بوسنیا کی چشم دید کہانی (11)


اب تک ہماری رہائش اسٹیشن سے ملحق مالک مکان کے گھر کی پہلی منزل پر واقعے مہمان خانہ میں بحیثیت کرایہ دار تھی۔ کرس، بولک، شیوا اور پریم نے اپنی رہائش سٹولک کے راستے میں واقع ایک بڑے قصبے چپلینا کے نواح میں رکھی ہوئی تھی۔ ٹامس اور ہنرک بھی اسی مہمان خانے میں مقیم تھے۔ یہاں کمرے کا کرایہ بیس مارک یومیہ تھا۔ کمرے کی کشادگی کا عالم بقدر شوق تو کیا بقدر ضرورت بھی کم تھا۔ یہ کمرہ کسی نوجوان جوڑے کے لیے تو نہایت موزوں تھا کہ چلتے پھرتے ساتھی سے پہلو تہی ممکن نہ تھی لیکن دو چھڑوں کے لیے وبال جاں۔

چنانچہ رہائش کی تلاش شروع ہوئی۔ چند ہی دنوں بعد سیکا کی معاونت سے چپلینا سے کچھ باہر سٹروگے نامی مقام پر ایک گھر کا نچلا حصہ کرائے پر حاصل کر لیا۔ یہ ایک کشادہ کمرے، سٹور، کچن اور باتھ روم پر مشتمل تھا۔ ماہانہ کرایہ تین سو مارک طے ہوا۔ گھر ملنے کی خبر جس دن سٹیشن پر سنائی، ٹامس بہت خفا ہوا۔ بولا نہ معلوم تم ایشیائی ہر حال میں پیسہ بچانے کے چکر میں کیوں پڑے رہتے ہو۔ اب ایسی رہائش کو چھوڑنا کہ جہاں ماریہ جیسی خاتون دن میں دو چار مرتبہ انکھوں کے سامنے جگمگاتی ہو، ناقابل معافی بد ذوقی ہے۔ یہ ایک حقیقت تھی کہ مالک مکان کی بہو ماریہ ایسی دلکش تھی کہ اس کا قرب صرف ہمسائیگی کی شکل میں بھی کسی شرف خاص سے کم نہ تھا۔ عام یورپی خواتین کے بالکل برعکس اس کی رنگت ہلکی گندمی، کتابی چہرہ، کالے بال، کشیدہ قد، بھرا بھرا جسم اور قلمی نین نقشہ۔ سب یہ اعلان کرتے ہوئے کہ۔

ع۔ ہم سا ہو تو سامنے آئے

ٹامس کا بوسنیا میں یہ چھٹا اور آخری مہینہ تھا۔ اس دوران اس نے مقامی زبان میں اس قدر شد بد حاصل کر لی تھی کہ ماریہ سے پانچ ساتھ منٹ کی گپ شپ لگا لیتا تھا۔ اپنا معاملہ من ترکی نمی دانم والا تھا۔ ادھر مشن چونکہ ہمارے لیے معاشی حالات کی بہتری کا ایک ذریعہ بھی مانا گیا تھا لہٰذا بچت کی فکر ماریہ کے شوق دیدار پر غالب آئی اور ہم نے میجی گوریا کو خیر باد کہا۔ لیکن سٹیشن چونکہ اب بھی یہیں تھا اس لیے آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔

میجیگوریا، جس کا مقامی زبان میں مطلب ”پہاڑوں کے بیچ“ ہے ہرزے گووینیا کا ایک مشہور قصبہ ہے۔ ہرزے گووینیا کے انتہائی جنوب میں واقع یہ قرب و جوار کے دوسرے قصبوں کی طرح کروایٹ اکثریتی قصبہ ہے۔ ہمارا سٹیشن قصبے سے باہر سرینا پہاڑی کے دامن میں واقع تھا۔ یہ وہی پہاڑی تھی جہاں 24 جون 1981 کو پیش آنے والے ایک واقعہ نے اس قصبے کو دنیا بھر کے کیتھولک عیسائیوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا تھا۔

یہ عام صبحوں جیسی ایک صبح تھی۔ اس صبح قصبے کے چھ بچے جن میں تین لڑکے اور تین لڑکیاں تھیں اور ان کی عمریں گیارہ تا سولہ سال کے درمیان تھیں، سرینا پہاڑی کی سیر کو نکلے۔ پہاڑی پر پہنچنے کے بعد وہ ایک ہموار جگہ پر کچھ دیر کے لیے سستانے کو بیٹھ گئے۔ ابھی سانس بھی برابر نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے سے کچھ فاصلے پر سفید ہالے سے جھانکتا ایک انسانی ہیولا دیکھا۔ ہیولے نے انہیں ان کی زبان میں مخاطب کیا اور پیغام امن دیا۔

بچوں کے لیے یہ منظر انہیں حواس باختہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ ہیولا کچھ دیر ان کے سامنے رہا اور پھر غائب ہو گیا۔ اس کے غائب ہونے کے ساتھ ہی بچوں نے تیز قدموں کے ساتھ واپس قصبے کی راہ لی۔ ان میں سے ہر ایک دیکھے گئے منظر کے حوالے سے بے یقینی کا شکار تھا لیکن جب ان میں سے ہر کسی نے دیکھے گئے منظر کی بعینہ تصدیق کی تو شک کی گنجائش نہ رہی۔ لیکن ان سب نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ وہ آج اس بارے میں کسی سے کوئی ذکر نہیں کریں گے اور اگلی صبح ایک بار پھر اس جگہ پر جائیں گے۔

چنانچہ اگلی صبح وہ سارے ایک بار پھر اسی مقام پر پہنچ گئے۔ یہاں کل والا منظر دوبارہ سامنے آیا۔ اب کی بار بچے چونکہ کچھ ایسے خوفزدہ نہیں تھے لہٰذا انہوں نے نسوانی ہیولے سے کچھ باتیں بھی کیں۔ ہیولے نے ان سے اپنا تعارف حضرت مریم کے طور پر کرایا۔ بچوں کو پیغام امن دیا اور اسے لوگوں میں پھیلانے کی تاکید کی۔ اس دن پہاڑی سے واپسی پر بچوں نے یہ واقعہ اپنے اپنے اہل خانہ کو سنایا۔ اس شام یہ واقعہ قصبے کے مرکز میں واقع سینٹ جیمز چرچ کے پادری اور دوسرے اہم لوگوں کے علم میں لایا گیا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ اگلی صبح یہ بچے ایک بار پھر اس مقام پر جائیں گے اور قصبے سے ساتھ جانے والے لوگ ان سے کچھ فاصلے پر رک جائیں گے۔

روایت کے مطابق تیسرے دن بھی یہ واقعہ رونما ہوا اور اس منظر کو ان کئی لوگوں نے بھی دیکھا جو وہاں کچھ فاصلے پر موجود تھے۔

بس اس کے ساتھ ہی یہ واقعہ پوری کیتھولک دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ اب یورپ، امریکہ اور کینیڈا سے زائرین اس مقام کو دیکھنے کی غرض سے جوق در جوق آنے لگے۔ ہر سال قصبے کے چرچ میں 24 تاب 26 جون بڑا اجتماع منعقد ہونے لگا۔ ایک اندازے کے مطابق اب ہر سال کے دوران تقریباً دس لاکھ زائرین اس قصبے کا رخ کرتے ہیں۔ زائرین کی اتنی بڑی تعداد کی آمد نے قصبے کے باسیوں کی تقدیر بدل کے رکھ دی اور یہاں ایسی خوشحالی آئی جو اس علاقہ میں اور کہیں دیکھنے کو نہیں ملتی تھی۔

ہمارے قیام کے وقت تک اتنا عرصہ گزرنے گزر جانے کے باوجود ویٹیکن کے چرچ نے اس منظر کے حقیقی ہونے پہ مہر تصدیق ثبت نہیں کی تھی۔ زائرین پھر بھی دنیا بھر سے یہاں پہنچ کر سرینا پہاڑی پر ایستادہ کی گئی ایک بہت بڑی صلیب کے گرد اور پھر سینٹ جیمز چرچ میں اکٹھے ہو کر دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے گڑ گڑاتے پائے جاتے تھے۔

1996 کے سالانہ اجتماع کا وقت ہماری یہاں آمد کے بعد جلد ہی آ گیا تھا۔ میں نے اس موقع پر سینٹ جیمز چرچ کے پچھواڑے میں ایک وسیع میدان میں منعقد ہونے والے اجتماع کو ازخود دیکھا اور شرکاء کے خشوع و خضوع کا نظارہ کیا۔

اس منظر کو دیکھ کر ذہن اپنی سرزمین میں منعقد ہونے والے مختلف مذہبی اجتماعات کی طرف چلا گیا اور پھر غالب کا یہ مصرعہ خیال میں گونجا۔

ع۔ واماندگی شوق تراشے ہے پناہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “بوسنیا کی چشم دید کہانی (11)

  • 07/09/2022 at 2:05 شام
    Permalink

    بہت ہی بہترین تحریر جس کو پڑھ کر اہل قلم کے ادبی زوق کا بخوبی اندازہ ہوا۔اس مضمون کو پڑھنے والے کی دلچسپی آخر تک برقرار رہتی ھے۔

Comments are closed.