نجف سے کربلا۔ محترم توقیر کھرل کا سفر نامہ


انسان اور تجسس ہم عمر ہیں۔ تجسس کے بغیر انسانی ارتقا ممکن ہی نہیں۔ دنیا میں جتنے بھی دانشور، محققین اور موجد گزرے وہ تجسس کی راہوں کے راہی تھے۔ تجسس کی دنیا کے اکثر شہکار انسانی اذہان کے فانوس میں چراغ بن کر جلتے ہیں۔ یہ تجسس ہی ہے جس نے ابن بطوطہ اور مارکو پولو کو دربدر خاک چھاننے پر مجبور کیا۔ آج ان کے سفرنامے بین الاقوامی تاریخ و ادب کا حصہ ہیں۔ آج سے صدیوں پہلے کے انسان کیسے زندگی بسر کرتے تھے؟

ان کی دنیا کیسی تھی؟ وہ دوسرے انسانوں کے بارے میں کیسے سوچتے تھے؟ انہیں کون کون سے غذائیں پسند تھیں؟ اس عہد میں انسانی تہذیب و ثقافت کن مراحل سے گزر رہی تھی؟ یہ سب جاننے کے لئے آپ ان کے سفرناموں کی ورق گردانی کریں اور ہر صفحے کے ساتھ صدیوں کو پلٹاتے ہوئے آگے بڑھتے جائیں۔ آج توقیر کھرل نے ”نجف سے کربلا“ کے نام سے جس سفر نامے کو مرتب کیا ہے کون جانے یہ سفر نامہ مزید کتنے لوگوں کے اندر نجف سے کربلا کا سفر کرنے کا تجسس پیدا کرے گا۔

ادبی اور ہنری پہلو سے ہٹ کر بھی ایک سفر نامہ کسی بھی ملت، قوم اور علاقے کی ثقافت و اقتصاد، سیاست و اخلاق، رسوم و رواج، نظریات و عقائد اور تہذیب و تمدن کو سمجھنے کا بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ تو ارباب دانش کو بخوبی معلوم ہے کہ ہر صنف نگارش میں تخلیق ہونے والے شہ پاروں کو یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چنانچہ اردو زبان و ادب میں بھی سفرنامے کو فکشن بلکہ فینٹسی کی لگی ہوئی دیمک اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

ایک معیاری سفرنامہ محض راستہ کٹنے کی روداد نہیں ہوتا بلکہ سفر کی اہمیت، لکھاری کے مشاہدات، راستے کی خصوصیات اور سفر میں درپیش حالات و واقعات کا حسین سنگم ہوتا ہے۔ آپ ایک حقیقی سفرنامے کو ایک ایسی دوربین قرار دے سکتے ہیں کہ جس کی مدد سے قاری دور سے بیٹھ کر کسی مسافر کارواں کے حالات و واقعات کا اتنی نزدیکی سے مشاہدہ کرتا ہے کہ گویا وہ خود بھی اس کارواں کا حصہ بن جاتا ہے۔

مسلمانوں کے مقدس مقامات خصوصاً بیت اللہ اور مسجد نبوی ﷺ ، مشہد، نجف، کربلا، کاظمین اور سامرہ کے حوالے سے اب تک اردو زبان میں بھی کئی سفرنامے لکھے گئے ہیں۔ محترم توقیر کھرل جہاں نئے لکھاریوں کی نمائندگی کرتے ہیں وہیں اپنی لکھائی میں ایک نئے پن اور نوآوری کے لئے بھی کوشاں رہتے ہیں۔ آپ اس کوشش میں کتنے کامیاب رہے اس کا فیصلہ تو قارئین خود ہی کریں گے۔ ہم تو صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ”نجف سے کربلا“ کا سفر توقیر کھرل کے لئے ایک روحانی و معنوی سفر ہے۔

موصوف اس وادی میں تخیل کے پروں سے پرواز نہیں کرتے بلکہ عشق کی خاردار راہوں پر ننگے پاؤں چلنے والے راہی ہیں۔ ان کا تعلق قلمی برادری کے ان نوجوان بچوں سے ہے جو دن میں جگنو کو پرکھنے کی ضد کرتے ہیں۔ اس ضد میں وہ پہلے بھی ”گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک“ کے نام سے عشق کا ایک سفر طے کر چکے ہیں، اب یہ ان کا دوسرا قلمی سفر ہے۔ آج کی دنیا میں ایسے سفر کرنے کا جنون یونہی سر نہیں چڑھتا۔ اس کے لئے شہدا کا عاشق ہونا ضروری ہے۔

یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ معرکہ عشق کے جانباز جب لڑتے ہیں تو پھر ان کے ہاتھ میں تلوار بھی نہیں ہوتی۔ فرات کے کنارے سے لے کر قاسم سلیمانی شہید تک عسکری تاریخ کا ایک یادگار اور انوکھا جہان بسا ہوا ہے۔ اس انوکھے جہان سے رسم وفا نبھاتے ہوئے قاسم سلیمانی کے چہلم کے موقع پر بھی توقیر کھرل نے ایک کتاب مرتب کی تھی اور اب حضرت امام حسینؑ کے چہلم کے موقع پر بھی یہ سفر نامہ ان کی طرف سے پیش خدمت ہے۔

”اربعین“ یعنی چہلم۔ چہلم کو ہی چالیس یا چالیسواں بھی کہتے ہیں۔ ادیان کی تاریخ میں 40 کے عدد کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کوہ صفا پر آدم علیہ السلام نے چالیس روز سجدہ کیا، اسی طرح بنی اسرائیل کی چالیس روزہ نماز کا ذکر بھی ملتا ہے اور نبی اکرم ﷺ نے بھی چالیس سال کی عمر میں اعلان نبوت کیا۔ صوفیا اور عرفا کے ہاں بھی چالیس کے عدد کو نمایاں اہمیت دی جاتی ہے اور وہ چالیس روزہ عمل کو چلہ کاٹنے کا نام بھی دیتے ہیں، اسی طرح چالیس کی عمر میں عقل کے کمال تک پہنچنے، نماز تہجد میں چالیس مومنین کے لئے دعا کرنے، چالیس احادیث کو حفظ کرنے یا روزانہ قرآن مجید کی کم از کم چالیس آیات کی تلاوت کرنے کی تاکید بھی دینی متون میں ملتی ہے۔

میرے لئے یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ حضرت امام حسینؑ کے چہلم کی مناسبت سے محترم توقیر کھرل نے اپنا یہ سفر نامہ مرتب کیا ہے۔ یقیناً جن احباب نے کسی بھی طرح ان کی حوصلہ افزائی کی ہے وہ اس کتاب کے اجر و ثواب میں برابر کے شریک ہیں۔ یہ کتاب جہاں ”نجف سے کربلا“ کا سفر نامہ ہے وہیں اس میں امام حسینؑ کے چہلم کی اہمیت، چہلم کی تاریخ، چہلم پر جانے والے زائرین کے مشاہدات و تاثرات، اربعین واک کے موقع پر استعماری میڈیا کے پروپیگنڈوں کا جواب اور وہ بہت کچھ آپ کو پڑھنے کو ملے گا جو آپ اربعین کے حوالے سے جاننا چاہتے ہیں۔

اربعین کے اس سفر کی ساری رونقیں، ثمرات اور برکات شہدائے کربلا کے خون سے ہیں۔ جو لوگ اربعین واک کے لئے نجف سے کربلا کا سفر کرتے ہیں وہ در اصل اپنے زمانے کے امام ؑ کے ساتھ یزیدان عصر کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کے عہد کی تجدید کر رہے ہوتے ہیں۔ تجدید عہد کے ان مناظر کو توقیر کھرل نے اپنے قلم اور کیمرے سے محفوظ کیا ہے۔ اب اس محفوظ شدہ دستاویز کو آگے منتقل کرنا اور پہنچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اس ذمہ داری کو نبھانے کی توفیق عطا کرے۔ آمین

 

Facebook Comments HS