سیلاب: اخلاقیات کا اس حد تک فقدان کیوں ہے؟
”جب روم جل رہا تھا، نیرو بانسری بجا رہا تھا“ یہ بات تو ہم کافی عرصے سے سنتے آرہے ہیں، لیکن سندھ میں حالیہ موسلا دھار بارشوں سے جو سیلاب کی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں ”ڈوبا ہوا سندھ دیکھ کر مجھے اٹلی کے شہر وینس کے نظارے یاد آ رہے ہیں“ جیسا ایک جدید اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرنے والا محاورہ تخلیق ہوا ہے۔
سندھ کی موجودہ تکلیف دہ صورتحال کے دوران صوبے کے سیاستدان، منتخب نمائندے، حکمران جماعت، تاجر طبقہ، ڈاکٹرز، دکاندار، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیسے فراہم کرنے والے ایجنٹ اور امداد کے نام پر متاثرین کی تذلیل کرنے والے کچھ نام نہاد رفاہی ادارے و انفرادی کرداروں نے جس طرح سے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے یہ پورے سندھی معاشرے کے لیے انتہائی منفی اور ملکی و غیر ملکی سطح پر قومی تاثر کو خراب کرنے کا باعث بنا ہے۔
برساتی سیلاب کے باعث جہاں پورا سندھ غربت، بے بسی اور درد کی تصویر بنا ہوا ہے، وہیں ایک کروڑ سے زائد افراد متاثر، 10 لاکھ سے زائد مکانات منہدم، سیکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے اور ہزاروں جانور بھی مر گئے ہیں، لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو گئی، اس تکلیف دہ صورتحال میں فصلیں نہ اگائی جا سکیں گی اور مقامی افراد کو کچھ وقت تک روزگار کے ذرائع بھی دستیاب نہیں ہوں گے، ایسے تکلیف دہ وقت جب تمام طبقات کو ہر تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کے لئے آگے آنا چاہیے۔
خصوصی طور پر حکومتی نمائندوں اور مشینری کو 24 / 7 آفت زدہ علاقوں میں جا کر سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن میں حصہ لینا چاہیے تھا لیکن افسوس اور ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ سندھ حکومت نے رواں برس غیرمعمولی مون سون کی بارشیں برسنے کی پیش گوئیوں پر کان نہیں دھرا اور نہ ہی صوبے کے چیف ایگزیکٹو یعنی وزیراعلیٰ نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں اور حکام کو کوئی ہدایات جاری کیں الٹا مراد علی شاہ صاحب کو اپنے ”ہونہار ساتھیوں“ سمیت سکھر بیراج کے پل پر ”ہو جمالو سٹائل“ میں ہنستے، مسکراتے فوٹو سیشن کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
تباہی سے متاثرہ صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کا مورال جب اس حد پر کھڑا نظر آیا تو ان کی ٹیم کے ارکان اس معاملے میں کیسے پیچھے رہ سکتے تھے اور خیرپور کے علاقے کوٹ ڈیجی سے تعلق رکھنے والے خوابوں کے شہزادے منظور وسان کشتی پر سوار ہو کر سیلاب زدہ علاقے میں پکنک منانے نکل پڑے، جس کے دوران ان صاحب موصوف کو اٹلی کے شہر وینس کے نظارے یاد آئے اور کشتی پر سوار ہوتے ہوئے وہ ڈوبے ہوئے گاؤں گوٹھوں کو دیکھ کر ”عظیم اخلاقیات“ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تباہ شدہ علاقوں کا موازنہ وینس سے کرتے رہے۔
سبحان اللہ، ماشاء اللہ یہ ہی شاید جمہوریت کا بہترین انتقام ہے جو پیپلز پارٹی گزشتہ 15 برس سے سندھ کے عوام سے لے رہی ہے۔ سابق وزیر داخلہ سندھ اور پیپلز پارٹی کے رہنما منظور حسین وسان نے اس موقع پر اپنے متاثرہ ووٹرز کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک اختیار کرتے ہوئے کسی کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کا ”یار غار“ اور وقتی گورنر سندھ آغا سراج درانی کا بھی سندھ کے بارش اور سیلاب سے متاثرہ افراد کے ساتھ سلوک انتہائی تکلیف دہ اور غیر اخلاقی نظر آیا، جنہوں نے اپنے حلقے گڑھی یاسین کے متاثرین سے مخاطب ہو کر یہ کہا کہ بارشیں آپ کے گناہوں کی سزا ہیں، اس لیے اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کے گناہوں کو معاف فرمائے اور سندھ حکومت کی امداد کی امید کم ہی کریں۔
تکبر اور زعم میں مبتلا سندھ کی حکمران جماعت کے رہنماؤں سے میرا سوال ہے کہ 15 برس سے آپ سندھ کے سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں اپنی کارکردگی بھی بتائیں کہ آپ نے صوبے کے عوام کے لئے کیا کیا ہے؟ کیا آپ کی ذمہ داری بس یہی ہے کہ ہر سال جو بھی قدرتی آفت آئے گی اسے عوام کے گناہوں کی سزا قرار دے کر اپنی جان چھڑا لیں گے یا پھر ہر تباہی و بربادی کو خدا کے کھاتے میں ڈال کر خود کو خود ساختہ طور پر بری الذمہ قرار دے دیں گے؟
کیا سندھ میں سیلاب کی آفت جاپان میں ہر سال آنے والے زلزلوں اور سونامیوں سے زیادہ خطرناک ہے؟ کیا رواں سال کی غیرمعمولی بارشوں سے زیادہ خطرناک سمندری اور برفانی طوفان امریکہ کے ساحلی شہروں سے نہیں ٹکراتے؟ لیکن وہاں تو کوئی بدانتظامی کو چھپانے کے لئے یہ نہیں کہتا کہ یہ سب عوام کے گناہوں کی سزا ہے یا پھر سب قدرت کا کرنا ہے ہم کیا کریں، شرم تم کو مگر نہیں آتی، آخر کیوں؟
حضور! دنیا کے کسی بھی ملک میں قدرتی آفات کے دوران سیاستدان، حکومتی نمائندے ایسی اخلاقیات کا مظاہرہ نہیں کرتے جس طرح سندھ کے سیاستدان اور حکومتی نمائندے روزانہ کی بنیاد پر سیلاب متاثرین کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کر کے ان کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں۔ دنیا نے دیکھا کہ سندھ کے تھرپارکر کے علاقے میں ایک متکبرانہ ذہنیت رکھنے والا ایم این اے امیر علی شاہ جیلانی برسات متاثرہ علاقے میں آئے تو تھے متاثرین سے ہمدردی کے لئے مگر خود چارپائی پر براجمان ہو کر غریب ووٹرز کو زمین پر بٹھا دیا اور تو اور منرل واٹر سے جوتے بھی دھوتے رہے۔
ضلع قمبر شہداد کوٹ کی تحصیل وارہ جیسے شہر کے مکین مقدس کتاب سینے پر سجائے اپنے منتخب نمائندے برہان چانڈیو کے پاس ”میڑ“ لے کر جاتے ہیں کہ ہمارے شہر کو ڈوبنے سے بچانے کے لئے اقدام اٹھائیں تو وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے پھوپھا میر منور تالپر بارش سے متاثرہ غریبوں میں 50، 50 روپے کے نوٹ تقسیم کر کے ”مہا سخاوت“ کا مظاہرہ کرتے بھی نظر آئے۔ یہ سب کیا ہے، کیوں ہو رہا ہے اور کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟ سندھ کے عوام جو مشکل کی اس گھڑی میں لاتعداد مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں، متاثرین کی بحالی کے لیے حکمران جماعت کی سنجیدگی اور اخلاقیات کا لیول تو سب نے دیکھ لیا، لیکن تاجر طبقہ بھی حسب روایت برسات متاثرین کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے اور آٹے، چاول اور سبزیوں سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اچانک ہوشربا اضافہ کر دیا ہے، مزید یہ کہ ٹرانسپورٹ مافیا پانی میں پھنسے متاثرین کو ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچانے کے لیے ان سے من مانے کرائے وصول کر رہا ہے۔
کئی نوجوان سندھی ڈاکٹرز مسیحا بن کر میدان عمل میں نظر آ رہے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے اور ڈاکٹرز کی اکثریت بھی اس موقعے کو غنیمت سمجھ کر مریضوں سے پیسے بٹورنے میں لگ گئی ہے۔ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر امداد کی تقسیم کے بہانے بعض فلاحی تنظیموں اور سماجی کارکنوں کی طرف سے سیلاب و بارش متاثرین کی تذلیل کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ اخلاقیات کے اس درجے پر کھڑا ہے کہ اب مصیبتوں اور آفتوں کے دور میں اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل سے باز نہیں آتے لوگ، تو قوم اس مایوس کن صورتحال میں مشکلات سے کامیابی سے کیسے نکلے گی۔
جس قوم کے حکمران اپنی بے تحاشا کرپشن، نا اہلی اور بدانتظامی کا ذمہ دار ”عوامی گناہوں“ کو ٹھہراتے ہیں یا کسی کو اگر ڈوبے ہوئے سندھ میں اٹلی کا شہر وینس نظر آتا ہے تو ایسے معاشرہ اور ایسی سوچ رکھنے والے طبقے کا راستہ روکنے کے لئے باشعور اذہان کو بھرپور مزاحمت جاری رکھنی چاہیے تاکہ اس بدبودار اور متکبر ذہنیت رکھنے والے طبقے سے سندھ کی جان چھوٹ جائے اور حقیقی، عوامی جمہوری نمائندوں کو آگے آ کر خدمت خلق کا موقع مل سکے۔


