کیا لوگ ملکہ کنسورٹ کے روپ میں کمیلا پارکر کو قبول کریں گے؟


یہ بات ہے 1995 ءکی جب بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ہر دلعزیز شہزادی ڈیانا نے اپنی شادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اداس لہجے میں کہا۔ ”اس شادی میں ہم تین تھے ’میں‘ کمیلا اور چارلس جو اس کے دیرینہ عاشق تھے۔“ اس موقع پر انہوں نے اپنی حریف کو ”روٹ ویلر“ کا خطاب بھی دیا۔

1992 میں ”ڈیانا ’اس کی سچی کہانی‘ ’کے عنوان سے اینڈریو مورٹن کی کتاب میں بھی یہی دعویٰ سامنے آیا۔ اس کتاب میں شہزادی ڈیانا نے اپنے شوہر شہزادہ چارلس کے ساتھ اپنی ناخوشگوار شادی سے متعلق بھی انکشافات کیے جن کی وجہ سے ڈیانا ہمیشہ اداس دکھائی دیں۔ ایک خاص ہستی ہونے کے باوجود ان کی آنکھوں میں ہمیشہ آنسو تیرتے نظر آتے تھے۔ ان کی خوبصورت شخصیت اور عوام کے لئے دھڑکتے ہوئے دل کی وجہ سے دنیا بھر میں ان کے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مداح تھے۔

برطانوی شہزادی ڈیانا یکم جولائی انیس سو اکسٹھ کو برطانیہ میں پیدا ہوئیں ’انہیں ہمیشہ سے ہی فلاحی کاموں میں دلچسپی تھی۔ پرکشش شخصیت اور خوبصورتی کی مالک برطانوی شہزادی نے 29 جولائی 1981 کو برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس کے ساتھ شادی کی۔ شہزادی ڈیانا اور شہزادے چارلس کی شادی دنیا کی مشہور ترین شادیوں میں شامل ہے لیکن افسوس کہ شہزادی ڈیانا اپنی ازدواجی زندگی کو کامیابی سے ہمکنار نہ کر پائیں۔ اس شاہی جوڑے کی زندگی میں کمیلا پارکر‘ جیمز گبلی ’جیمز ہیوئیٹ اور لیگی بورک جیسے رقابت دار آئے اور بالآخر سولہ سال بعد اگست 1996 میں ان دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔

ڈیانا نے ذاتی زندگی کے تلخ تجربے سے دل برداشتہ ہو کر خود کو فلاحی سرگرمیوں میں مزید مصروف کر لیا۔ ڈیانا کی زندگی کی طرح ان کی موت بھی دنیا کے لئے سب سے بڑی خبر ثابت ہوئی۔ 31 اگست 1997 کو ڈیانا پیرس کے ہوٹل سے اپنے دوست دودی الفائد کے ساتھ روانہ تو ہوئی لیکن منزل تک نہ پہنچ سکیں۔ ان کی گاڑی ایک خطرناک حادثے کا شکار ہو کر مکمل طور پر تباہ ہو گئی‘ حادثے میں شہزادی کے ساتھ ان کے دوست بھی جان کی بازی ہار گئے۔ ڈیانا کی آخری رسومات کو دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں نے براہ راست دیکھا۔

ڈیانا کی موت کے بعد چارلس اور کمیلا آہستہ آہستہ عوام میں ایک ساتھ نظر آنے لگے ’چارلس کے والد شہزادہ فلپ کے لئے سوگواروں کے چھوڑے گئے پھولوں کے ساتھ لوگوں نے اس جوڑے کو بھی دیکھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے انہیں ایک جوڑے کے طور پر قبول کر لیا۔ 2005 میں ان کی شادی ہوئی‘ گو کہ کمیلا کو عوام کی جانب سے کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مستقبل کے بادشاہ کی وفادار بیوی کا خطاب ضرور مل گیا۔

کمیلا عوام کی محبت نہ جیت سکیں ’شاید یہی وجہ ہے کہ ملکہ الزبتھ نے اپنے تحت سنبھالنے کی 70 ویں سالگرہ کے موقعے پر ایک پیغام میں کہا کہ ان کی یہ‘ مخلصانہ خواہش ’ہے کہ کمیلا کو کوئین کونسورٹ کا خطاب دیا جائے۔ ملکہ الزبتھ کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ جب شہزادہ چارلس بادشاہ بنیں تو ڈچز آف کارن وال کمیلا کو‘ کوئین کونسورٹ ’کے نام سے جانا جائے۔ ماضی میں بھی ایسی تجاویز سامنے آئیں کہ کمیلا کو اس وقت شہزادی کونسورٹ کہا جائے تاہم ملکہ کی جانب سے اس اعلان کے بعد اس چیز کی راہ ہموار ہو گئی ہے کہ کمیلا کو مستقبل میں ملکہ پکارا جائے۔

کوئین کونسورٹ کسی برسراقتدار بادشاہ کی بیوی کو کہا جاتا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں ان کا خطاب ملکہ کمیلا ہو گا۔ ملکاوں کے شوہروں کے لئے ایک مختلف طریقہ کار رہا ہے جیسے کہ شہزادہ فلپ یا ملکہ وکٹوریہ کے شوہر شہزادہ البرٹ جو کہ پرنس کونسورٹ بنے ہیں‘ بجائے بادشاہ کونسورٹ کے خطاب کے۔ ویسے تو حسب روایت کمیلا کو خود بخود چارلس کے بادشاہ بننے پر ملکہ بن جانا چاہیے تھا مگر عوامی رائے میں غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے آنجہانی ملکہ نے اپنی خواہش ظاہر کی۔

مئی 2022 میں YouGov نے ایک سروے کیا جس کے مطابق صرف 20 فیصد لوگ کمیلا کو ”ملکہ“ کے روپ میں قبول کرتے ہیں ’39 فیصد ”شہزادی کنسورٹ“ کے حق میں ہیں باقی 40 فیصد ایسے ہیں جو اس پیغام کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں۔

بہرکیف اب وہ وقت آ گیا ہے جب کہ کمیلا کے سر پر شاہی تاج سجایا جائے گا ’ملکہ کے پیغام اور خواہش کے مطابق اس معاملے میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ ملکہ کنسورٹ کہلائی جائیں گی لیکن یہ سوال اب بھی اپنی جگہ ہے کہ کیا وہ عوام کے دلوں سے ماضی کے سیاہ داغوں کو مٹا پائیں گی؟

Facebook Comments HS