ارشدیپ سنگھ: 'خالصتان مہم انڈیا کے خلاف 'ففتھ جنریشن' کی جنگ ہے'
لیکن فی الحال اس تنازع نے ایک نیا رخ لے لیا ہے۔ انڈیا میں سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہ آخرکار ارشدیپ سنگھ کو خالصتانی کس نے کہا؟ کئی صارفین نے الزام لگایا کہ ٹویٹر پر ان کی ٹرولنگ اور ویکی پیڈیا پر ان کے تعارف میں ترمیم درحقیقت پاکستان سے ہوئی ہے۔
سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے صحافی پلّوی گھوش نے کہا کہ ‘ارشدیپ سنگھ کے خلاف ٹوئٹس کی سیریز کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور اس کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ فی الحال ایسا لگتا ہے کہ یہ پاکستان سے آئے ہیں۔ اسے (ٹویٹ کو) مزید آگے نہیں بڑھایا جانا چاہئے۔’
https://twitter.com/_pallavighosh/status/1566649171058511874?s=20&t=7fx4-ZoWKU1iGYGqtG4NjA
صحافی سدھیر چودھری نے ٹویٹ کیا کہ "ٹیم انڈیا کے کرکٹر ارشدیپ سنگھ کے ویکی پیڈیا پیج میں ترمیم کی گئی اور جان بوجھ کر لفظ ‘خالصتان’ کا تعارف کیا گیا۔ آئی پی (جس کی مدد سے انٹرنیٹ سے جڑے کسی بھی کمپیوٹر یا موبائیل کی شناخت کی جا سکتی ہے) کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ یہ پاکستان سے ہو رہا ہے۔ محمد شامی کے بعد پاکستان کی جانب سے شدہ سوشل میڈیا ہینڈل اب نوجوان ارشدیپ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔’
https://twitter.com/sudhirchaudhary/status/1566659837219389440?s=20&t=7fx4-ZoWKU1iGYGqtG4NjA
یہ واضح کر دیں کہ حالانکہ آئی پی ایڈرس کی مدد سے انٹرنیٹ سے جڑے کس بھی کمپیوٹر یا موبائیل کی شناخت کی جا سکتی ہے لیکن وی پی این نامی ٹیکنالاجی کی مدد سے شناخت بدلا بھی جا سکتا ہے۔
بی بی سی اس کی تصدیق نہیں کر سکی کہ ارشدیپ کے تعارف میں ترمیم یقینی طور پر کہاں سے کیا گیا ہے۔
ایک اور ٹویٹ میں چودھری نے مزید کہا کہ ‘ہمارے کھلاڑی ارشدیپ سنگھ کے خلاف خالصتان مہم انڈیا کے خلاف ‘ففتھ جنریشن’ یعنی 5ویں نسل کی جنگ ہے۔‘
https://twitter.com/sudhirchaudhary/status/1566731743809372161?s=20&t=7fx4-ZoWKU1iGYGqtG4NjA
ویکیپیڈیا رضاکارانہ ترامیم کی اجازت دیتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی صارف اسکی زیادہ تر مضامین میں ترمیم کر سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ متناظع مضمون ہے تو اس صورت میں اسے محفوظ زمرے میں رکھا جاتا ہے جسے صرف قابل اعتماد رضاکار ہی ترمیم کر سکتے ہیں۔
انڈین میڈیا نے پیر کو اطلاع دی تھی کہ حکومت نے ارشدیپ سنگھ کے لیے خالصتانی لفظ کے تعارف کی وضاحت کے لیے ویکی پیڈیا کے اہلکاروں کو طلب کیا ہے۔
https://twitter.com/internetfreedom/status/1566778827530858497?s=20&t=7fx4-ZoWKU1iGYGqtG4NjA
بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ حکومت نے ویکی پیڈیا کے اہلکاروں کو طلب نہیں کیا بلکہ اس نے ارشدیپ کے تعارف میں ترمیم کے خلاف کی گئی کارروائی پر تنظیم سے 24 گھنٹوں کے اندر وضاحت طلب کی۔
دریں اثنا، دہلی میں بی جے پی کے ایک رہنما نے فیکٹ چیکر زبیر احمد کے خلاف ‘بد نیتی سے اور جان بوجھ کر انڈین کرکٹ کھلاڑی ارشدیپ سنگھ اور سکھ برادری کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ پھیلانے’ کے الزام میں مقدمہ درج کرایا ہے۔
https://twitter.com/AdityaRajKaul/status/1566766840847925249?s=20&t=7fx4-ZoWKU1iGYGqtG4NjA
بی جے پی رہنما نے یہ بھی ٹویٹ کیا کہ ‘ملک کرکٹ سے پہلے آتا ہے۔ میں پاکستان کے پروپیگنڈے کو مسترد کرتا ہوں اور ارشدیپ سنگھ کے ساتھ کھڑا ہوں’۔
https://twitter.com/mssirsa/status/1566678780495953920?s=20&t=7fx4-ZoWKU1iGYGqtG4NjA
بی جے پی اور دائیں بازو کے ساتھ منسلک کئی ہینڈلز نے الزام لگایا ہے کہ زبیر پاکستان کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔
گذشتہ سال ون ڈے انٹرنیشنل ورلڈ کپ کرکٹ میں محمد شامی کی ٹرولنگ، جس کے لئے دائیں بازو کے بہت سے صارفین نے پاکستان کو ملزام ٹھہرایا تھا، کا حوالہ دیتے ہوئے کوگیٹو نامی صارف نے کہا کہ ‘پچھلے سال محمد شامی کے ساتھ جو ہوا وہ ارشدیپ سنگھ کے ساتھ کیا جا رہا ہے’۔
انہوں نے مزید کہا، ‘پاکستانی بوٹس انہیں خالصتانی کہہ کر گالی دینا شروع کر دیتے ہیں، ویکی پیڈیا پر ترمیم کرتے ہیں اور اسی اشارے پر زبیر اسے انڈیا میں ہندوؤں کے ذریعے کئے گئے حرکت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اب ہم انڈیا میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری پر مغرب میں سرخیاں دیکھیں گے’۔
https://twitter.com/cogitoiam/status/1566609231402307584?s=20&t=7fx4-ZoWKU1iGYGqtG4NjA
زنیر احمد نے ٹویٹس کا ایک مجموعی تصویر ٹویٹ کیا تھا جس میں متعدد ٹوئٹر صارفین ارشدیپ سنگھ کو کیچ چھوڑنے کے بعد خالصتانی کہ رہے تھے۔
https://twitter.com/zoo_bear/status/1566495108819992576?s=20&t=7fx4-ZoWKU1iGYGqtG4NjA
چند صارفین نے نشاندہی کی کہ انڈیا میں اقلیتوں کی حب الوطنی ہمیشہ سوالوں میں رہتی ہے۔
جیسے ہی سوشل میڈیا پر ارشدیپ کو خالصتانی کہا گیا، صحافی رعنا ایوب نے کہا، ‘ارشدیپ سنگھ 23 سال کے ہیں۔ خدا کے لیے یہ ایک میچ ہے۔ کئی بہترین کھلاڑیوں نے بھی کیچ چھوڑا ہے’۔
انہوں نے مزید کہا، ‘انہوں نے آخری اوور تک چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ مقابلہ کیا جب کہ گمنام ‘کی بورڈ’ جنگجو حب الوطنی کے سرٹیفکیٹس دے رہے ہیں’۔
https://twitter.com/RanaAyyub/status/1566510889892597760?s=20&t=7fx4-ZoWKU1iGYGqtG4NjA
ماضی میں بھی ہندو دائیں بازو کے حامی کسان مظاہرین پر خالصتانی ہونے کا الزام لگایا ہے۔
اس لفظ کا استعمال اکثر سکھوں کے لیے توہین کے طور پر کیا جاتا ہے کیونکہ بنیادی طور پر سنہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں بہت سے سکھوں نے ریاست پنجاب کو سکھوں کی ایک آزاد ریاست خالصتان میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
گزشتہ سال بھی جب پاکستان نے ورلڈ کپ میں انڈیا کو شکست دی تھی تو میچ کے فیصلہ کن لمحے میں محمد شامی کو ان کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے شدید ٹرول کیا گیا تھا۔
اس وقت انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی شامی کی حمایت میں آئے تھے۔ اس فعل کو بدقسمت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، 'یہ انسانی صلاحیت کی سب سے کم سطح ہے اور میں ان لوگوں کو (ٹرولس کو) اسی طرح دیکھتا ہوں۔‘
کوہلی، شامی اور ہربھجن سنگھ سمیت کئی کھلاڑی اور عام لوگ ارشدیپ سنگھ کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔
سنگھ کے والد نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ انہوں نے میچ کے بعد سنگھ سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ’ارشدیپ کے الفاظ یہ تھے کہ میں ان تمام ٹویٹس اور پیغامات پر ہنس رہا ہوں۔ میں صرف اس سے مثبت تعلیم لوں گا۔ اس واقعے نے مجھے مزید اعتماد دیا ہے۔‘


