ستاروں کے مطابق


آج کل کافی رواج ہے کہ لوگ اپنی قسمتوں کا حال ستاروں کی مدد سے جاننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اس پر بہت اعتقاد رکھتے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ٹی وی چینلز پر بھی اس قسم کی چیزیں دکھائی جاتی ہیں اور بہت سلجھے ہوئے اور علماء بھی اس عمل میں حصہ لے رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے عام کم فہم و علم کے لوگ سمجھتے ہیں اگر یہ پڑھے لکھے انسان ان چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں تو یہ سچ ہو گا۔ اور اگر ان ٹی وی والوں سے پوچھا جائے تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہم قوم کو گمراہ نہیں کر رہے ہیں ہم تو صرف یہ ایک کھیل تماشے کے لیے پیش کرتے ہیں آگے عوام کی مرضی۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ جو شخص آپ کو ستاروں کی مدد سے آپ کی زندگی کے متعلق باتیں بتا رہا ہے یا آپ کے مستقبل کی باتیں آپ کو بتا رہا ہے تو وہ شخص کیا علم غیب رکھتا ہے؟ یا خدا کا ایجنٹ ہے اس دنیا میں؟ اور بہت سے ایسے نام نہاد نجومی آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کو رقم دیں تو آپ کی زندگی کے ستاروں کی گردش کا رخ آپ کے حق میں موڑ دیں گے۔ اب پھر یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کیا خدا نے اس کو اذن اور اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ایسا کر لے؟ بلکہ جتنے زیادہ پیسے دیں اتنے ہی فوائد بڑھتے جائیں گے۔ خدا راہ کوئی ان سے پوچھے تو سہی کے بھائی تھوڑی تھوڑی رقم پر تم لوگوں کی زندگیاں بدل سکتے ہو تو پہلے اپنی تو بدل لو۔

ھم ستاروں کے علم اور ان کے اثرات کے ہرگز انکاری نہیں ہاں تقدیر کے بھیدی فٹ پاتھ پر بیٹھے نجومیوں کو نہیں مانتے، کائنات کا مالک قادر خدا ہے۔ جب اس نے کہا میں وحدہ لا شریک ہوں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنی سب سے عمدہ تخلیق انسان کی قسمت اور مستقبل ان نجومیوں کے ہاتھ میں دے دے کہ جس سے چاہو رقم بٹورو اور اس کو احمقوں کی جنت میں لے جاؤ۔ کائنات خدا تعالی کی ہے اور اس کے مستقبل کا ذمہ بھی خدا کا ہے۔ اس نے بتا دیا ہے کہ میں ہی رازق و مالک ہوں، جو مانگنا ہے مجھ سے ہی مانگو۔

علم حیت بھی میرا پیدا کرد ہے ایک علم ہے جیسا کہ دوسرے علم ہیں سو ان سے فائدہ اٹھاؤ جتنا اٹھا سکتے ہو مگر خدائی کا دعوہ کرو گے تو نابود کر دیے جاؤ گے جیسا کے پہلی قوموں کی تاریخ شاہد ہے

ستاروں اور چاند کا آپ کے مستقبل پر کوئی اثر نہیں بلکہ ان چیزوں کا اثر دنیا کہ ماحول سے ہے۔ مثلاً درختوں پر ، پودوں پر پانی کے اتار چڑھاؤ پر دنیا کی کیمیائی مناسبت پراور انسان کے کیمیائی مناسبت پر ۔

نجومیوں سے یہاں مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا کہ ایک انتہائی عقلمند اور چالاک مجرم اپنے جرم کرنے پر پکڑا جاتا ہے اور اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ بادشاہ اس کے جرم کی تفصیل سننے کے بعد اس کو سزائے موت دے دیتا ہے۔ سزائے موت سننے کے بعد وہ چالاک مجرم بادشاہ سلامت کے چہرے کی طرف دیکھتا ہے اور اونچی آواز میں کہتا ہے کہ ”لگتا تو نہیں“ وہ یہ عمل کل دو تین دفعہ دوہراتا ہے اور ہر دفعہ اپنا سر منفی انداز میں بلاتا ہے یہ کہتے ہوئے کہ لگتا تو نہیں۔

بادشاہ اس کے اس عمل پر بہت غصہ ہوتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ کیا مطلب ہے تمہارا اور تم کیوں میرے چہرے کی طرف دیکھ کر بار بار یہ کہ رہے ہو کے ”لگتا تو نہیں“ تو اس پر وہ مجرم جواب دیتا ہے کہ بادشاہ سلامت مجھے کسی نجومی نے بتایا تھا کہ میری موت کسی کمینے اور خبیث کے ہاتھ لکھی ہوئی ہے مگر آپ تو خاندانی انسان ہیں آپ تووہ نہیں ہو سکتے، اس لئے بار بار میں حیرانی سے آپ کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا کہ یہ کیا سچ ہے، بادشاہ اسی وقت حکم صادر فرماتا ہے کہ چھوڑ دو اس مجرم کو ۔

جس طرح پودوں کا درختوں کا اور دیگر جڑی بوٹیوں کا زمین پر اور کائنات پر ایک اثر ہے اسی طرح سورج، چاند اور ستاروں کا کائنات پر اثر ہے۔ ہر انسان جانتا ہے کہ اگر سورج کی روشنی زمین تک نہ پہنچے تو تمام پودے جڑی بوٹیاں پرورش نہیں پا سکیں گی۔ بلکہ انسان بھی سورج کی روشنی پر انحصار کرتے ہیں جو ان کے جسم میں توانائی پیدا کرتی ہے اس کی وجہ سے انسان کی طبیعت بشاش ہو جاتی ہے۔ جیسے ہر جانور اور انسان خوراک کھاتا ہے جو اس کے جسم میں توانائی پیدا کرتی ہے، اگر خوراک نہیں کھائے گا تو اپنے آپ کو کمزور محسوس کرے گا اور اس کے جسم میں وہ توانائی نہیں ہو گی جب تک وہ خوراک نہ کھا لے۔ کسان حضرات اچھی طرح جانتے ہیں سورج اور چاند کی روشنی ان کی فصل پر کیا اثر ڈالتی ہے اور کیا بہترین وقت ہوتا ہے کاشتکاری کرنے کا اور کٹائی کرنے کا اور ان کو چاند کے مختلف مراحل کا اچھی طرح علم ہوتا ہے۔

تو یہ خدا تعالیٰ کا نظام قدرت ہے کہ جو ایک پورے تسلسل سے اور بغیر خامی کے چل رہا ہے اور کوئی بھی چیز دنیا میں ایسی نہیں جو بغیر کسی مقصد کے ہو۔

یہاں امریکہ کے ایک شہر سیاٹل کا ذکر کر دینا ضروری سمجھتا ہوں جو دنیا کا ایک بہت بڑا خودکشی کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور سب سے زیادہ خود کشیاں لوگ وہاں کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں سورج بہت کم نکلتا ہے پورا سال بے انتہا بارشیں ہوتی ہیں اور کالے بادل چھائے رہتے ہیں۔ اس وجہ سے وہاں کے باشندوں کا کیمیائی توازن صحیح نہیں رہتا اور ان کا مزاج بھی غمگین ہو جاتا ہے۔ سورج کی شعاعیں انسان کے جسم کو وٹامن ڈی فراہم کرتی ہیں۔ اسی طرح انسان اگر اندھیرے میں مسلسل بیٹھا رہے اور روشنی سے گریز کرے تو اس کی بینائی جاتی رہے گی۔

یہ ایک لازمی امر ہے کہ اگر کوئی ہنسے تو اس کا دل خوش ہو گا اور اگر کوئی روئے تو اس کا دل غمگین ہو گا۔ اسی طرح ماحول کا اثر بھی انسان کی زندگیوں پر اثر کرتا ہے، مثلاً اگر آپ خوش اخلاق اور ہنس مکھ لوگوں کے درمیان میں بیٹھیں گے آپ کا دل بھی خوش ہو گا اور اگر آپ منفی سوچ رکھنے والوں کے درمیان بیٹھیں گے تو آپ کی طبیعت بھی منفی سوچ کی طرف مائل ہو گی۔ آدھا گلاس پانی کو دیکھ کر کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ آدھا گلاس خالی ہے مگر اس کو دوسرے طریقے سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ آدھا بھرا ہوا ہے۔ یعنی کے شکر خداوندی کرنا چاہیے اور یہی حکم دیا گیا ہے کہ اپنے سے کم درجے والے لوگوں کو دیکھو نہ کہ اپنے سے زیادہ حیثیت رکھنے والے لوگوں کی طرف دیکھو۔

قوانین قدرت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ کون ہے جو ان قوانین قدرت کو بدل دے؟ کون سا نجومی ہے جو ستاروں کی گردش کو بدل دے؟ ہمیں اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کو توڑنا ہو گا۔ خدا تعالی نے ان تمام چیزوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے مگر اس نے ہمیں یہ صلاحیت نہیں دی کہ ہم ایک ذرہ بھر چیز بھی ادھر سے ادھر کر دیں خدا کی مرضی کے بغیر۔ ہاں دعا کے منکر اور انکاری نہیں ہیں ہم۔ خدا تعالی کے حضور دعا ضرور کر سکتے ہیں کہ خدا تو ہماری تقدیر کو بدل دے، بلکہ نیک لوگوں کے حضور دعا کی درخواست بھی کر سکتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور دعا کریں آپ کے لیے، مگر کوئی نجومی، کوئی ستاروں کا علم جاننے والا آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتا، نہ ہی وہ آپ کی تقدیر بتا سکتا ہے اور نہ ہی وہ آپ کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے

”اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے پتھر کے صنم، آج بت خانے میں بھگوان بنے بیٹھے ہیں

Facebook Comments HS