بپھرتے ہوئے دریا اور نوجوان عاشق کا غم
سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے اس کا اندازہ لگانا اتنا آسان نہیں جیسا کہ عرف عام میں بیان کیا جا رہا ہے۔ سیلاب بہت کچھ بہا کر لے گیا ہے، انسانی جانیں نگل گیا ہے، بے گھر کر گیا ہے، بھوک و افلاس میں مبتلا کر گیا ہے، مایوسی اور محرومی سے دو چار کر گیا ہے، یہ کہ ہر شے پانی پانی کر گیا ہے۔ خیالات، تصورات جذبات اور احساسات کی دنیا پانی پانی ہو رہی ہے، یعنی کہ انسانیت پانی میں بہہ رہی ہے، ایسے میں مجھے اپنا یہ شعر یاد پڑتا ہے۔
کارواں بچھڑ گئے اور طوفان بھی گزر گئے
میں بھی گزر گیا اور وہ بھی گزر گئے
بارش روز نہیں ہوتی اور سیلاب آئے روز نہیں آتے، دریا بھی روز روز نہیں بپھرتے لیکن جب بھی دریا بپھرتے ہیں اور سیلاب آتے ہیں وہ برسوں کے لیے آنکھوں میں نمی چھوڑ جاتے ہیں، جو مٹی کی طرح کبھی خشک نہیں ہوتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے باوجود انسانوں کا دریا سے رشتہ کمزور نہیں پڑتا۔ بلا شبہ دریاؤں نے ان دنوں موت بانٹی ہے لیکن یہی دریا زندگی کے ضامن بھی ہیں، یعنی جب تک دریا بہہ رہے ہیں اس وقت تک زندگی باقی ہے۔
دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں ہوں یا پھر ماضی قریب کی تہذیبیں ہوں ان سب نے دریاؤں کے کناروں پر ہی جنم لیا ہے، تو پھر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ دریا قاتل ہوتے ہیں، قاتل تو وہ بے احتیاطی ہوتی ہے جو برتی جاتی ہے، کیا حکمت اور دانش کے یہی تقاضے ہیں کہ بے احتیاطی برتی جائے اور احتمالی یعنی خدشات کا نظرانداز کیا جائے جبکہ عقل تو یہ تقاضا کرتی ہے کہ احتیاط برتی جائے، خدشات اور امکانات کا ہر پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے اور اس جائزے کے بنیاد پر جو نتیجہ اخذ ہو، اس کی روشنی میں احتیاطی و حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں۔
کیا ہم ایسا کرتے ہیں؟ ہر گز نہیں، زیادہ دور کی بات نہیں ہے 2010 میں بھی اسی طرح کا سیلاب آیا تھا اور یہی صورتحال درپیش تھی جو آج ہے لیکن کیا ہوا، ہم نے اس سیلابی تباہی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں ایسی کسی صورتحال سے نمٹنے کی کوئی تدبیر کی، بلکہ ہم تو اس سوال کے قریب بھی نہیں پہنچے کہ ”اب کیا ہو گا“ ؟ اگر ہم یہ سوال کرتے اور بار بار کرتے تو شاید کوئی ایسی تدبیر پا لیتے جو آج ہمیں اتنی بڑی تباہی سے بچا لیتی یا پھر اسے کم کرنے میں مدد دیتی۔
اس ضمن میں ریاست کے متعلقہ ادارے مکمل ناکام دکھائی دیتے ہیں جو سوچ اور ہوش سے کام لینے کی بجائے جمع تفریق میں لگے رہتے ہیں، ان سے بہتر تو میری نظر میں وہ نوجوان ہے جو گزشتہ ایک ماہ سے مجھ سے اور میرے ایک صحافی دوست سے ایک ہی سوال کرتا آ رہا ہے کہ ’اب کیا ہو گا‘ ، اور اس کا جواب پانے کے لیے وہ نا جانے کتنے لوگوں سے یہی سوال پوچھتا ہو گا کہ اب کیا ہو گا؟
قصہ کچھ یوں ہے کہ مذکورہ نوجوان ان دنوں کسی کی محبت میں شدت کی حد تک مبتلا ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کی محبت ان سے ناراض ہو گئی ہے اور اس کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دے رہی ہے جبکہ نوجوان کی نظریں ہر وقت موبائل فون کی سکرین پر لگی رہتی ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ بھی ہے کہ مذکورہ نوجوان کی محبت نے اس پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کر دیا ہے اور اب حالت یہ ہے کہ یہ نوجوان مجھ سے اور میرے ساتھی سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا اس کا مجھ پر ”اعتماد“ بحال ہو جائے گا، اس کے جواب میں جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم کیا کہہ سکتے ہیں تو پھر وہ کہہ اٹھتا ہے کہ ”اب کیا ہو گا“ ایسے میں تنگ آ کر میں نے اس نوجوان سے کہہ دیا کہ بیٹا ”اعتماد“ تو بعد میں بحال ہو گا پہلے ”رابطہ“ تو بحال ہو جائے۔
ہاں رابطہ ہی تو ہے جو ہر کام آسان بنا دیتی ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے تناظر میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے خاصی اہمیت اجاگر ہوئی ہے، اگر آج ملک میں بلدیاتی نظام موجود ہوتا، یعنی ایسا بلدیاتی نظام جس میں اختیارات واقعتاً نچلی سطح پر منتقل ہوئے ہوتے تو آج اتنی تباہی نہیں ہوتی جتنی کہ اب ہم دیکھ رہے ہیں، بلدیاتی نظام کی موجودگی میں ہر ناظم یا چیئر مین اپنے اپنے اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسلوں میں موجود ہوتے۔
یعنی مقامی قیادت اپنے اپنے مقام پر موجود ہوتی جو اپنی اپنی صوبائی حکومتوں سے رابطہ میں ہوتی اور براہ راست عوام کی خدمت کر رہی ہوتی۔ اسی طرح حکومت کو بحالی اور امدادی کاموں ایسی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جیسا کہ وہ اس وقت کر رہے ہیں۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت ”اختیارات“ کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کو تیار نہیں ہیں، یعنی وہ فکری اعتبار سے ”بنیادی جمہوریت“ کے قائل نہیں ہیں جبکہ وہ جمہوریت کے داعی ہونے کے ساتھ ساتھ خود کو اس کا امین بھی تصور کرتے ہیں۔
دوسری جانب فوجی حکومتوں کا دور ہے جو اپنے ادوار میں بنیادی جمہوریتوں کو فروغ دیتی آئی ہیں، ایوب، ضیا اور مشرف نے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں لیکن اس میں ان کی بدنیتی بھی شامل رہی ہے کیونکہ وہ ایسا کرنے سے ملک کی مرکزی سیاست کو دبانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، یعنی فوجی حکومت ہو یا پھر سویلین حکومت دونوں ہی بلدیاتی نظام کے حوالے سے بددیانتی کی حامل سوچ رکھتی ہے۔ بہر کیف سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ ملک میں مضبوط بنیادوں پر نقائص سے پاک بلدیاتی نظام متعارف کرائے جس میں اختیارات آئین کی روح کے مطابق نوکر شاہی کی بجائے مقامی قیادتوں کو حاصل ہوں۔ اس طرح ہم یہ یہ کہہ سکتے ہیں مضبوط بلدیاتی نظام کے ذریعے وفاق، صوبائی اور ضلعی حکومتوں کے درمیان ایک ایسا پختہ رابطے کا نظام قائم کرنا ممکن ہو جائے گا جس پر عوام کو بھی اعتماد ہو گا۔
ایسے میں ہماری سیاسی قیادت کیا سوچ رکھتی ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ میں تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ محبت میں مبتلا مذکورہ نوجوان اپنے محبوب سے رابطہ بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ کیوں کہ وہ صرف اور صرف ایک ہی سوال کے جواب کی تلاش میں ہے کہ اب کیا ہو گا؟


