میرا تعلق اس نسل سے ہے جس کو امتحان میں کامیابی پر 10 روپے ملتے جس سے وہ 3 ٹارزن 4 عمرو عیار کی زنبیل کی کہانیاں اور باقی پیسے کی مونگ پھلی خرید کر شام کا انتظار کرتی، کیونکہ دن مین کھیل کود کی مصروفیات وجہ سے کہانی پڑھنے کے لئے فرصت نہیں ملتی تھی۔ جنگل کا تصور ہماری حرکتوں سے جڑا ہوتا تھا جب ہمیں اپنی حرکتوں کی وجہ سے کبھی کبھی ”جنگلی“ ہونے کا خطاب ملتا۔
کچھ انہی تصورات کے ساتھ میں 2009 میں پہلی بار بورنیو کے جنگلوں میں اپنے یونیورسٹی کے ساتھیوں کے ساتھ اترا۔ ہماری منزل لانگ لامائی کا گاوٴں تھا جو کہ پینان قبائل کی آبادی پر مشتمل ہے۔ پینان کو بیسویں صدی کے آخری جنگلی خانہ بدوش بھی کہا جاتا ہے۔ ہماری یونیورسٹی پچھلے تین سالوں سے اس گاوٴں میں مقامی آبادی کے ساتھ مل کر انٹرنیٹ کی سہولیات دینے کے لئے کوشاں تھی اور اس سارے پراجیکٹ کو یونیوسٹی کے سوشل سائنسز کے پروفیسرز کی نگرانی میں سر انجام دیا جا رہا تھا جب کہ ٹیم میں کمپیوٹر سائنسز، انجینئرنگ، اکانومی اینڈ بزنس اور ایجوکیشن فیکلٹی کے ممبران بھی شامل تھے۔
Read more