حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں


خیبر پختونخوا کو حالیہ دنوں میں ایک بار پھر تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سوات میں تباہی مچاتا ہوا سیلابی ریلا چکدرہ، منڈا اور پش اور کے راستے چارسدہ اور نوشہرہ میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات کا باعث بنا ہے۔ دریائے سوات میں سیلابی ریلے نے کالام، مدین، بحرین، جرے، قندیل، مٹہ، مینگورہ سے بریکوٹ تک دریائے سوات کے کنارے درجنوں ہوٹلوں، مساجد، دکانوں، مکانات، ریسٹورنٹس وغیرہ کا صفایا کر دیا ہے۔ سیلابی ریلا اپنے ساتھ بجلی کے کھمبوں کو بھی اکھاڑ کر لے گیا جس کی وجہ سے مینگورہ شہر سمیت سوات کے بیشتر علاقوں کی بجلی کئی روز سے منقطع ہے۔

اس اندوہناک خبر کے ساتھ البتہ یہ بات خوش آئند ہے کہ کالام اور بحرین میں پھنس جانے والے سیاحوں کے لئے مقامی ہوٹلوں کی تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ راستے بحال ہونے تک مہمانوں سے نہ تو کمروں کا کرایہ اور نہ ہی کھانے پینے کا بل وصول کیا جائے گا۔ اس اعلان سے گزشتہ سردیوں میں مری میں ہونے والے انسانی نقصان اور برف میں پھنسے ہوئے سینکڑوں سیاحوں کے ساتھ مقامی افراد اور خاص کر دکانداروں اور ہوٹل والوں کی جانب سے رو رکھے جانے والے انسانیت سوز سلوک کے زخم تازہ کر دیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دریائے سوات میں پانی کے زیادہ دباؤ سے منڈا ہیڈ ورک کے علاوہ مہمند ڈیم کی دیوار بھی ٹوٹ گئی ہے، ڈیم ٹوٹنے سے تمام تعمیراتی مشینری سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہے۔ متاثرہ اضلاع میں کھیت اور باغات کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں مویشی اور گھریلو سامان بھی سیلاب کے پانی میں بہہ گیا ہے۔ جنوبی اضلاع ٹانک اور ڈی آئی خان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق یہاں بھی درجنوں دیہات میں چار سے پانچ فٹ پانی جمع ہوا ہے جس کے نتیجے میں سبزیوں اور اجناس کے علاوہ کھجور اور آم کے باغات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ حالیہ سیلاب میں دریائے سوات میں منڈہ اور خیالی کے مقام پر پانی کی سطح 22 لاکھ 55 ہزار کیوسک تک ریکارڈ کی گئی ہے جس نے 2010 کے سیلاب کا ریکارڈ جو کہ 1 لاکھ 75 ہزار کیوسک تھا توڑ دیا ہے۔

مون سون کی حالیہ بارشوں گلیشیئر اور بادل پھٹنے سے پیدا ہونے والا سیلاب خوفناک صورتحال کا حامل رہا ہے سیلابی ریلے میں مٹی کے ساتھ ساتھ کیچڑ، لکڑیوں اور بڑے بڑے پتھروں نے نے مل کر سیلاب کو مزید خطرناک بنایا ہے۔ انٹرنیٹ پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک برساتے نالے کی گزرگاہ مکمل طور پر خشک ہے تا ہم اچانک سے بادل اور گلیشیر پھٹنے سے گزرگاہ بھر جاتی ہے اور تیز پانی ٹھاٹھیں مارتا ہوا آگے بڑھتا ہے پانی راستے میں اپنے ساتھ مٹی، پتھر اور لکڑیاں بہاتے ہوئے ایسی خوفناک صورت اختیار کر جاتا ہے کہ دیکھنے والے وحشت زدہ رہ جاتے ہیں۔

کالے اور بھورے رنگ کا پانی اور کیچڑ انتہائی طاقت کے ساتھ آگے بڑھتا اپنے ساتھ تمام رکاوٹوں کو بھی بہا لے جاتا ہے اس پانی کے رویے اور رنگ کے ساتھ ساتھ اس کی ہیئت میں تبدیلی بھی شہریوں میں خوف پیدا ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے اب تک پانی کی اس نوعیت کے حوالے سے کوئی تحقیق سامنے نہیں آئی ہے تا ہم ماضی قریب میں اس قسم کے سیلابی ریلے کی مثال موجود نہیں ہے۔ حالیہ سیلاب میں آسمان نے ہماری بے حسی اور نالائقی کا وہ منظر بھی دیکھا جب ضلع لوئر کوہستان کے علاقے سنا گئی دو بیر میں 5 دوست تین گھنے تک پانی کی موجوں میں پھنسے رہنے کے بعد سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق یہ پانچوں دوست اچانک سیلابی ریلے کی زد میں آنے کے بعد ایک بلند پتھر پر چڑھ گئے تھے اور وہ تین گھنٹے تک حسرت اور بے بسی کی تصویر بنے حکومتی امداد کا انتظار کرتے رہے مگر کوئی سرکاری ادارہ یا ریسکیو ٹیم ان کی مدد کو نہیں پہنچی۔ شہریوں کے مطابق اگر انتظامیہ چاہتی تو ایک گھنٹے میں پشاور یا گلگت سے ہیلی کاپٹر ان پانچوں نوجوانوں کو ریسکیو کرنے کے لیے پہنچ سکتا تھا مگر چونکہ یہ افراد وی وی آئی پی نہیں تھے اس لیے ان کی مدد کو کوئی نہیں آیا جس پر مقامی افراد نے رسیوں کے ذریعے انہیں نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر بالآخر وہ تیز موجوں کی نذر ہو گئے البتہ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اس واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

حالیہ سیلاب کو صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب قراردیا جا رہا ہے۔ شواہد کے مطابق 1927 میں سوات میں پہلا بڑا سیلاب آیا تھا جس کا ریکارڈ سرکاری محکموں کے پاس موجود نہیں ہے۔ البتہ جولائی 2010 میں سوات میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے موجودہ سیلاب دوگنا سے بھی زیادہ بتایا جاتا ہے۔ محکمہ ایریگیشن کے مطابق سال 2010 میں دریائے سوات میں آنے والا سیلاب انتہائی اونچے درجے کا تھا جس کا اخراج 175000 کیوسک تھا جب کہ گزشتہ روز آنے والے سیلاب میں پانی کا بہاؤ 238993 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جو دریائے سوات میں پانی کا اب تک سب سے زیادہ اخراج ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب کا بنیادی سبب موسمیاتی تبدیلیاں ہیں اور یہ سب کچھ گلوبل وارمنگ کا نتیجہ ہے جس کے ذمہ دار تو اکثر ترقی یافتہ صنعتی ممالک ہیں لیکن ان کے کیے کا خمیازہ پاکستان جیسے ترقی پذیر اور غریب ممالک کو سیلابوں اور شدید خشک سالی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے لہٰذا مستقبل میں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہمیں نہ صرف بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کرنا ہوگی بلکہ قومی سطح پر بھی موثر حکمت عملی اپنانی ہوگی۔

Facebook Comments HS