ایشیا کپ اللہ کی رضا ہے، شکوہ کیسا؟


ہمارے علاقہ میں ہر فن مولا قسم کا ایک کردار تھا جو مساجد میں امامت و خطابت کے علاوہ ہر وہ کام کر لیا کرتا تھا جس سے دوسرے انکاری ہوتے۔ باریش تھے تھوڑا بہت راج کا کام جانتے تھے اور جہاں بھی کام کرنے جاتے نگاہ ہر وقت گھڑی پر ٹکی رہتی تھی کہ کہیں نماز کا وقت نہ گزر جائے، چونکہ آخرت میں سوال نماز کے متعلق ہو گا کام کے بارے میں نہیں۔ اور کام کے دوران نماز پڑھنے جاتے تو کم از کم آدھا گھنٹہ صرف ہو جایا کرتا تھا، کیونکہ ہر نماز کے بعد تسبیح پھیرنے کا بھی معمول تھا۔ واپسی پر اکثر مالک مکان سے منہ ماری ہو جاتی جیسے ہی وہ اسے بتانے کی کوشش کرتا کہ ”جناب ہم نے شام کو“ دیہاڑی ”معاوضہ آپ کو دینا ہے، پیسے درختوں سے نہیں لگے ہوتے بھائی بلکہ محنت مشقت سے کمانا پڑتے ہیں اور تم تو شام کے پانچ بجتے ہی اوزار پھینک کر چھٹی کا اعلان کر دیتے ہو“

مالک کی کڑوی کسیلی مگر اصولی باتیں سنتے ہی یہ ہر فن مولا مستری فوری ”توہین نماز“ کا فتوی جڑ دیا کرتا تھا۔ اس قسم کا برتاؤ کرنا اس کا معمول بن چکا تھا آخرکار لوگوں نے منہ لگانا چھوڑ دیا۔ مطلب کام جائے بھاڑ میں بس ہمیں تو اپنی آخرت پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔ اس کی خاطر جتنی بھی بددیانتی کرنا پڑے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دنیا جاتی ہے تو جائے بس آخرت نہ جائے، کام کے عوض جو مالک سے اجرت لینی ہے اس میں خیانت کرنے سے کوئی عذاب نہیں آ جائے گا۔

یہی حال ہماری کرکٹ ٹیم کا ہے جو خیر سے ہر وقت مس فٹ ہی رہتے ہیں ذرا سے سنبھلتے ہیں پھر کوئی انجری ہو جاتی ہے، جیسے ربڑ کے بنے روبوٹ میدان میں چھوڑ دیے گئے ہوں۔ ایسا لگتا ہے جیسے دوسری ٹیموں کے کھلاڑی لوہا کھاتے ہیں اور فولاد کے بنے ہوتے ہیں جو آخری بال تک جان لگاتے ہیں۔ حیرت تو اس بات پہ ہو رہی ہے کہ میچ ہارنے پر ہمارے تبلیغی بھائی بہت سیخ پا ہیں اور ٹیم میں کیڑے نکالنے میں مصروف ہیں، غصہ تو بنتا ہے کیونکہ ہماری ٹیم انہی کا تو فیضان نظر ہے اور انہی کی محنتیں ہیں پاکستان کرکٹ بورڈ تو خواہ مخواہ میں ان پر تنخواہیں وار رہا ہے۔

ویسے تبلیغی بھائیوں کی ناراضی بنتی نہیں ہے آپ کی محنت رنگ لے آئی عوام جائیں بھاڑ میں جن کے خون پسینے کی کمائی کی بدولت یہ دنیا بھر میں گھومتے ہیں۔ کرکٹر رضوان بالکل صحیح فرماتے ہیں کہ ہم میچ اللہ کی رضا سے جیتتے یا ہارتے ہیں ہمارا اپنا تو کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اگر ایشیا کپ قدرت نے ہم سے مختلف مذہب و عقیدہ رکھنے والے پلیئرز کے مقدر میں لکھ دیا تھا تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں سوائے تسلیم کرنے کے؟ ویسے حیرت نہیں کہ غیر بلندیوں کے زینے چڑھتے چلے جا رہے ہیں اور ”چنیدہ“ تاریکی میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔

چلیں خیر ہے آخرت میں ہم موجیں کریں گے اور یہ کافر جہنم کا ایندھن بنیں گے، اتنے دلکش خیال کے سہارے پہلے بھی گزر رہی تھی اب بھی گزر جائے گی۔ ویسے بھی ہم نے ایشیا کپ جیت کر کیا کر لینا تھا ہم تو ابھی تک 1992 والا ورلڈ کپ نہیں بھولے جس کے آ فٹر شاکس آج تک بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ دنیا کا ہم پر ہنسنا بنتا ہے اور وہ تمسخر اڑانے میں حق بجانب ہیں جب ہم بیس اوور کا میچ 50 اوور کی حکمت عملی سے کھیلیں گے تو یہی نتائج نکلیں گے، جب تک آپ کام کو عبادت سمجھتے ہوئے اپنی پروفیشنل لائف کو سو فیصد نہیں دیں گے تو آپ پروفیشنل ڈس اونیسٹ کہلائیں گے۔

کامیابی کے لیے ذہن کے فریم میں مطلوبہ ٹارگٹ کو ترجیحی بنیادوں پر سیٹ کرنا پڑتا ہے اگر آپ اس ٹارگٹ کو سیکنڈری حیثیت میں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو نتائج بھی سیکنڈری ہی نکلیں گے۔ مہذب دنیا کام کو ہی عبادت بنا لیتے ہیں جبکہ ہمیں عبادت کے لئے الگ سے وقت نکالنا پڑتا ہے۔ دنیا میں سب سے مشکل ترین کام خود کی ذات پر انحصار یا بھروسا کرنا ہوتا ہے چونکہ اس میں محنت بہت زیادہ درکار ہوتی ہے اور سب سے آسان ترین کام اپنی ناکامیوں یا کمزوریوں کو اللہ کی رضا اور شیطان کے بہکاوے پر ڈالنا ہوتا ہے، بس اتنا سا بول دینے میں کون سا وقت یا مشقت لگتی ہے لیکن آپ بڑی بے فکری سے ایک محفوظ ترین پناہ گاہ یا زون میں داخل ہو جاتے ہیں اور اپنی ناکامیوں سے کچھ سیکھنے کی بجائے پھر سے پرانی روش پر گامزن ہو جاتے ہیں۔

ورنہ پلیئرز کا کیا کام کہ وہ اپنی کامیابی یا ناکامی کو خود سے جوڑنے کی بجائے مالک پر ڈال دے اور خود اپنی ذمہ داریوں سے مکت ہو جائیں۔ یہ اچھی منہ زوری ہے کہ اس کی رضا سے جیت گئے یا ہار گئے تو پھر اتنا بڑا وجود اور دماغ کس کام کا؟ کوشش ترک کریں کسرت یا پریکٹس کو الوداع کہیں اور اس کی رضا پر یقین کر کے بیٹھ جائیں، کم ازکم عوام کا مختلف ٹیکسوں کی مد میں وصول کیا ہوا پیسہ جو ان کو تنخواہوں کی صورت میں ملتا ہے وہ تو بچے گا۔

دراصل ہم لوگ مذہب کی آڑ میں اپنی کمزوری یا ناکامی چھپاتے ہیں اور ”ورک آہکالک“ یعنی کام کو عبادت سمجھنے والے بالکل نہیں ہیں بلکہ کام چور ہیں۔ آپ کی ذمہ داریوں کے بیچ کوئی بھی آئے گا تو یہی نتائج نکلیں گے مختلف نہیں۔ بامعنی یا موثر نتائج کے حصول کے لیے محنت کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں، باقی مذہب و عقیدہ ہر انسان کا اپنا اپنا ہوتا ہے اور من کی شانتی یا رویوں کی اصلاح کے لئے اپنے تئیں رکھنا چاہیے مگر بطور پروفیشنل گراؤنڈ میں دکھاوا کرنے سے بچنا چاہیے۔

Facebook Comments HS