سندھ میں پیپلز پارٹی کے متبادل نہیں، مدِ مقابل کی ضرورت ہے
پیپلز پارٹی 2008 سے سندھ میں بر سر اقتدار ہے، لیکن سیلابی صورتحال میں ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں 2010 تھے۔ بارہ سال کے عرصے میں کشمور سے کاچھو، کاچھو سے کراچی تک سندھ قسطوں میں ڈوبا ہے۔ ان بارہ سالوں میں سندھ میں کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ کم و بیش وہی وزیر و میشر ہیں، بس بدلی ہیں تو وزارتیں، یا پھر نسلیں۔
مثلاً 2010 میں جب سیلاب آیا تو اس وقت ضلع کشمور سے ہمارے نمائندے میر ہزار خان بجارانی تھے، اب مرحوم کے صاحبزادے شبیر علی ہیں۔ دوسرے امیدوار عابد علی سندرانی، جو اس وقت (ق) لیگ میں تھے اور اب پیپلز پارٹی میں ہیں۔ کشمور ہی سے منتخب ہونے والے کھوسہ اور مزاری خاندان کی ضلع کے لیے کی گئی خدمات کو بھلا کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے؟
کشمور کے پڑوسی جیکب آباد میں جکھرانی، سومرہ اور سرکی خاندان کی سلطنت ہے۔ جیکب آباد سے شکارپور کی طرف جائیں تو وہاں مہر، جتوئی اور بھیو قبائل کے سرداروں کا راج ہے۔ اس کے علاوہ آغا سراج درانی اور امتیاز شیخ کا تعلق بھی شکار پور سے ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے وزیر و مشیر بنتے ہوئے آ رہے ہیں۔
شکارپور سے ذرا فاصلے پر پیپلز پارٹی کا گڑھ، بھٹو کا شہر لاڑکانہ ہے۔ وہاں بگھیو، سیال، عباسی، کھوڑو خاندان کے علاوہ بھٹو خاندان کی خاندانی نشستوں پر فریال تالپور اور بلاول بھٹو آپ کو عوام کی خدمت کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ لاڑکانہ ڈویژن میں ہی ایک اور ضلع قمبر شہداد کوٹ ہے۔ ’کوٹ‘ سندھی میں قلعے کو کہا جاتا ہے۔ قمبر شہداد کوٹ کو مگسی، چانڈیو اور اسران سرداروں کا سیاسی قلعہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ یہ شمالی سندھ کے پانچ اضلاع کے سترہ ایم اپی ایز، آٹھ ایم این ایز، اور چند خاندانوں کی مثال نہیں بلکہ پورے سندھ کا یہی حال ہے۔ پیپلز پارٹی نے کمال مہارت سے تمام جیتنے والے سردار، زردار، میر و پیر اپنے ساتھ ملا لیے ہیں۔ لہذا نہ اب کارکردگی کی پرواہ ہے اور نہ ہار کا ڈر۔
حکمرانوں کو بے شک کارکردگی کی پرواہ نہ ہو لیکن موجودہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے لوگوں کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ سندھ کے لوگوں کے غم و غصے کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ سیلاب سے نبرد آزما ہونے کے بعد ان نمائندوں کا احتساب کریں گے، جنہیں کوٹ ڈی جی میں پانی دیکھ کر وینس کی یاد ستا رہی تھی۔ جو پچاس پچاس روپے تقسیم کر کے متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے میں مصروف تھے۔ جو اپنے پاؤں منرل واٹر سے دھو رہے تھے اور دوسری طرف عوام کہیں پینے کے صاف پانی کو ترس رہے تھے تو کہیں گہرے پانی میں غوطے کھا رہے تھے۔ سدھرے ہوئے معاشروں میں عوامی نمائندے عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں، لیکن پاکستان میں کچھ اور ہی چکر ہے۔
قابل بھروسا متبادل ہے تو بتلاؤ؟
دوسرے صوبوں کے شہری سندھیوں سے سوال پوچھتے ہیں کہ آپ انہیں کیوں منتخب کرتے ہو؟ عام سندھی جواب دیتے ہیں کہ کوئی قابل بھروسا متبادل ہے تو بتلاؤ؟
مسلم لیگ نون نے کبھی پنجاب سے نکلنے کی صحیح معنوں میں کوشش نہیں کی۔ شاید اس کی بڑی وجہ ماضی میں پنجاب سے اتنی نشستیں حاصل کرنا تھا کہ لیگی قیادت کو کسی دوسرے صوبے میں پارٹی کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔
مشرف دور میں مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کو سندھ میں متبادل کے طور پر پیش کیا گیا۔ ق لیگ تو بنی ہی گجرات کے لیے تھی، لیکن اسے زبردستی سندھ پر مسلط کرنے کی کوشش گئی، تجربہ ناکام رہا، نتیجتاً ق لیگ سکڑ کر گجرات تک محدود ہو گئی۔ ایم کیو ایم کا طرز سیاست نہ ایم کیو ایم کو راس آیا نہ عوام کو۔ انہیں منزل کی بجائے رہنما چاہیے تھا، نہ انہیں منزل ملی نہ رہنما نتیجے میں تقسیم در تقسیم کا شکار ہو کر اب کراچی کے دو اضلاع کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔
جماعت اسلامی جو پہلے اکثر اتوار کے روز کراچی کی شاہراہوں پر فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے ریلیاں نکالا کرتی تھی، اب کبھی کبھار کے الیکٹرک اور سی ایم ہاؤس کے باہربیٹھی نظر آتی ہے۔ اے این پی اپنا بوریا بستر لے کر کب کی چارسدہ سدھار گئی۔ جے یو آئی ف سندھ میں موجود ہے لیکن صرف مدارس کے اندر فنکشنل لیگ خود ہی فنکشنل نہیں تو اس سے بھلا کیا امید رکھنا؟
بچ گئی تحریک انصاف: تحریک انصاف کے روح رواں عمران خان پنجاب اور خیبر پختونخوا کے عوام کی نبض جانتے ہیں۔ لیکن وہ سندھیوں کے جذبات سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کے دور اقتدار میں کبھی کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے کی بات کی جاتی تو کبھی سندھ میں گورنر راج لاگو کرنے کی دھمکی دی جاتی۔ کبھی سندھ کے جزیروں پر نیا شہر بنانے کا اعلان کر کے سندھیوں کو چڑایا جاتا۔ کبھی ان کی پارٹی کی جانب سے اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے کا شوشہ چھوڑا جاتا، جب ان باتوں سے فرصت ملتی تو پھر صدارتی نظام کے فوائد گنوانے میں توانائی صرف کی جاتی۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کے علاوہ کسی دوسری جماعت کو عوام اس لیے بھی قبول نہیں کرتے کہ وہ سندھ میں انہی وڈیروں کو ساتھ ملاتے ہیں ہیں جنہیں وہ برا بھلا کہتے ہیں۔
مثلاً تحریک انصاف نے جیکب آباد سے میاں محمد سومرو، اسلم ابڑو، گھوٹکی سے شہریار شر، افتخار لنڈ، مرحوم علی محمد مہر، کشمور سے میر غالب ڈومکی، تھرپارکر سے ارباب غلام رحیم اور دادو سے لیاقت جتوئی جیسے سیاستدان جماعت میں شامل کر کے جو سندھ میں انقلاب برپا کیا جاتا وہ پھر دیکھنے لائق ہوتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بالا مذکورہ سیاسی جماعتوں نے سندھ سے بچے کھچے وڈیروں سے ہی ہاتھ ملانا ہے تو پھر کیونکر ان کو پیپلز پارٹی کا متبادل بنایا جائے؟
گزشتہ دو دہائیوں میں سندھ میں پڑھا لکھا طبقہ، مڈل کلاس ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ان میں سے بیشتر نے بڑے شہروں میں رہائش اختیار کی ہے۔ ان پر توجہ دی جائے انہیں سیاسی طور پر متحرک بنایا جائے۔
با الخصوص کراچی اور حیدرآباد میں بسنے والے سندھیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ایسی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جائے، جو انتخابی سیاست پر یقین رکھے، جو رواداری اور ہم آہنگی کی بات کرے۔ مثلاً کراچی میں اس وقت ملیر واحد ضلع ہے جہاں سندھی اکثریت میں ہیں۔ ملیر سے صوبائی اسمبلی کی پانچوں نشستیں پیپلز پارٹی کے پاس ہیں۔ جد و جہد کا آغاز یہاں سے شروع کریں۔ پھر کراچی کے دیگر اضلاع با الخصوص، جنوبی، مشرقی کے علاوہ حیدر آباد اور سکھر کے شہری حلقوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے سیاست کریں۔ 2023 نہ سہی 2033 میں یہ جمود ٹوٹے گا۔


