سارا اثاثہ عمر کا سیلاب لے گیا

وطن عزیز میں حالیہ سیلاب نے بیشتر علاقوں کو مکمل طور پر تہہ و بالا کر دیا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سر فہرست ہے جنہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کی اچھی خاصی قیمت چکائی ہے۔ یونیسیف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب نے ایک صدی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے چند صوبوں میں 30 سال کی اوسط سے 5 گناہ زیادہ بارش ہوئی جبکہ بارشوں اور سیلاب سے 400 بچوں سمیت ایک ہزار 200 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارشوں اور سیلاب سے 11 لاکھ سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پانی سے پیدا ہونے والی مہلک بیماریوں کے مزید تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈائیریا، ہیضہ، ڈینگی اور ملیریا پھیلنے کے زیادہ خدشات ہیں۔ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں اور نقصان کا تخمینہ لگانے میں اگرچہ بہت وقت لگ جائے گا لیکن ایک اندازے کے مطابق ملک کی 5 ہزار کلومیٹر سڑکیں تباہ اور 35 لاکھ ایکٹر فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ سیلابی صورتحال کے باعث 11 لاکھ مویشیوں کا نقصان ہوا۔
یعنی آبی تباہ کاریوں سے جو نقصان اب تک ہو چکا اس سے کہیں زیادہ نقصان آنے والے دنوں میں ہو سکتا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں یک دم ہوشربا اضافہ مستقبل کے بارے میں نیک شگون نہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان غذائی اجناس کے حوالے سے انتہائی شدید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے اور اس سے بچاؤ کے لئے حکومت کو فوری اور قابل عمل حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ میرے خیال میں حالیہ سیلاب نے پاکستان کو کم از کم دس سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ابھی تک ہم 2010 میں آنے والے سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال سے مکمل طور پر نکل نہیں پائے تھے کہ ایک اور سیلاب نے ہمیں آن لیا۔ انفراسٹرکچر کی بحالی اور تباہ کاریوں کے اثرات سے نمٹنے میں ہمیں طویل عرصہ درکار ہو گا۔
حالیہ سیلاب اپنی ابتدائی اور کاری ضرب لگا چکا تو سیاست میں مصروف ”چوں چوں کے مربہ“ پر مشتمل حکومت کو تقریباً 10 روز بعد سیلاب زدگان کا خیال آیا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان بھی مختلف شہروں میں ”جلسہ جلسہ“ کھیلتے رہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں نے عوامی دباؤ کے سبب ریلیف فراہم کرنے کی سرگرمیاں شروع کیں جو نہ ہونے کے برابر تھیں۔ بعد ازاں سیاست میں مصروف عمران خان کی ٹیلی تھون میں فنڈ ریزنگ ان کی جانب سے ایک خوش آئند عمل تھا۔
حکومتی سطح پر غیر سنجیدگی اور امدادی سرگرمیوں میں تاخیر ہی شاید وہ وجوہات تھیں جن کے باعث عام آدمی حکومتی فنڈ ریزنگ مہم سے کترا کر نجی فلاحی اداروں کو فوقیت دیتے ہوئے امدادی سرگرمیوں میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ عام شہری اس جواب کے بھی متلاشی ہیں کہ ”سرکار“ کو دیے جانے والے ان کے عطیات مستحقین تک پہنچیں گے بھی یا نہیں؟ ایمرجنسی حالات میں ناقص حکمت عملی اور ناکافی حکومتی اور انتظامی کردار جو تھا سو تھا شومئی قسمت کہ ہم نے بھی ہمیشہ کی طرح بحرانی کیفیت میں ”مال بناؤ“ مہم شروع کر دی اور اس ”کار خیر“ میں سب سے زیادہ حصہ ذخیرہ اندوزوں نے ڈالا ہے۔
ہمارے ان رویوں کی وجہ معاشرتی، سماجی اقدار سے دوری ہے۔ قدرتی آفات ہوں یا کوئی بھی بحرانی کیفیت ایسے حالات میں ”کالی بھیڑوں“ نے جہاں ملک کو نقصان پہنچایا وہیں درد دل رکھنے والے پاکستانیوں نے انسانیت، اسلام اور وطنیت کو جلا بخشی ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی انفرادی و اجتماعی حیثیت میں سیلاب زدگان کی مدد کر رہے ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن جیسے ادارے ان علاقوں تک رسائی کے لئے کوشاں ہیں جن سے وفاقی و صوبائی حکومتیں بھی نظریں چرائے ہیں۔ نوجوانوں کی ملک گیر تنظیم ”یوتھ ایسوسی ایشن آف پاکستان“ بھی ملک بھر بالخصوص اندرون سندھ اپنا مثالی کردار کر رہی ہے۔ نوجوان رضاکاروں اور نوجوانوں پر مشتمل تنظیمات کی فلاحی سرگرمیاں دیکھ کر دل مطمئن ہوتا ہے کہ ملک کا مستقبل غیر محفوظ ہاتھوں میں نہیں۔
بد ترین سیلاب سے اب تک 1 کروڑ لوگ براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ بلاواسطہ متاثرین کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ناقابل تلافی نقصانات ہوئے لیکن جو ہوا اس پر آنسو بہانے کی بجائے آئندہ ایسے حالات سے نمٹنے کی تیاری کی جائے۔ قدرت پانی کے بحران کا شکار پاکستان کو پانی فراہم کر رہی ہے اور اسے محفوظ کرنے کے لئے چھوٹے، بڑے ڈیمز کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر وقت کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کیا کرتی ہے، کیا نہیں اس بات سے قطع نظر ہمیں کمر کسنے کی ضرورت ہے۔
ہم ہی وہ لوگ ہیں جو قدرتی آبی گزر گاہوں پر ”حصہ بقدر جثہ“ قابض ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم ہی وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں کے کوڑا کرکٹ سے پانی کی گزرگاہوں کو بند کر دیتے ہیں اور ہم ہی وہ لوگ ہیں جو پانی جیسی قدرتی نعمت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے اسے ضائع کر دیتے ہیں۔ ہم ہی وہ لوگ ہیں جو درختوں کو کاٹ کر فطرت کو رد عمل کے لئے للکارتے ہیں۔ ہمیں اپنی روش بدلنی ہوگی۔ بے گھر سیلاب متاثرین کی آباد کاری اور انہیں اپنے قدموں پر دوبارہ کھڑا کرنے کے لئے ایک ایک شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس ضمن میں ہم ان لوگوں کو انفرادی و اجتماعی حیثیت میں اپنے عطیات دے سکتے ہیں جن کے کام سے ہم مطمئن ہوں اور ہمارا ضمیر ہمیں ان کے ساتھ چلانے پر ملامت کی بجائے دلالت کرے۔ بے یار و مدد گار سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے ہماری توجہ اور امداد کے منتظر ہمیں پکار رہے ہیں کہ
آ جا کہ انتظار میں تیرے ہی رہ گیا
سارا اثاثہ عمر کا سیلاب لے گیا

