انسانی خواہشات: ایک نہ ختم ہونے والا سفر
(غالب کے ایک شعر کی روشنی میں ایک فکری جائزہ) ”گو ہاتھ میں جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے ”۔ غالب غالب کا یہ شہرہ آفاق شعر محض ایک کمزور جسم کے اندر موجود خواہش کا اظہار نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کی ایک نہایت گہری تصویر ہے۔ اس میں زندگی، موت، لذت، اور خواہش کا وہ کھیل بیان کیا گیا ہے جو صدیوں سے انسان کے ساتھ چلتا آ رہا ہے۔
Read more
