جدید تعلیم کے خواہاں، نظر ثانی کی ضرورت
قریبا 30 ہزار زائد رجسٹرڈ مدارس میں 25 لاکھ سے زیادہ طالب علموں کو مختلف فقہ کے مسالک کے تحت دینی تعلیم دی جا رہی ہے (جبکہ اصل تعداد اس سے کئی گنا زائد ہے ) ۔ ان میں سب سے اہم بات ان طلبا و طالبات کے تعلیمی اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ 23 کروڑ کی آبادی میں لاکھوں طالب علموں کو حکومتی امداد کے بغیر دینی تعلیم سے آراستہ کرنا ایک بڑا کام ہے۔ جب کہ ہزاروں مدارس میں لاکھوں طالب علموں کو بورڈنگ ہاؤس طرز پر رہائش و کھانے پینے کی خدمات بھی تقریباً مفت فراہم کی جاتی ہے۔
فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر کے بقول چیف آف آرمی اسٹاف کا نظریہ ہے کہ ”اپنا فقہ نہ چھوڑو اور کسی کا فقہ نہ چھیڑو“ ۔ 2019 میں مسلح افواج کے ترجمان نے بڑی صراحت کے ساتھ اس بات کو واضح کیا تھا کہ مدارس کے دینی نصاب میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی، بلکہ اس کے ساتھ عصری تعلیم کا نصاب مرج کیا جائے گا۔ ان مضامین کو پڑھانے کے لئے چار پانچ اساتذہ کی ضرورت ہوگی۔ بقول ترجمان علما ء اکرام ان اصلاحات پر متفق ہیں۔ تاہم مدارس میں تبدیلی نصاب اور حکومتی کنٹرول میں لانے سے متعلق مدارس کے تحفظات تواتر کے ساتھ آرہے ہیں۔ مدارس اصلاحات پر مکمل عمل درآمد سرخ فیتے کا شکار ہے۔
مدارس میں اضافے کا ایک اہم مرکزی سبب ایرانی خمینی انقلاب بھی بتایا گیا۔ جس کے ردعمل میں مدارس کی تعداد بڑھی۔ 40 برس میں صرف 66 مدارس ماہانہ کے حساب سے ملک گیر سطح پر قائم ہوئے۔ اس حوالے سے اس میں اہم بات یہ بھی ہے کہ قائم ہونے والے مدارس تعلق کسی ایک مکتب فکر سے نہیں بلکہ تمام مسالک نے مدارس قائم کیے ۔ اس لئے مدارس کی تعداد کو کسی خصوصی مکتب فکر سے جوڑا بھی نہیں جاسکتا۔ مدارس اور انتہا پسندی کا لیبل امریکا کے افغانستان پر حملے کے بعد جارحیت کو روکنے والے ان مدارس کے طالبان سے جڑا جو کہ غیر ملکی افواج کو اپنی سر زمین سے نکالنے کے لئے مدارس سے مسلح مزاحمت کی جانب گامزن ہوئے۔ مگر اس سے قبل مدارس کے یہی طلبا امریکا اور نیٹو افواج کے تمام ممالک کے لئے غیور قوم اور مجاہد تھے جو کمیونزم کی یلغار روکنے کے لئے سرخ ریچھ کو روک کر دنیا کی عظیم خدمت سر انجام دے رہے تھے۔
سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کے بعد امریکا کے مقاصد پورے ہو گئے تاہم پاکستان کے پڑوسی ملک ایران میں بادشاہت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور خمینی انقلاب نے پورے اسلامی خطے کی صورتحال کو تبدیل کر دیا تھا۔ جس وجہ سے مغرب میں خدشات ابھرے کہ اگر تمام اسلامی ممالک میں بھی مسلک یا فرقے کے نام پر اس قسم کے انقلاب برپا ہوئے تو ان کا اثر رسوخ ختم ہو جائے گا۔ شاید ماضی کا خوف ان پر حاوی ہو گیا کہ خلافت راشدہ اور بعد میں مسلم مملکتوں نے ایران، افریقہ اور یورپ کا رخ کیا، صلیبی جنگیں ہوئیں۔
یہاں تک کہ خلافت عثمانیہ کے آخری فرما رواں تک ”جزیہ“ دیا گیا۔ قریب ترین قیاس یہی کیا جاتا ہے کہ مغرب اس بات سے ہمیشہ خائف رہتا ہے کہ جس دین میں انسان کے نزدیک اپنی جان کی کوئی اہمیت نہیں اور اسے، اس کے خاندان دوست احباب سمیت مسلم امہ کو ”شہادت“ کے نام پر خوشی ملتی ہے۔ ایسے انسانوں کو بزور طاقت زیر کرنا بڑا مشکل اور ناممکن کام ہے۔ یہ جذبہ و عقیدہ ’جہاد فی سبیل اللہ‘ صرف اسلام میں ہے۔ جبکہ مسلمان کے علاوہ سب موت سے خوف زدہ رہتے ہیں۔
اس خوف کے تناظر میں اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح ایجاد کی گئی، مدارس کو دہشت گردی کی تربیت گاہ اور طالب علموں کو شدت پسند قرار دے دیا گیا۔ تخمینہ لگایا گیا کہ لاکھوں طالب علم فارغ التحصیل ہو رہے ہیں اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مغرب کی دانست میں ان کی تعداد چند برسوں میں کروڑوں تک پہنچ جائے گی۔ دوسری جانب مدارس نے طالب علموں کو دینی تعلیم سے آراستہ تو کیا لیکن مغرب کو کھلی چھوٹ مل گئی کہ قدرت کے بیش بہا خزانوں و وسائل پر اسلام مخالف قوتیں غالب آجائیں۔
سائنس میں کائنات کا علم مسلمانوں کی اعلیٰ قابلیت و غور و فکر مثالی تھا۔ لیکن یہ سب کچھ ایک وقت تک قائم رہا اور اجتہاد کا راستہ بند ہو کر جمود کا شکار ہو گیا۔ مغرب ایک جانب جاہلیت کا استعارہ تھا اور جادو ٹونے سمیت مختلف خرافات و توہمات میں مبتلا گناہوں کی معافی ریٹ مقرر کیا کرتا تھا اور مسلم علما ء آئے روز نئی ایجادات کر رہے تھے۔ مسلمان ایک ترقی یافتہ، مہذب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ باشعور با اخلاق قوم شمار ہوتی تھی۔
برصغیر پاک و ہند ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں جدید عصری تعلیم کا راستہ مدارس میں آنے سے روک گیا۔ بڑے بڑے مدارس سے جدید علوم غائب ہو گئے۔ مسلکی اختلافات کا فائدہ مغرب نے اٹھایا اور مسلمانوں کا علمی خزانہ چوری کر لیا۔ اب مسلمان طالب علم اپنے ہی علمی خزانوں کا ترجمہ کر رہے ہیں تو بھاری فیسوں کے ساتھ مہنگے غیر ملکی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، سب نمائشی بنا کہ فلاں نے فلاں مغربی سسٹم کے تحت اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم مکمل کی۔
لیکن موجودہ دور میں بھی ایسے مسلم سائنس دانوں نے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ جہاں بیٹھنے کے لئے دری نہیں تو دھوپ سے بچنے کے لئے چھت بھی میسر نہیں ہوتی تھی۔ ایسے نابغہ روزگار طالب علموں کو مغربی ممالک نے اپنا شہری بنالیا اور ترقی پذیر ممالک اپنے ذہین طالب علموں سے محروم ہونے لگے۔ ترقی پذیر اور خانہ جنگی کے شکار ممالک کے نزدیک جدید دنیا میں اپنا سکہ جمانے کے بجائے اپنوں کا خون بہانے کا سلسلہ طول پکڑتا چلا گیا اور اب امیر ترین مسلم ممالک بھی اپنے شہریوں کو فلکیات، سائنس، طب اور جدید ٹیکنالوجی کا علم دینے کے لئے مغرب کے محتاج ہیں اور اپنے مالی استعدادی طاقت ہونے کے باوجود بیرون ملک ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
اس طرح سرمایہ بھی ہاتھ سے نکلا جاتا ہے اور ذہین طالب علم بھی۔ پاکستان مسلم ممالک و دنیا کا جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے ہماری بیشتر پالیسیاں مغرب و امریکا کے تابع رہی۔ مملکت میں دوہرے نظام تعلیم نظام کا خاتمہ کیا جائے۔ قومی زبان کو ترجیح دیتے ہوئے دیگر غیر ملکی زبانوں کو صوابدید اختیار کے تحت کیا جائے۔ سرکاری زبان و تمام اداروں میں میرٹ پر قومی زبان اردو نافذ کی جائے۔ تمام ریاستی و حکومتی اقدامات قومی زبان میں سپریم کورٹ کی احکامات کے مطابق کی جائے۔


