جامعات: آگے کی بات، لیکن کیسے؟

کچھ دنوں پہلے یونیورسٹی آف کمالیہ کے انٹرنیشنل مشاورتی بورڈ میں شمولیت کا دعوت نامہ ملا تو دلی خوشی ہوئی ایک تو وطن سے جڑے رہنے کا بہانہ دوسرا ٹوبہ ٹیک سنگھ کے لوگوں کا ایک قرض اتارنے کا موقع ہاتھ آیا، جوانی کے دنوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک بار ہاکی کھیلنے کا موقع ملا تھا اور اس وقت جو محبت ملی تھی آج تک اپنے آپ کو اس محبت کا مقروض محسوس کر رہا ہوں۔ ڈاکٹر یاسر

Read more

اعداد و شمار کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ یا شاید بولتے ہیں؟

گزرے کل سینٹ کی ایک قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینٹر ایمل ولی خان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوئی۔ میرے خیال مین تلخ کلامی کی وجہ سینیٹر صاحب پر ذاتی نوعیت کے حملے سے زیادہ سینیٹر صاحب کی طرف سے اجتماعی نوعیت کے مسئلے کو اجاگر کرنا تھا۔ جس کے لئے ان کی تعریف لازماً بنتی ہے۔ یہ مسئلہ ہے انٹرنیٹ تک رسائی کے اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کا۔ پاکستان

Read more

بڑھاپا، انحصار اور پشتون ولی

میں پچھلے چودہ سال سے مسافر ہوں گھومنا پھرنا اب تو جیسے زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ اس وقت بھی جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں میں نیو کیسل سے لندن کی ٹرین پر سوار ہوں۔ دو ہزار سترہ میں، مجھے جرمنی منتقل ہوئے تیسرا مہینہ تھا کہ ایک شام اپنی دوست پروفیسر ہائی کے کو بتا رہا تھا کہ میں جو ایک خاص قسم کے بالوں کا کلر استعمال کرتا ہوں اس کو ملائشیا سے منگوانے کے

Read more

ملائشین بورنیو کے جنگلوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی

میرا تعلق اس نسل سے ہے جس کو امتحان میں کامیابی پر 10 روپے ملتے جس سے وہ 3 ٹارزن 4 عمرو عیار کی زنبیل کی کہانیاں اور باقی پیسے کی مونگ پھلی خرید کر شام کا انتظار کرتی، کیونکہ دن مین کھیل کود کی مصروفیات وجہ سے کہانی پڑھنے کے لئے فرصت نہیں ملتی تھی۔ جنگل کا تصور ہماری حرکتوں سے جڑا ہوتا تھا جب ہمیں اپنی حرکتوں کی وجہ سے کبھی کبھی ”جنگلی“ ہونے کا خطاب ملتا۔

کچھ انہی تصورات کے ساتھ میں 2009 میں پہلی بار بورنیو کے جنگلوں میں اپنے یونیورسٹی کے ساتھیوں کے ساتھ اترا۔ ہماری منزل لانگ لامائی کا گاوٴں تھا جو کہ پینان قبائل کی آبادی پر مشتمل ہے۔ پینان کو بیسویں صدی کے آخری جنگلی خانہ بدوش بھی کہا جاتا ہے۔ ہماری یونیورسٹی پچھلے تین سالوں سے اس گاوٴں میں مقامی آبادی کے ساتھ مل کر انٹرنیٹ کی سہولیات دینے کے لئے کوشاں تھی اور اس سارے پراجیکٹ کو یونیوسٹی کے سوشل سائنسز کے پروفیسرز کی نگرانی میں سر انجام دیا جا رہا تھا جب کہ ٹیم میں کمپیوٹر سائنسز، انجینئرنگ، اکانومی اینڈ بزنس اور ایجوکیشن فیکلٹی کے ممبران بھی شامل تھے۔

Read more

ہمارے آثار قدیمہ اور مستقبل

اٹھارہویں صدی کے مشہور فراسنسیسی لکھاری گسٹاؤ فلابرٹ نے اپنے ساتھی ماری صوفی لایالور کو ایک خط میں مطالعہ کرنے کا گر کچھ اس طرح سکھایا : ”تمہیں صرف بچوں کی طرح اپنے آپ کو خوش کرنے کے لئے یا بڑوں کی طرح اپنے آپ کو آگاہ رکھنے کے لئے مطالعہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ مطالعہ کرو جینے کے لئے“ ۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ جہاں لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا ہے وہاں ہر ایک بندے کو یہ

Read more