خان کو اپنے کالموں کا مجموعہ ”روداد سیاست 3۔ 2۔ 1“ پیش کیا۔ کتاب دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ اس کتاب کی طباعت میں علامہ عبدالستار عاصم کی ذاتی دلچسپی بھی شامل ہے۔
رائے ریاض حسین کی خود نوشت نصف سے کچھ زائد صفحات اپنے بچپن، زمانہ طالبعلمی اور خاندانی پس منظر بارے میں ہیں جب کہ کچھ صفحات میں نواز شریف، شہباز شریف، چوہدری نثار علی خان، میر ظفر اللہ جمالی، چوہدری شجاعت حسین بیگم عابدہ حسین اور کیپٹن محمد صفدر کے ساتھ سرکاری ملازمت کے دوران گزرے لمحات اور دیگر مشاہدات کو قلمبند کیا ہے۔ انہوں نے چوہدری نثار علی خان اور بیگم عابدہ حسین کے سوا کم و بیش تمام سیاست دانوں کے بارے شاندار آراء کا ذکر کیا ہے۔
بیگم عابدہ حسین کی جاگیردارانہ سوچ اور انداز سیاست کے بارے ملازمت کے دوران ہی رائے ریاض حسین کو شاکی پایا لیکن میں ان کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ چوہدری نثار علی خان کے اندر ”تکبر اور غرور“ پایا جاتا ہے۔ میری ان سے چار عشروں سے دوستی ہے۔ اس دوران کبھی میری تحریروں سے انہیں شکایت بھی ہوئی کبھی میں ان کی سخت گیری پر نالاں ہوا لیکن میں نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ ان کے اندر تکبر پایا جاتا ہے البتہ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ ”تنہائی پسند“ ہیں۔ لوگوں سے کم کم ملتے ہیں جو ایک سیاست دان کی حیثیت سے ان کی اچھی عادت نہیں تاہم جب وہ اپنے حلقہ کے عوام سے ملتے ہیں کوئی ان کے بارے میں متکبرانہ گفتگو کا ذکر نہیں کرتا۔ ان کے چاہنے والوں کی ان تک رسائی مشکل ہوتی ہے جس سے لوگ ناراضی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ یہ بات میں بھی ان کے گوش گزار کر چکا ہوں
آپ نے تاخیر سے آنے والے ایم پی اے سے ملاقات کے بارے میں درست لکھا ہے۔ انہوں نے ایک بار اپنے ایم پی اے عمر فاروق سے تاخیر سے ملاقات کے لئے آنے پر ناراضی کا اظہار اس طرح کیا کہ اب تو میں طے شدہ ملاقات کے لئے جا رہا ہوں اگلی بار ملاقات ہو گی۔ وہ ہمیں بھی وقت کی پابندی کی تلقین کرتے اور خود بھی پابندی وقت کا خیال رکھتے ممکن ہے۔ رائے ریاض حسین نے چوہدری نثار علی خان کے طرز عمل سے منفی تاثر لیا ہو کہ وہ مغرور ہیں۔ یہ غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے۔
رائے ریاض حسین اپنی زندگی کا انتہائی قیمتی وقت اقتدار کے ایوانوں اور پارلیمنٹ کی غلام گردشوں میں گزارا ہے اگرچہ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات کو قلمبند کیا ہے لیکن اس عرصہ میں اس کے علاوہ بھی وہ کئی اور واقعات کے عینی شاہد ہیں جن کو قلمبند کرنے کی گنجائش موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی خود نوشت میں مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے چیدہ چیدہ کالموں کو بھی شامل کیا جن سے ان کی سوچ اور فکر کی عکاسی ہوتی ہے چونکہ وہ 12 اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت کے عینی شاہد ہیں لہذا انہوں نے ”کمانڈو جرنیل کی قید وزیر اعظم ہاؤس میں“ کے عنوان کالم لکھا ہے جس کی دو قسطیں 12 اور 13 اکتوبر 2010 ء کو روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوئیں۔ رائے ریاض حسین وزیر اعظم نواز شریف کے پریس سیکریٹری ہونے کے ناتے ان کے بہت قریب تصور کیے جاتے تھے۔ انہیں محلاتی سازشوں کا بھی علم تھا۔ وہ اپنی خوش نوشت کے اگلے ایڈیشن میں اپنی کتاب پر نظر ثانی کریں اور نواز شریف کی حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے والی محلاتی سازشوں کو بھی بے نقاب کریں۔
رائے ریاض حسین نے خوبصورت انداز میں اپنی ”ہند یاترا“ کو قلمبند کیا ہے۔ نئی دہلی میں قیام کے دوران انہوں نے جس طرح پروقار انداز میں پریس منسٹر کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی انجام دیے اس سے نہ صرف انہوں نے پاکستان کا وقار بلند کیا بلکہ مختلف مواقع پر اپنے اندر کوٹ کوٹ کی بھری پاکستانیت کا بھر پور اظہار کیا وہ نئی دہلی میں پاکستان کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ ان کا شمار ان پاکستانیوں میں ہوتا ہے جو اپنے ملک کی عزت و وقار پر لڑ مرنے سے بھی گریز نہیں کرتے انہوں نے بھارت جیسے پاکستان دشمن ملک میں بھی پاکستانیت کا پرچم سربلند کیے رکھا انہوں نے دیوبند میں علما ء ہند کی بیٹھک میں جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمنٰ سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم بارے میں ہونے والی گفتگو میں خاموشی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
میرا خیال ہے۔ وہاں مولانا فضل الرحمن کس مصلحت کا شکار ہوئے یا رائے ریاض حسین کو غلط فہمی ہوئی میرا مولانا فضل الرحمنٰ سے چار عشروں سے قریبی تعلق ہے۔ انہوں نے چیئرمین کشمیر کمیٹی کی حیثیت سے کشمیر کمیٹی کو مسئلہ کشمیر بارے پالیسی ساز ادارہ کی حیثیت دلانے کے لئے ریاستی اداروں سے طویل ”لڑائی“ لڑی ہے۔ ایک بار تو ناراض ہو کر گھر بیٹھ گئے تھے کہ کشمیر کمیٹی کو کام ہی نہیں کرنے دیا جا رہا تو پھر اس کمیٹی کا کیا فائدہ وہ مسئلہ کشمیر بارے کشمیر کمیٹی کو با اختیار ادارہ بنانا چاہتے تھے جس میں انہیں ناکامی ہوئی۔
رائے ریاض حسین نے اپنی خود نوشت کا نام ”رائے عامہ“ لکھا ہے۔ ممکن ہے۔ ان کو یہ نام پسند ہو لیکن اگر اسے رائے نامہ یا ریاض نامہ کا نام دے سکتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم واقعات بہت قریب سے دیکھے ہیں۔ وہ اپنی یادداشتوں کو خود نوشت کا حصہ بنا سکتے ہیں لیکن کئی واقعات کو انہوں نے نظر انداز کیا ان کا اسلوب کتاب میں دلچسپی ختم نہیں ہونے دیتا رائے ریاض حسین کی خود نوشت در اصل ان کی زندگی کی کامیابی کی کہانی ہے جسے پڑھ کر کسی ناکام شخص کو کامیابی حاصل کرنے کی جد و جہد کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
انہوں نے جہاں اپنے والدین کو ان کے سایہ تلے کامیابیوں کی طرف گامزن رہنے پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ وہاں ان اساتذہ کا بھی یاد رکھا ہے جنہوں نے انہیں کامیابی کی راہ دکھائی ہے۔ رائے ریاض حسین نے لکھی تو اپنی خود نوشت ہے لیکن انہوں جن اہم شخصیات کے ساتھ کام کیا ان کے خاکے تحریر کیے ہیں۔ اگر ان کے عنوانات تبدیل کر کے اس میں پیش آنے والے واقعات کی سرخیاں بناتے تو اس میں تجسس بڑھ جاتا اسی طرح کتاب میں شامل کیے گئے کالموں کی بجائے مواد بڑھا دیتے تو کالموں کا الگ مجموعہ شائع کیا جاسکتا تھا۔
کالموں میں واقعات اور مشاہدات ضرور ہیں۔ ان کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ممتاز اخبار نویس محمد اسلم خان نے رائے ریاض حسین کو عظیم ”داستان گو“ قرار دیا ہے۔ میری نظر میں انہوں نے جس سلیقے کے ساتھ اپنی داستان حیات کو بیان کیا ہے۔ اس میں دلچسپی برقرار رکھنے کے لئے داستان گوئی کے روپ میں ڈھال دیا ہے۔ رائے ریاض حسین کا اپنی زندگی میں جن لوگوں سے واسطہ پڑا یا کام کیا ہے۔ ایک دو شخصیات کے سوا سب کے لئے ان کی محبت کے چشمے پھوٹتے نظر آتے ہیں۔
اکیلے برگر کھا نے کے واقعہ میں صداقت نظر آتی ہے۔ اسی طرح کا واقعہ ایف ڈبلیو او کے کرنل احمد نے بھی سنایا کہ جب شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔ اکیلے ہی تمام برگر چٹ کر گئے لیکن کسی کو رسماً دعوت بھی نہیں دی حالانکہ میاں شہباز شریف ایک مہمان نواز شخصیت ہیں۔ رائے ریاض حسین میری طرح میاں نواز شریف کے عشق میں مبتلا ہیں۔ کسی شخص کو دوست بنایا جاتا ہے تو اس کی اچھائی برائی سب قبول ہوتی ہے۔ میں یہ بات حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے نواز شریف سے ایک پیسہ کا فائدہ نہیں اٹھایا دھڑلے سے ان کی حمایت کی لیکن کبھی اس کی قیمت نہیں لگوائی روزنامہ نوائے وقت میں 41 سال ملازمت کی جب نواز شریف پر ابتلا ء کا دور تھا تو مجھے بھی ان سے محبت کے جرم میں ملازمت سے استعفاٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا رائے ریاض حسین اس کی گواہی دے سکتے ہیں۔
میاں نواز شریف جیسے لیڈر سالہا سال بعد پیدا ہوتے ہیں جن کی زندگی کا ماٹو اپنی قوم کی ترقی ہوتا ہے۔ رائے صاحب نے میاں نواز شریف کے ساتھ جتنا وقت گزارا وہ ان کی زندگی کا بہترین وقت تھا۔ میاں نواز شریف کی کردار کشی کرنے والوں کے قصہ کہانیوں کی نفی کرنے کے لئے کافی ہے۔ ان کی سرگزشت ہماری قومی تاریخ کو درست کرنے میں مدد کرے گی۔ خاص طور انہوں نے میاں نواز شریف سے متعلق جن واقعات کا ذکر کیا ہے۔ انہوں بتایا کہ 12 اکتوبر 1999 ء کو ایک نہتے سیاست دان نے سنگینوں کی نوک پر استعفا دینے اور قومی اسمبلی تحلیل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ کام جیسا بہادر لیڈر کر سکتا تھا۔ نواز شریف نے اپنے جرات مندانہ کر دار سے ایک بڑے سیاست دان ہونے کا ثبوت فراہم کیا یہ نواز شریف ہی بہادر اور جرات مند لیڈر ہیں جن کے سیاسی کیرئیر میں ”استعفا اور برطرفی“ کے اقدامات اٹھائے گئے اور ایکسٹینشن نہ دینے کی پالیسی اپنائی گئی۔
رائے ریاض حسین نے اپنی کتاب میں ”محسن پاکستان ہم شرمندہ ہیں۔“ کے عنوان سے لکھا گیا کالم بھی شامل کیا ہے جو 26 ستمبر 2008 ء کو روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوا رائے عامہ اقتدار کے ایوانوں کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھاتی لیکن رائے ریاض کے سینے میں اس سے بھی زیادہ راز پوشیدہ ہیں۔ ان کو رائے عامہ کے اگلے ایڈیشن کی زینت بنا نے کی ضرورت ہے۔ ویلڈن رائے ریاض۔ ہیٹ آف فار یو۔

