عمران خان بند گلی میں


اک انتظار ہی کوئی پرانے والا تھا
نہ آنے والا تھا کوئی نہ جانے والا تھا
وہیں کہیں کئی دروازے بنتے جاتے تھے
میں جس جگہ کوئی دیوار اٹھانے والا تھا
لپیٹ دی ہے کسی نے بساط ہی آ کر
ابھی میں اپنی کہانی سنانے والا تھا
کسی کے دل میں جگہ ڈھونڈتا ہی رہ گیا ہوں
وگرنہ میں بھی کبھی آشیانے والا تھا
بس ایک سعیٔ مسلسل کی رائیگانی تھی
کمانے والا تھا کوئی نہ کھانے والا تھا
دراصل اتنا ہی بے فیض تھا ہمارے لیے
یہاں وہ جتنے بڑے آستانے والا تھا
گزر چکا ہوں برا وقت کاٹ کر یکسر
اگرچہ اچھا زمانہ بھی آنے والا تھا
کسی کی صرف نظر کا شکار ہو گیا ہے
جو اپنے آپ کو خود سے بچانے والا تھا
اٹھ اٹھ کے جانے لگے تھے جہاں سے لوگ ظفرؔ
وہاں میں آپ ہی پردہ گرانے والا تھا

ظفر اقبال کی یہ غزل نظر سے گزری تو اس وقت تحریک انصاف کے سربراہ کپتان عمران خان کے رویے کے نتیجے میں بننے والی کیفیت پر صادق آتی دکھائی دی۔ کپتان پرانے اقتدار کے انتظار میں جنون کی حد تک چلے گئے ہیں۔ وہ دیواریں اٹھا رہے ہیں مگر دروازے ہیں کہ بنتے جا رہے ہیں۔ لاشعوری طور پر بساط لپیٹنے میں مصروف ہیں لیکن کہانیاں ختم ہونے میں نہیں آ رہیں۔ ”دلوں“ میں جگہ ڈھونڈتے اور پس پردہ قوتوں کو پہلے آشیانے کی واپسی کے لیے دہائیاں دے رہے ہیں۔

ایک طرف سعئی مسلسل کی رائیگانی پر پریشاں ہیں تو دوسری جانب بڑے آستانے کے بے فیض ہونے کا کلک بھی انہیں بے چین کیے ہوئے ہے۔ اچھے وقت کے انتظار میں ہیں مگر صرف نظر کا شکار ہو نے پر افسردہ بھی ہیں۔ اپنے آپ کو خود سے بچانے کے لیے کوشاں ہیں مگر اپنی زبان درازی پر قدغن لگانے سے گریزاں بھی۔ مقبولیت پہ نازاں ہیں مگر ”ان“ کی بے اعتنائی برداشت نہیں کر پا رہے۔ لگتا ہے اب خود ہی پردہ گرانے کے درپے ہیں۔

عمران خان کو شاید یہ نہیں معلوم کہ وہ ایک بند گلی میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ وہ ایسے سیاستدان ہیں جنہوں نے اپنے لئے دوسرا راستہ نہیں چھوڑا اور پہلے ہی ہلے میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔ مبصرین اس رائے سے متفق ہیں کہ ان کی کامیابی کے امکانات اب بھی لا محدود نہیں۔ اگر ملک میں خطر ناک صورت حال پیدا ہوتی ہے اور ملک کی سلامتی کے لیے خطرات خطر ناک حد تک بڑھ جاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ فوج تماشائی بن کر نہیں بیٹھے گی وہ ملکی معاملات میں یقیناً مداخلت کرے گی اور ملک کی سلامتی کو بچانے کی کوشش کرے گی چاہے وہ ماضی کی طرح پس پردہ ہو یا علی الاعلان۔

یہ سیاستدانوں کا کام ہے کہ وہ اپنے اور ملکی معاملات احسن طریقے سے انجام دیں اور تناؤ اور ٹکراؤ کی پالیسی کو ترک کریں۔ سیاسی معاملات کا سیاسی حل تلاش کریں نہ کہ متشدد احتجاج کا طریقہ اپنایا جائے۔ شاید ان تمام باتوں سے عمران خان کو غرض نہیں کہ ملک کہاں کھڑا ہے اور کن خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کے احتجاج کے نتیجے میں اگر فوج آئی تو اس کے ذمہ دار نواز شریف اور موجودہ حکمران ہوں گے۔

ہر چیز عمران خان کر رہے ہیں آگ ان کی لگائی ہوئی ہے لیکن وہ ذمہ داری دوسروں پر ڈال رہے ہیں۔ ملک میں سیاسی تناؤ سیاسی ٹکراؤ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کو کچھ ہوا تو مبصرین کے خیال میں عمران خان ہی ذمہ داریوں گے۔ عمران خان کو معلوم ہونا چاہیے کہ پی این اے کے رہنماؤں نے آخری وقت میں بھٹو صاحب سے معاہدہ کر لیا تھا حالانکہ پی این اے کی تحریک کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔ عمران خان کے پاس اس سیاسی بحران سے نکلنے کا کوئی فارمولا نہیں ہے۔

ان کی سوئی ایک پوائنٹ پر اٹک گئی ہے کہ شہباز شریف استعفیٰ دیں جو موجودہ صورت حال میں نا ممکن نظر آتا ہے۔ بعض سنجیدہ مبصرین کے خیال میں موجودہ حالات میں عام انتخابات کرانا کوئی عقل مندی نہیں۔ موجودہ حکومت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ دباؤ میں آ کر عام انتخابات کرائے گی، خام خیالی نظر آتی ہے۔ اس صورت حال میں عمران خان کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ ملک بھر خصوصاً پنجاب اور کے پی کے میں حکومت پر مزید دباؤ بڑھا دیں جیسے وہ پہلے بھی کرچکے ہیں۔

ان کی خواہش ہے کہ احتجاجی تحریک کو ہر سڑک اور ہر چوراہے پر لائیں تاکہ ملک کے اندر زیادہ سے زیادہ خون خرابہ ہو۔ انار کی ہو، تشدد کو ہوا ملے اور عمران خان اپنا مقصد حاصل کر لیں۔ اگر فوج مداخلت کرتی ہے (جس کا فی الوقت امکان کم ہے ) اور شہباز شریف کی حکومت کو کسی وجہ سے ہٹاتی ہے تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ فوج یا حکومت نوے دن کے اندر انتخابات کرائے گی۔ البتہ عمران خان کے فوجی قیادت اداروں، عدلیہ کے متعلق جارحانہ اور لا ابالی رویے سے اس بات کا امکان بھی نظر آنے لگا ہے کہ موجودہ حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان کا کوئی سیاسی کردار نہ ہو۔

ان کو گھر بیٹھنا پڑے یا جیل میں ان کے قیام و طعام کا بندوبست کیا جائے۔ عمران خان بہر صورت موجودہ حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے اقتدار چھینا گیا جب تک وہ واپس نہیں ملتا وہ کسی کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ چاہے اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بج جائے۔ سیاست کو دشمنی میں تبدیل کرنے کی وجہ سے ہی وہ بند گلی میں پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پاپولیرٹی کے گھوڑے پر سوار عمران خان بات چیت کا دروازہ بند کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔

ملک کے معاشی مسائل ہوں یا سیلاب زدگان کی حالت زار، وہ مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے ایک ہی شرط لگائے ہوئے ہیں کہ انہیں ہر صورت اقتدار کی کرسی پر بٹھایا جائے۔ اقتدار سے دوری نے ان کی حقیقت لوگوں پر عیاں کردی ہے وہ دوسروں کو قانون پر عمل کرنے کے جو بھاشن دیتے تھے خود قانون شکنی کو اپنا حق گردانتے ہیں اور ان کے حوالی موالی بھی ان کی مقبولیت کو قانون شکنی کا لائسنس تصور کرتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments