ایشیا کپ کرکٹ 2022: دوسرے راؤنڈ میں افغانستان کے پاس کتنے امکانات ہیں؟


کرکٹ
کرکٹ ایشیا کپ کے دوسرے راؤنڈ کا آغاز آج (سنیچر ) افغانستان اور سری لنکا کے درمیان میچ سے ہوگا۔ اس مقابلے کے پہلے راؤنڈ میں بھی دونوں ٹیمیں آمنے سامنے ہوئیں اور افغانستان نے وہ میچ بڑے مارجن سے جیتا تھا۔

اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان کو کم از کم سری لنکا کے ساتھ کھیلنے اور کھیل جیتنے کا تجربہ ہے۔

لیکن بعض اوقات کرکٹ میں شکست یا نقصان الٹا یا مثبت ردعمل کا سبب بنتا ہے، کیونکہ کھلاڑی اور ٹیمیں بھی عام شائقین کی طرح دکھ اور الزام تراشی محسوس کرتی ہیں اور ردعمل کا اظہار کرتی ہیں۔

ایسا ہی سری لنکا کے ساتھ ہوا اور اپنے دوسرے میچ میں اس نے بنگلہ دیش کے خلاف 183 رنز کا بڑا ہدف دیا اور یہ میچ جیت کر وہ دوسرے راؤنڈ میں داخل ہو گئے۔

افغانستان کے ساتھ میچ میں سری لنکا کی شکست کی وجہ ان کی بری بیٹنگ تھی لیکن اس بار وہ پہلے میچ کی طرح افغانستان کو اتنی آسانی سے جیتنے نہیں دیں گے۔

دوسری جانب افغانستان کے لیے سری لنکا کے خلاف میچ جیتنا ضروری ہے کیونکہ اگلے دو میچ پاکستان اور انڈیا جیسی نسبتاً مضبوط ٹیموں کے خلاف ہیں۔

اس لیے فطری طور پر افغان ہیروز دوسرے راؤنڈ میں اپنا پہلا میچ جیتنے کی کوشش کریں گے، پھر میدان میں اتریں گے اور مثبت جذبے کے ساتھ اور بغیر کسی دباؤ کے پاکستان اور بھارت کا مقابلہ کریں گے۔

ایک اور نکتہ جو بلاشبہ دوسرے راؤنڈ میں افغانستان کے حق میں نہیں وہ یہ ہے کہ ان کے پاس پاکستان اور انڈیا کے خلاف میچوں کے درمیان آرام کرنے کا وقت نہیں ہے، کیونکہ 7 ستمبر کو وہ پاکستان کے خلاف اور 8 تاریخ کو انڈیا کے خلاف کھیلے گا۔

افغانستان کے کرکٹ شائقین نے بھی آن لائن میڈیا پر اس پر احتجاج کیا ہے اور ’ایشیا کرکٹ فیڈریشن‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ انہوں نے افغان ٹیم کو دو سخت میچوں کے درمیان آرام اور تیاری کے لیے ایک دن بھی نہیں دیا۔

راشد خان اور مجیب افغانستان کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔

راشد خان اور مجیب افغانستان کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔

بولنگ افغانستان کی کامیابی کا راز ہو سکتی ہے

افغانستان نے پہلے راؤنڈ میں اپنے دونوں میچ اچھی بوؤلنگ کی وجہ سے جیتے کیونکہ مجیب زدران، راشد خان، فضل فاروقی اور دیگر نے سری لنکا اور بنگلہ دیش کو بہت کم رنز سے آؤٹ کیا۔

بیٹنگ کے میدان میں افغانستان آج بھی اسی مسئلے سے دوچار ہے جس کا اسے برسوں سے سامنا ہے، یعنی اس کے بلے باز لگاتار میچز میں اچھے رنز نہیں بنا سکتے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پہلے راؤنڈ کے میچوں میں افغانستان کے اہداف چھوٹے تھے اس لیے تمام کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔

اب دوسرے راؤنڈ میں افغانستان کے لیے پاکستان اور انڈیا جیسی ٹیموں سے بڑے فرق سے گیمز جیتنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ دونوں ہی عالمی سطح پر مضبوط ٹیمیں ہیں اور پہلے راؤنڈ میں اچھا کھیل چکی ہیں۔

ہندوستانی گیند باز راشد خان، محمد نبی اور مجیب کی باؤلنگ سے بھی کسی حد تک واقف ہیں، کیونکہ ‘ای پی ایل’ گیمز میں انھوں نے ان کا بہت سامنا کیا ہے۔

لیکن اس نکتے کو افغانستان کے حق میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ بولر انڈین بلے بازوں کی کمزوری سے باخبر بھی کہے جا سکتے ہیں۔

پاکستان کے خلاف افغانستان کا میچ بالکل مختلف ہو سکتا ہے، کیونکہ ماضی میں جب یہ دونوں ٹیمیں آمنے سامنے ہوئیں تو افغان کرکٹ کے تمام شائقین جذباتی طور پر شامل تھے۔

ماضی میں پاکستان کے خلاف کھیلنے والی افغان ٹیم کے بارے میں ہی ایسا لگ رہا تھا کہ کھلاڑی قدرے جذباتی ہیں یا دوسرے لفظوں میں دباؤ کا شکار ہیں۔

اگر افغان ٹیم پاکستان کو ہرانا چاہتی ہے تو یہ بہت ضروری ہے کہ کم از کم کھلاڑی زیادہ جذباتی نہ ہوں بلکہ واضح منصوبہ بندی کے ساتھ اور دباؤ کے بغیر کھیلیں۔

اگر ہم بحث کا خلاصہ کریں تو افغانستان کے لیے دوسرے راؤنڈ میں سری لنکا کے خلاف پہلا میچ جیتنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ اس کے لیے فائنل میں پہنچنے کا آسان ترین موقع ہو سکتا ہے۔

اگر وہ پہلا میچ جیت جاتے ہیں تو بالکل ممکن ہے کہ وہ دوسرے میچ میں پاکستان کو شکست دے کر فائنل میں پہنچنے کا موقع مل سکے۔

یہ بھی پڑھیے

ایشیا کپ کرکٹ: کیا افغانستان انڈیا اور پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟

ایشیا کپ میں ’پاکستان نے خطرے کی گھنٹی بجا دی‘

سمیع چوہدری کا کالم: ’یہ شکست، شکست سی لگتی نہیں ہے‘

افغانستان کے لیے سری لنکا کے خلاف پہلا میچ جیتنا اہم ہے۔

افغانستان کے لیے سری لنکا کے خلاف پہلا میچ جیتنا اہم ہے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو بھارت کے خلاف تیسرے میچ میں افغان ٹیم پر زیادہ دباؤ نہیں رہے گا اور اگر دباؤ نہ رہا تو افغان چیمپئن دنیا کی کسی بھی ٹیم کو اپنے بہترین دن اور بیس اوور کی کرکٹ میں شکست دے سکتی ہے۔

فائنل میں پہنچنا افغانستان کی ٹیم اور افغان کرکٹ کے لیے ایک تاریخی اور ممکنہ طور پر تقدیر بدلنے والا لمحہ ہوگا۔

دنیا کے اکثر کرکٹ تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان کے پاس ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے مضبوط ٹیم ہے، لیکن وہ ہمیشہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اب افغانوں کو (اگلے) مرحلے میں قدم رکھنا چاہیے۔

اگلے مرحلے کا مطلب دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں کو شکست دینا اور بڑے مقابلوں کے فائنل یا آخری مراحل میں پہنچنا ہے۔

اگر ایسا ہے تو جاری ایشین کپ افغانستان کے لیے اپنے کھیل کے سفر اور پیشرفت میں اہم قدم اٹھانے کا بہترین موقع ہے۔

اس امید پر کہ افغانستان اور بھی چمکے گا اور اس امید کے ساتھ کہ افغان کرکٹ کے شائقین اس تاریخی دن کا زیادہ انتظار نہیں کریں گے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp