افغان پاکستان سے ناراض کیوں ہیں؟


گزشتہ ہفتے ایشیاء کپ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں جو شارجہ اور دبئی میں منعقد ہو رہا تھا پاکستان کا مقابلہ افغانستان کے ساتھ تھا، پاکستان کرکٹ میں بھی افغانستان کا مددگار رہا ہے، ان کی ٹیم کو اس مقام تک لانے میں پاکستان نے بہت اہم کردار تربیت کی شکل میں ادا کیا ہے۔ بیشتر افغان کھلاڑی کوئٹہ اور پشاور میں آباد رہے ہیں اور یہیں انہوں نے کرکٹ سیکھی ہے، مگر کمال حیرت ہے کہ اس میچ کے شروع ہونے سے پہلے ہی اسٹیڈیم میں افغان حامیوں کی حالت وہ تھی جو پاک بھارت میچ کے دوران بھی دونوں ملکوں کے لوگوں کی نہیں ہوتی، یہ ہیجان بڑھتے بڑھتے اس وقت ہنگامے اور ہلڑ بازی کی شکل اختیار کر گیا جب پاکستان نے افغانستان کو ہرا دیا۔

بس پھر کیا تھا، افغانی کھلاڑی میدان میں اور ان کے حامی پویلین میں آپے سے باہر ہو گئے، میدان میں افغان کھلاڑی پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھا پائی پر اتر آئے تو دوسری جانب پویلین میں موجود افغانیوں نے پاکستانی لوگوں کو کرسیاں توڑ توڑ کر مارنا شروع کر دیں، ایک جنون طاری تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے پاکستان کرکٹ میں نہیں بلکہ کسی جنگ میں ان سے جیت گیا ہو۔ وہ بے دریغ و بلا تفریق تشدد کر رہے تھے۔ کرسیاں اکھاڑ اکھاڑ کر پھینک رہے تھے جس کی زد میں بچے بڑے سب ہی آرہے تھے۔

امر استعجاب یہ ہے کہ جب مقامی انتظامیہ نے ان شرپسندوں کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کیا اور ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کے پاس سفری دستاویز ات پاکستانی تھیں، یعنی وہ پاکستان کے پاسپورٹ پر وسط ایشیا میں مزے لوٹ رہے ہیں، بالکل ایسا ہی معاملہ ورلڈ کپ 2019 کے میچ میں بھی ہوا تھا جسے لوگ یقیناً نہیں بھولے ہوں گے۔ افغان پناہ گزین جو گزشتہ چالیس سال سے پاکستان میں مقیم ہیں اور یہاں جان مال عزت آبرو سب کا تحفظ پا رہے ہیں ان کے رویوں میں آہستہ آہستہ پاکستان اور پاکستانیوں سے نفرت بہت واضح نظر آنے لگا ہے، ان کے رویے متشدد اور غیر اخلاقی ہوتے جا رہے ہیں۔

بلکہ وہ مملکت پاکستان کی حرمت پر بھی کیچڑ اچھالنے سے نہیں ہچکچاتے ہیں۔ میچ ہارنے کے بعد انہوں نے ایک ویڈیو وائرل کی ہے جس میں انہوں نے ایک پاکستانی کو اغواء کرنے کے بعد برہنہ کیا ہوا ہے اور خنجر کی نوک پر اسے افغانی پرچم چومنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، اس ویڈیو میں کئی افغان ہیں جو پاکستانی پر تشدد کر رہے ہیں اور تذلیل کر رہے ہیں، بالکل اسی طرح کچھ افغانوں کی تصویر ہے جو قائد اعظم کی تصویر پر پیر رکھ کر بیٹھے ہیں، یا ایک افغان گلے میں افغانی جھنڈا ڈال کر پاکستانی پرچم سے اپنے جوتے صاف کر رہا ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اخلاقی طور پر کس دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔

چودہ اگست کے موقع پر ان ہی افغان پناہ گزینوں کے جھنڈ کے جھنڈ راستوں پر نکل آئے تھے اور انہوں نے پاکستانی فیملیز کے ساتھ کھلے عام بڑی بد تمیزی کی ان کی گاڑیوں کو روک روک کر زد و کوب کیا، پھر پاکستانی پرچم کتے کے گلے میں ڈال کر بھگایا گیا اور افغانستان کا پرانا پرچم لے کر کراچی کے مختلف علاقوں بالخصوص سی ویو پر جمع ہو گئے اور وہاں آنے والی فیملیز کے ساتھ بدتمیزی کرتے رہے، بالخصوص عورتوں کو بیہودگی کا نشانہ بنایا گیا۔

ان کا عمومی رویہ اب پرتشدد ہو گیا ہے، ذرا سی بات پر لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، ان کے نو عمر بچے موٹر سائیکل پر بنے ٹھیلے لئے شہر میں عام دندناتے پھرتے ہیں، وہ اتنے کم عمر ہوتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی قانونی کاغذات ہو ہی نہیں سکتے اور ہوتے بھی نہیں ہیں مگر ان کو روکنے والا کوئی نہیں آئے دن ٹریفک حادثات کا سبب بنتے ہیں لوگوں کی جان و مال کا نقصان کرتے ہیں گاڑیاں تباہ کرتے ہیں مگر کچھ نہیں ہوتا، یہاں تک کہ وہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر افغان نمبر پلیٹ لگا کر موٹر سائیکل چلا رہے ہوتے ہیں اور کوئی قانونی قدم ان کے خلاف اٹھتا نظر نہیں آتا۔

ان کے بہت ہی چھوٹے چھوٹے بچے رات کے آخری پہر شہر میں کچرا چننے نکل پڑتے ہیں اور جو ہاتھ آتا ہے لے اڑتے ہیں، گاڑیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، وہ اتنے چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں کہ آپ اگر انہیں پکڑ بھی لیں تو ان پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے، مگر وہ شہر بھر کے نظام کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں اور کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں۔ یہ تو پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے افغانستان کی خاطر کیا کیا دکھ اٹھائے ہیں جن کا خمیازہ آج تباہ حال معیشت اور پر تشدد معاشرے کی شکل میں بھگت رہے ہیں، منشیات کی لعنت اس کے علاوہ ہے، یہ سب جانتے ہیں کہ جب سے افغان پناہ گزینوں نے پاکستان میں ڈیرے ڈالے ہیں کلاشنکوف کلچر اور ہیروئن ہمارے یہاں عام ہوئی ہے، جو آج ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

بنیادی طور پر افغانستان میں دو قومیں اکثریت میں ہیں ایک فارسی بان دوسرے پشتون، پشتونوں کی اکثریت طالبان کے طور پر مانی جا رہی ہے جبکہ فارسی بان جدت پسند اور طالبان مخالف ہیں جو امریکہ اور بھارت کو نجات دھندا اور دوست سمجھتے ہیں، اس ہی وجہ سے وہ پاکستان سے نفرت کرتے ہیں ان کے دماغوں میں یہ بٹھا دیا گیا ہے کہ پاکستان ان کے ملک میں طالبانائیزیشن کا کرتا دھرتا ہے، بلکہ افغانستان میں ہونے والا ہر برا کام پاکستان کرتا ہے یا کرواتا ہے۔

یہ فارسی بان عمومی طور پر غیر اسلامی اقدار کے پروردہ ہیں اور طالبان کی وجہ سے ان کے فحاشی کے اڈے اور لہو و لعب کی محافل بند ہو گئیں ہیں جن کا ان کو بڑا قلق ہے اور وہ پاکستان کو ہی اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ان کے جو رشتہ دار پاکستان میں رہتے ہیں ان کی اکثریت فارسی بانوں کی ہے اور وہ بھی ان ہی خیالات کے پروردہ اور پاکستان دشمن ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر ان تمام عوامل پر نہ صرف غور کیا جائے بلکہ ان کے سد باب کے لئے خاطر خواہ عملی اقدامات بھی کیے جائیں۔

جو مستقل بنیادوں پر رائج ہوں اور اس قسم کے معاشرتی مسائل کی راہ میں حائل ہوں اور عام آدمی کو تحفظ فراہم کریں۔ ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بات چیت کے ذریعے ان تمام غلط فہمیوں کا ازالہ بھی کیا جانا چاہیے تاکہ دو مسلمان برادر ملک آپس میں شیر و شکر ہو کر رہ سکیں۔

Facebook Comments HS