شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

جو رنج۔ہست و بود سے تجھے نہیں شغف کوئی
تو پھر خدائے خیر و شر مارا اختلاف ہے
ماہ نور رانا
لحظہ بھر کو آپ اپنی شناخت کا خول اتار کر ایک جانب دھر دیں، آپ کٹر مذہبی ہیں، دہریہ ہیں، انقلابی سوشلسٹ ہیں یا لبرل ڈیموکریٹ، اپنے تمام عقیدوں کے دائرے سے ذرا باہر آئیں۔ آج کا مدعا ہزاروں سال پرانا سوال خدا کا وجود، ہونا نہ ہونا ہرگز نہیں۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ جو خدا رزاق ہونے کا دعویدار ہے اسی کی بچھائی اس زمین میں ہر دن پچیس ہزار سسکتے حلق پانی کی بوند بوند کو ترس کر تڑپتے ہوئے گرم ریت پر مر جاتے ہیں۔
مائیں سوکھی چھاتیاں لیے آسمان کو پتھرائی آنکھوں سے دیکھتی ہیں اور خدا پر ہزاروں سوال پھینک دیتی ہیں۔ اسی زمین پر رئیس زادے اونچی فصیلوں کے ٹھنڈے محلات میں اپنے صحتمند کتوں کو کروڑوں کی غذائیں دیتے ہیں۔ یہیں غریب آگ کے انگاروں پر تپتی دوپہر پتھر پیس پیس کر سوکھی روٹی کی قیمت اجرت حاصل کرتا ہے اور یہیں مخملیں بستر پر ٹانگیں دراز کیے خوبرو جوانوں پر اربوں کے من و سلویٰ اترتے ہیں۔ یہیں محنت کش مزدور لہو رو رو کر اولاد سمیت کسی ٹرین کے آگے کود جاتا ہے اور یہیں چند خاندان نسل در نسل شراب و شباب کی رنگین محفلوں میں مست ہیں۔
یہیں طبقاتی کشمکش سے ٹوٹے نوجوان ڈگریاں تھامے فوٹوسٹیٹ کی دکانوں پر بار بار ہاتھ کی لکیریں دیکھتے ہیں اور یہیں امراء کے جوان خون ہر فکر سے آزاد جنت میں من چاہا جیتے ہیں۔ اسی زمین پر کہیں مائیں تیزاب و تشدد سے جلے کٹے جسم لیے طوائف بن کر معصوم اولاد کا پیٹ بھرتی ہیں اور یہیں چند بیبیاں عمر بھر اربوں کی بلند جائیدادوں میں پرتعیش زندگیاں جیتی ہیں۔
یہ الم آج کے نہیں، یہ متروک رنج ابتدائے آفرینش سے چلے آرہے ہیں اور ہر دور ہر سماج میں یونہی قائم رہے۔ ایسے میں بنیادی انسانی عقل اور جذبات کا ”خدا“ کو کٹہرے میں لا کر جرح کرنے کا تقاضا حق بجانب ہے۔ یہ سوال درست ہے کہ اگر وہ ”علی کل شئی قدیر“ ہے تو انصاف کیوں نہیں کرتا؟ اگر وہ سب کا رب ہے تو یہ ہنگامہ کیوں لگائے بیٹھا ہے؟ وہ رب للعالمین ہے تو نعمتوں کی غیر منصفانہ تقسیم میں عدل کیوں نہیں؟ کیا باقی انسانی سسکیاں اور دہائیاں پرلطف تماشے سے زیادہ کچھ نہیں؟ انسانی یکسانیت، ستر ماؤں سا پیار، مساوات، کیا سب دعوے مکر و فریب ہیں؟ یہ ظلم دیکھ کر خاموش خدا سے روتے انسان کا سوال اس کا بنیادی حق ہے!

