یوم آزادی


ملک محض ایک خطہ ارض کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ لاکھوں کروڑوں محنت کش لوگوں کا نام ہوتا ہے جو کسی خطہ ارض کو بناتے، سنوارتے اور پروان چڑھاتے ہیں۔ ممالک کی سرحدی لکیر گو کہ ان ممالک کے نزدیک بہت مقدس اور انمٹ ہوتی ہے لیکن یہ کبھی بھی حرف آخر نہیں ہوتی۔ ان سرحدی لکیروں کا بننا اور مٹنا ہی نئی ممالک کو وجود میں لاتا ہے اور جس دن یہ عمل پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے تو اس دن کو وہاں کے لوگ اسے یوم آزادی کے نام سے مناتے ہیں۔

عموماً ملک کو کسی غیر قوم یا ملک کے قبضے سے چھڑانے یا آزاد کروانے کو ملک کی آزادی کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم تاریخ کو بغور دیکھیں تو آزادی صرف غیر ملکی قبضے کے خاتمہ کا نام نہیں ہے بلکہ عوام کے استبدادی نظام سے نکلنے اور عوام کی خوشحالی کو بھی ممالک یوم آزادی کے نام سے مناتے ہیں اور بسا اوقات ممالک کو آزادی اس لئے بھی مل جاتی ہے کہ ان پر بیٹھا ہوا سامراجی ملک اپنی قوت اور طاقت کھو بیٹھتا ہے اور اسے واپس اپنے ملک جانا پڑ جاتا ہے اس کے علاوہ کئی دفعہ بہت سے اقوام ایک سیاسی انتظام کے باہم مل کر ایک ملک کی حیثیت اختیار کر بیٹھتے ہیں تو جب وہ سیاسی انتظام ختم ہوتا ہے تو بن مانگے ہی تمام اقوام الگ ہو کر مختلف ممالک کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

اس طرح ہم چین کی مثال لے سکتے ہیں جہاں چین کے عوام نے جب یکم اکتوبر 1949 ءکو سرکاری طور پر آزادی حاصل کی تھی تو وہ خود چینیوں سے ہی حاصل کی تھی لیکن وہ ایک نئے نظام کے حصول اور عوام کی پرانے استبدادی نظام سے آزادی تھی۔ اسی طرح فرانس اپنا یوم آزادی 14 جولائی کو مناتا ہے جو دراصل 1789 ء کے انقلاب فرانس کا دن ہے اور اس انقلاب نے ان کے عوام کے شعور کو اتنا بلند کیا کہ جس کی بناء پر آج کے جدید فرانس کی بنیاد پڑی تھی بلکہ درحقیقت آج کے جدید یورپ کی بنیاد بھی اسی انقلاب فرانس سے ہی پڑی تھی۔

اسی طرح جرمنی اپنا دن 3 اکتوبر کو مناتا ہے جو دراصل مشرقی اور مغربی جرمنی کے دوبارہ سے ایک ہونے کا دن ہے اور یہ واقع 1990 ء میں ہوا تھا۔ اس سے پہلے 1871۔ 1918 تک 2 ستمبر کو اپنا قومی دن مناتے تھے جو ان کی فرانس سے ایک جنگ میں فتح کا دن تھا۔ اب ہم ان ممالک کی مثال لیتے ہیں جنہوں نے آزادی کی کوئی کوشش نہیں کی ہوتی اور ان کو آزادی مل جاتی ہے جیسے سابقہ سوویت یونین کی بہت سی ریاستیں ہیں جب سوویت یونین کے سیاسی انتظام کے خاتمے کا اعلان ہوا تو بہت سی ریاستوں نے کثیر پیمانے پر اس کو قائم رکھنے کے حق میں ووٹ دیا لیکن جب یہ سیاسی انتظام ختم ہوا تو ان ممالک کو بھی الگ ملک کی حیثیت مل گئی اس سلسلے میں وسطی ایشیائی ریاستوں کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جب سوویت یونین کا خاتمہ ہوا تو بالٹک ریاستیں بھی الگ ہو گئیں اس کے علاوہ چیکو سلواکیہ اور یوگوسلاویہ جیسے ممالک بھی ایک سے زیادہ ممالک میں تقسیم ہو گئے۔

اب ہم ان ممالک کا ذکر کرتے ہیں جو غیر ملکی سامراجیت سے آزاد ہوتے ہیں۔ غیر ملکی حاکم کا یہ ہوتا ہے کہ وہ مقامی لوگوں میں باآسانی پہچانا جا تا ہے اور ہر طرح کی ظلم اور نا انصافی کا ذمہ دار اسی کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ جو سوچ پروان چڑھتی ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ یہ غیر ملکی ہے اور اس کا تعلق غیر قوم سے ہے اس لیے یہ ظالم ہے اور اگر یہ چلا جائے تو اس کی جگہ پر ہماری قوم کا ہی کوئی شخص ہو تو وہ بہت رحمدل ہو گا اس لیے کہ وہ ہمارا دکھ سمجھتا ہے اور اس کے آنے کے بعد یہاں شاید دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔

اس تمام میں یہاں کی مقامی آبادی یہ بالکل بھول جاتی ہے کہ جو معاشی اور سیاسی نوآبادیاتی نظام جس کی وجہ سے غیر ملکی حاکم حکومت اور مقامی آبادی میں لوٹ کھسوٹ کر رہا ہوتا ہے اس کو گرانا کتنا ضروری ہے وگرنا مقامی حاکم بھی اسی نوآبادیاتی نظام میں اسی غیر ملکی حاکم جیسا یا اس سے بھی بد تر شکل میں اور اس سے بھی ظالم شکل میں سامنے آ جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال تو ہمیں ہندوستان کی آزادی کی شکل میں ہی نظر آجاتی ہے جہاں انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے ایک سیاسی نو آبادیاتی نظام تشکیل دیا چونکہ یہ غیر ملکی حاکموں کا تشکیل دیا ہوا تھا اس لئے اس کو تشکیل دیتے ہوئے نہ ہی مقامی آبادی کی مرضی اور منشاء کو ملحوظ خاطر رکھا گیا اور نہ ہی مقامی حالات کو دیکھا گیا۔

آئی سی ایس کے نام سے بیوروکریسی کو متعارف کروایا گیا اور ان میں آئی سی ایس کی اکیڈمیوں سے افسران کو تیار کیا گیا جس میں ان افسران کو گو کہ وہ مقامی لوگوں پر مشتمل تھے لیکن ان کی ٹریننگ انگریز حاکموں کے ہاتھوں ہوتی تھی جس میں ان لوگوں کو انگریز حاکم کے مفادات کو اولیت دینی ہوتی تھی اور مقامی آبادی کو وہ اپنے سے کمتر سمجھتے تھے اور یہی ان اکیڈمیوں سے فارغ التحصیل افسران کا خاصہ ہوتی تھی۔ ان کا کام غیر ملکی حاکموں کے مفادات کو وہاں کی مقامی آبادیوں کے لیے قابل قبول بنانا اور اس طرح سے پیش کرنا کہ وہ لوگوں کو اپنی بہتری میں نظر آئے اس کے علاوہ کہیں بھی اگر انگریز سرکار کے خلاف کوئی بات یا حرکت نظر آئے تو اس کو بغاوت اور دہشتگردی کے نام پر اس کو کچلنا ہوتا تھا اور اسی طرز پر پولیس کا محکمہ تشکیل دیا گیا۔ یاد رہے ان سب کی تشکیل بے شک انگریز نے کی تھی لیکن ان سب پر عمل کرنے والے اور عمل کروانے والے یہاں کے مقامی افراد ہی تھے۔

اس طرح فوج کا محکمہ بنایا گیا گو کے انگریز کے دشمن تو فرانس اور جرمنی تھے جو کہ ہندوستان میں آ کر تو جنگ کرنے سے رہے اور نہ ہی انگریز کو ہندوستان کے ہمسایہ ممالک سے کوئی خطرہ تھا ہاں اگر خطرہ تھا تو یہاں کی مقامی آبادیوں سے تھا اور ماضی میں 1857 ء کی جنگ آزادی سے بھی انگریز ڈرے ہوئے تھے کہ دوبارہ پھر سے ایسی کوئی حرکت نہیں ہو جائے۔ اس کے لئے مقامی آبادی کو فوج میں بھرتی کیا جاتا تھا اور افسران کی بھرتی کے لیے ان کو بیوروکریسی کی اکیڈمیوں کی طرز پر تشکیل کیے گئے کیڈٹ کالجوں سے تیار کیا جاتا تھا کہ اگر کہیں وسیع پیمانے پر بغاوت ہو تو اس کو کچل دیا جائے۔

خود ہندوستان کا رقبہ اتنا زیادہ تھا کہ اس کو بر صغیر کہا جاتا تھا اور فوج کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لئے ریلوے کا جال اور سڑکوں کی تعمیر کی گئی۔ جس بات کو اکثر ہمارے ہاں انگریز کے احسان کے طور پر مانا جاتا ہے کہ اس نے ہندوستانیوں کو ریلوے، پختہ سڑکوں کا جال ملک میں پھیلایا اور نہری نظام دیا یہ دراصل یہ سب کچھ اس کی ہندوستان میں اپنی حکومت مضبوط کرنے کے لئے تھا۔ ریلوے اور سڑکوں کا جال اس لئے تھا کہ جب کہیں اور جہاں کہیں لوگ اپنے حق کے لئے اور غیر ملکی تسلط کے خلاف کھڑے ہوں تو اس کی سرکوبی کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ فوج کو تیزرفتاری سے منتقل کیا جا سکے اور دوسری بات کے مقامی منڈیوں سے خام مال اور دوسری اشیاء برق رفتاری سے انگلستان منتقل کی جا سکیں اور پھر وہاں کی فیکٹریوں سے تیار مال واپس ہندوستان پہنچا کر ایک تو دولت سمیٹی جائے اور ہندوستان میں صنعت کاری کو فروغ حاصل نہیں ہو سکے۔

اب سمجھنے کی یہ بات ہے کہ وہ ہندوستانی فوج جس نے 1857 ء میں انگریز کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے جنگ آزادی لڑی تھی اب جب وہ ان کیڈٹ کالجوں سے فارغ ہوئے تو ان کی اتنی برین واشنگ ہو چکی تھی کہ اب ان کے لئے یہاں آزادی کی جنگ لڑنے والے باغی نظر آتے تھے اور غاصب انگریز کی حرمت کے لیے انہوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ۔

انگریز کے آنے سے پہلے ہندوستان میں موروثی جاگیرداری کا کوئی تصور نہیں تھا۔ یہ انگریز تھا جس نے 1857 ء کی جنگ آزادی میں ان لوگوں میں وسیع زمینیں بانٹیں جنہوں نے اس جنگ میں انگریز کا ساتھ دیا تھا۔ اس کے بعد نہری نظام کی تشکیل نے تو ان جاگیر داروں پر دولت کی بارش کر دی کیونکہ اب ان کی خشک زمینوں نے نہری نظام کے باعث سونا اگلنا جو شروع کر دیا تھا اور وہ انگریز اشرافیہ کے اور بھی وفادار بن گئے اور انگریزوں نے اپنے ان پالتو لوگوں کو مقامی سیاست میں لا کر اپنی حکومت کو مضبوط بنایا۔

چونکہ حاکم غیر قوم کے ہوتے ہیں اس لئے عوام ہر وہ حکم اور ظالمانہ رویہ جو کہ بے شک بڑے حاکموں کی طرف سے ہی آ رہا ہوتا ہے لیکن اس کو موثر بنانے میں مقامی انتظامیہ شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفادار بنی ہوتی ہے اور وہ بڑھ چڑھ کر حاکموں کو اپنی وفاداری دکھا کر اپنے لئے ترقی کی راہ ہموار کر رہے ہوتی ہے وہ ایک طرف تو غیر ملکی حاکموں کے لئے تندہی سے کام کر رہی ہوتی ہے اور دوسری طرف عوام کو یہ کہتی ہے کہ ہم تو مجبور ہیں اور حکم کے غلام ہیں۔

عوام اس خیال سے کہ اگر یہاں غیر ملکی حاکم نہیں ہوتے اور یہ مقامی انتظامیہ ہی ہوتی تو وہ کبھی بھی یہ ظلم نہیں کرتی کیونکہ اپنے قوم کے لوگ اتنے ظالم نہیں ہوتے۔ یہاں وہ ایک بات بھول جاتے ہیں کہ حاکموں کے احکامات کو تسلیم کرنے سے انکار بھی ہو سکتا ہے اور یہ لوگ اپنے آپ کو عام آدمی کے ساتھ بھی جوڑ سکتے ہیں نہ کہ بڑھ چڑھ کر اپنی وفاداری دکھائی جا سکے کیونکہ مفاد پرستی ہی انسان سے ظلم کرواتی ہے اور اس کے لئے غیر قوم اور ہم قوم میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

اس لئے جب کسی بھی بندوبست یا کسی بھی وجہ سے غیر ملکی اپنا تسلط ختم کرتے ہیں تو وہ اسی مقامی اشرافیہ اور اسی مقامی انتظامیہ پر مشتمل اپنے ہی بنائے ہوئے نوآبادیاتی نظام کے حوالے اقتدار کر دیتی ہے جو اس نے بنایا ہی مقامی لوگوں کو اپنا غلام بنانے کے لئے بنایا ہوتا ہے۔ اب اگر دیکھا جائے تو یہ معاشی، سیاسی اور انتظامی نظام ایسا ہے جس کی تشکیل میں مقامی لوگوں کا کوئی ہاتھ ہی نہیں ہے جب کہ ایسا یورپ میں بالکل نہیں ہوا تھا یورپ کے تمام ممالک میں وہاں کے لوگوں کی مثالی جدوجہد شامل تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اپنا سیاسی، معاشی اور سماجی نظام مرتب کیا تھا اور اس کی وجہ سے وہاں حقوق اور فرائض بالکل واضح ہیں جب کہ نو آبادیاتی ممالک میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے مقامی انتظامیہ اور غیر ملکی حاکموں کی پروردہ سیاسی اشرافیہ اپنے اختیارات سے تجاوز کر جاتی ہے اور مقامی انتظامیہ اس کی معاون بن جاتی ہے جس کے باعث عام آدمی مکمل طور پر بے اختیار ہو جاتا ہے اور وہ ایک بے بسی اور لاچارگی میں اپنا وقت گزار رہا ہوتا ہے جس کو وہ پھر اپنا مقدر تسلیم کر لیتا ہے۔

ایسے میں سال میں ایک دن یوم آزادی کا واویلا ہوتا ہے۔ آزادی کے ترانے گائے جاتے ہیں اور غیر ملکی تسلط سے نجات کا دن منایا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ آزادی تو غیر ملکی حاکموں کے پروردہ لوگوں کی ملی ہوتی ہے جو اب اپنی مرضی سے کھل کر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں جبکہ عام آدمی تو مفلسی اور لاچارگی کی ویسی ہی زندگی گزار رہا ہوتا ہے یا شاید اس سے بھی بدتر جو وہ پہلے گزارتا تھا۔ اگر دیکھا جائے تو کیا 1947 ء کے بعد بھارت یا پاکستان کے محنت کش کی زندگی کتنی بہتر ہوئی ہے یا 1971 ء کے بعد ایک عام محنت کش بنگالی کی زندگی میں کیا بہتری آئی ہے چاہے ان کا جی ڈی پی اور ان کی برآمدات میں کتنا ہی اضافہ ہو گیا ہو۔

ہاں زندگی بہتر ہوئی ہوئی ہے تو اس انتظامی اور فوجی افسر کی جو انگریز کے دور میں سب سے اونچے عہدے تک نہیں جا سکتا تھا اب وہ جا سکتا ہے یا پھر وہ سیاسی پروردہ جو بمشکل اسمبلی میں جاسکتا تھا اب وہ وزیراعلی اور وزیر اعظم بن سکتا ہے یا پھر برلا، ٹاٹا، امبانی، شریف خاندان، میاں منشاء یا پھر ملک ریاض ہوں جن کی زندگیاں بدل گئی ہیں اور یہی سب کچھ بنگلا دیش میں بھی اسی طرح ہے جہاں بے شک برآمدات بہت ہیں لیکن وہاں کام کرنے والے محنت کش جب فیکٹری میں آگ لگنے سے جاں بحق ہوتے ہیں تو انکوائری پر پتہ چلتا ہے کے باہر جانے والے دروازوں پر تالے پڑے ہوئے تھے یعنی مزدوروں سے بیگار لی جا رہی تھی اور مل مالکان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ پچھلے چند برسوں میں تو بنگلا دیش میں اوپر تلے آتشزدگی کے بہت واقعات ہوئے ہیں جن میں بیش بہا محنت کش اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

پھر لوگ مایوس ہو کر یا تو کسی ایک شخص کو اپنا نجات دہندہ سمجھ کر اس سے امید لگا کر بیٹھ جاتے ہیں جب کہ وہ شخص چاہے کوئی بھی ہو اس نے اگر اس نظام کے اندر ہی کام کرنا ہے تو پھر یہ نظام بھی اس کو وہی بنا دیتا ہے جیسا کہ اس سے پہلے کے لوگ تھے اور جب اداروں کو مضبوط کرنے کی بات ہوتی ہے تو دراصل وہ بھی اسی استحصالی نظام کو اور مضبوط اور تگڑا کرنے کی بات ہوتی اور اس ظلم اور لوگوں کی مجبوری کو وہاں کا مذہبی طبقہ بخوبی استعمال کرتا ہے کہ یہ مشکلات صرف مذہب سے دوری کی بناء پر ہے اور جیسا کہ آج کل پاکستان میں لبیک جیسی جماعتیں الیکشن میں بتدریج مقبولیت حاصل کر رہی ہیں جو آنے والے کل میں ایک مقبول جماعت کے طور پر سامنے آ سکتی ہیں اور یہ صرف یہاں پر نہیں بلکہ تمام تیسری دنیا کسی نہ کسی شکل میں ان مصائب کا شکار ہے جن کو دنیا بھر میں ابھرتی ہوئی معیشتیں کہا جاتا ہے وہاں بھی یہی سب کچھ ہو رہا ہے اور اس پر سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ اس کا خاتمہ صرف اور صرف قوموں کے اجتماعی شعور سے ہی ممکن ہے جس میں عوام اپنے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں اور اس حل کو عملی جامہ پہنانے کے لئے باہر نکلتے ہیں اور حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں۔

اور اس اجتماعی شعور کے لئے راہ ہمیشہ وہاں کی صحافت مہیا کرتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ایک تنگ نظر طبقاتی معاشرے میں صحافی اور اخبارات بھی اسی طبقاتیت کا شکار ہو جاتے ہیں اور جیسا کہ ہم اس کا بخوبی مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے خبروں کے تمام چینل کسی قسم کی نظریاتی اور عوامی مسائل کی گفتگو اور اس کا حل پیش کرنے سے مکمل طور پر عاری ہیں اور ان کی تمام گفتگو محض مختلف سیاستدانوں کے بیانات پر ہی مبنی ہوتی ہے اور انہوں نے سیاست کو عام آدمی کی دہلیز سے اٹھا کر اسے اشرافیہ کے محلات اور ایوانوں تک ہی مخصوص کر کے رکھ دیا ہے۔

دراصل عام آدمی کو آزادی تو اس دن نصیب ہو گی جس دن وہ خود با اختیار اور خود مالک بنے گا جس دن اس کی زندگی سے استحصال ختم ہو گا اور وہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک اس استحصالی نظام سے چھٹکارا نہیں ملتا اور یہ کوئی شخص آ کر اللہ واسطے نہیں کرے گا بلکہ یہ لوگوں کا اجتماعی شعور ہے جو یہ کام کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS