انڈیا کے اعتراضات کے باوجود امریکہ نے پاکستان کی مدد کیوں کی؟

مانسی دشا - نامہ نگار بی بی سی


امریکی حکومت نے پاکستان کو دیے گئے ایف 16 لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی سسٹینمینٹ پروگرام کی منظوری دے دی ہے۔

ڈیفینس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے تحت پاکستان کے پاس پہلے سے موجود ایف 16طیاروں کی مرمت کی جائے گی اور اس سے متعلق ساز و سامان بھی دیا جائے گا۔

تاہم طیارے میں نئی فعالیت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور اس سے منسلک نئے ہتھیار بھی فراہم نہیں کیے جائیں گے۔

بیان کے مطابق اس سے پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف مہم میں مدد ملے گی۔ تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ اس سے خطے کا فوجی توازن متاثر نہیں ہوگا۔

انڈیا کا ردِ عمل

میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈیا نے پاکستان کے ساتھ ایف16 طیاروں کے حوالے سے معاہدے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انگریزی اخبار ‘دی ہندو’ کے مطابق امریکی اہلکار ڈونلڈ لو گذشتہ دنوں انڈیا کے دورے پر تھے اور اس دوران انڈین وزارت خارجہ نے اس حوالے سے کئی بار اعتراض ظاہر کیا۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ حکام نے ڈونلڈ لو کے ساتھ ہر دو طرفہ ملاقات کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا۔ ڈونالڈ لو کواڈ کے سینئر افسران کی میٹنگ میں شرکت کے لیے دہلی آئے تھے۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق انڈیا نے پاکستان کو ایف 16 کے لیے فراہم کی جانے والی تکنیکی مدد پر تشویش کا اظہار کیا۔جہاں پاکستان یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ مدد انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ضروری ہے، وہیں انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان اس کا استعمال اس کے خلاف کریگا کرے گا۔

اکنامک ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق انڈین حکومت کو نہیں لگتا کہ اس معاہدے سے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ رپورٹ کے مطابق انڈیا اس بات پر ناراض ہے کہ امریکا نے اسے اس فیصلے سے پہلے آگاہ نہیں کیا جبکہ اس فیصلے سے انڈیا کی سلامتی متاثر ہوسکتی ہے۔

فائل فوٹو

جہاز کے انجن میں ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر میں تبدیلیاں کی جائیں گی

معاہدے میں کیا کیا شامل ہے

اس معاہدے کا اطلاق پہلے سے فروخت شدہ ایف 16 طیاروں کی مرمت یا دیکھ بھال پر ہوگا تاکہ طیارے پرواز کی حالت میں رہیں۔

امریکہ کے مطابق پاکستان نے اس کے لیے امریکہ سے درخواست کی تھی۔

معاہدے کے مطابق ہوائی جہاز کے انجن میں ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر میں تبدیلیاں کی جائیں گی اور انجن کی مرمت اور ضرورت کے مطابق نئے پرزوں کی تبدیلی سے ہوگی۔

ہوائی جہاز کے لیے امدادی سامان فراہم کیا جائے گا

بیان کے مطابق یہ معاہدہ تقریباً 450 ملین ڈالر کا ہو گا اور لاک ہیڈ مارٹن نامی کمپنی اس معاہدے کو مکمل کرے گی۔

2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے، پاکستان کو دی جانے والی 3 ارب ڈالر کی دفاعی امداد منسوخ کر دی تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک جیسے گروپوں کو لگام دینے میں ناکام رہا ہے۔

امریکہ نے پاکستان کے علاوہ بحرین، بیلجیم، مصر، تائیوان، ہالینڈ، پولینڈ، پرتگال، تھائی لینڈ جیسے ممالک کو ایف 16 طیارے دیے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپاچی ہیلی کاپٹر کے لیے انڈیا کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا کے ساتھ اس کا ایک بڑا دفاعی پارٹنر شپ پروگرام بھی ہے۔

اگر ہم اسلحے کی درآمد کا جائزہ لیں تو انڈیا امریکہ سے زیادہ اسلحہ روس سے خرید رہا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں انڈیا کی طرف سے امریکہ اور دیگر ممالک سے ہتھیاروں کی خریداری میں اضافہ ہوا ہے۔

’گنتی کی ہے، پاکستانی ایف 16 تعداد میں پورے ہیں‘

امریکہ، تائیوان ایف 16 معاہدہ، چین کی دھمکی

’پاکستانی ایف 16 مار گرانے پر‘ ابھینندن کو فوجی اعزاز ’ویر چکرا‘ سے نواز دیا گیا

امریکہ کا ایف 16 طیاروں کے لیے پاکستان کی مدد کا اعلان

بھارت امریکہ تعلقات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

امریکہ کی خارجہ پالیسی میں انڈیا کا مقام اہم ہے، دونوں اہم معاملات میں شراکت دار ہیں، جی 20، کواڈ، انڈو پیسفِک اکنامک فریم ورک جیسے فورمز میں ایک ساتھ ہیں۔ لیکن جنوبی ایشیائی خطے میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

ایسے میں انڈیا کے اس اقدام کو سفارتی طور پر دیکھنا ناگزیر ہے کیونکہ انڈیا نہیں چاہے گا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ کسی قسم کا دفاعی معاہدہ کرے۔ لیکن کیا اس سے انڈیا اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہوں گے؟

خارجہ امور کے ماہر منوج جوشی کا کہنا ہے کہ انڈیا چاہے یا نہ چاہے، اسے امریکہ کے اس فیصلے کو ہر صورت قبول کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ اپنی پوزیشن کی وجہ سے وہ سٹریٹجک لحاظ سے اہم ہے اور اسے کوئی نہیں چھوڑ سکتا۔ اس دوران امریکہ اور پاکستان کے تعلقات قدرے خراب ہوئے تھے لیکن امریکہ کا یہ فیصلہ اس بات کا مظہر ہےکہ ان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور دونوں ملک اچھے تعلقات کے لیے تیار ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ‘امریکہ نہیں چاہتا کہ وہ صرف انڈیا کا ساتھ دے اور افغانستان، وسطی ایشیا، ایران سے منسلک پاکستان جیسے اہم ملک کو نظر انداز کرے۔ اب افغانستان میں طالبان دوبارہ برسراقتدار آ چکے ہیں اور امریکہ کو یہاں سے جانا پڑا ہے وہ اپنے پاؤں ایشیا میں ایسی جگہ رکھنا چاہتا ہے جہاں سے وہ افغانستان پر نظر رکھ سکے اور ساتھ ہی یہاں کی علاقائی جغرافیائی سیاست پر بھی نظر رکھ سکے۔‘

منوج جوشی کا کہنا ہے کہ ‘روس یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکہ انڈیا کے رویے سے خوش نہیں ہے، کئی بار امریکی لیڈروں نے انڈیا سے کہا ہے کہ وہ روس سے تیل خریدنا بند کر دے۔ انڈیا امریکہ کے مفادات کے پیش نظر سنبھل کر قدم اٹھاتا رہا ہے۔ امریکہ بھی انڈیا کے بعض فیصلوں کو نظر انداز کرتا رہا ہے لیکن اب اس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات مستحکم ہو سکتے ہیں۔

فائل فوٹو

جنرل ڈائنامکس نامی کمپنی نےایف 16 طیارے بنائے تھے جن کا نام ہے فائٹنگ فالکن

ایف 16 کب اور کیسے بنایا گیا؟

1972 میں جب ہلکے جنگی طیاروں کی ضرورت محسوس ہوئی تو جنرل ڈائنامکس نامی کمپنی نےایف 16 طیارے بنائے۔ طیارے کا نام فائٹنگ فالکن یعنی ایف 16 تھا۔

یہ سنگل سیٹ، سنگل انجن والے جیٹ طیارے تھے جو آواز کی دوگنی رفتار سے اڑ سکتے تھے اور میزائلوں اور بموں کی ایک رینج لے جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

یہ کمپنی بعد میں لاک ہیڈ مارٹن کوآپریشن کا حصہ بن گئی۔

اس طیارے کی پہلی کھیپ 1978 میں امریکی فضائیہ میں پہنچی تھی۔

اس معاملے میں دفاعی ماہر سوشانت سرین کہتے ہیں ‘امریکہ اس معاملے پر سفارتی کھیل کھیل رہا ہے، امریکہ کہتا رہا کہ وہ انڈیا کا بہت اچھا دوست ہے، لیکن وہ روس یوکرین جنگ کے حوالے سے انڈیا کے موقف سے ناراض ہے کیونکہ انڈیا نے روس کے ساتھ تعلقات جاری رکھے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ‘یہ قدم اٹھا کر وہ یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اگر آپ اپنے طریقے سے کھیلیں تو ہم بھی پاکستان کو اپنے کھیل میں شامل کر سکتے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ یہ ان کی تنگ نظری ہے، کیونکہ پاکستان چین کے قریب آتا جا رہا ہے اور امریکہ اور چین کے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، ایسی صورتحال میں امریکہ کا چین کے دوست کی جانب ہاتھ بڑھانا اور انڈیا کو ناراض کرنا میری سمجھ سے باہر ہے، اس کا اثر دونوں کے درمیان اعتماد پر پڑ سکتا ہے۔‘

اسی دوران دفاعی ماہرین راہول بیدی کا کہنا ہے کہ ‘انڈیا کے لیے کچھ عجیب صورتحال ہوگی کیونکہ ٹرمپ نے 2018 میں پاکستان کے ساتھ معاہدہ منسوخ کردیا تھا، لیکن بائیڈن انتظامیہ کے اس فیصلے سے لگتا ہے کہ اس کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہو رہا ہے۔ 45 کروڑ ڈالر کا معاہدہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات جو تین چار سال سے خراب تھے اب بہتری کی راہ پر گامزن ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘انڈیا کی سفارت کاری کے حوالے سے وہ امریکہ کو اپنا دوست سمجھتا ہے۔ وہ انڈیا کا دوست تو ہے لیکن پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی چاہتا ہے۔ اس سے انڈیا کی سفارت کاری کو دھچکا لگے گا’۔

فائل فوٹو

پاکستان نے سب سے پہلے 1981 میں امریکہ سے ایف 16 طیارے خریدے تھے

پاکستان کو ایف 16 طیارے کب اور کیسے ملے؟

پاکستان نے سب سے پہلے 1981 میں امریکہ سے ایف 16 طیارے خریدے تھے ۔ یہ وہ وقت تھا جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تھا۔

لیکن پھر دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوگئے اور پاکستان کے ساتھ جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان میں سے 28 طیاروں کی خریداری روک دی گئی۔ خدشہ تھا کہ پاکستان ان طیاروں کو ایٹمی حملے کے لیے استعمال کر سکتا ہے ۔

لیکن اس کے لیے پاکستان پہلے ہی امریکا کو 65۔8 کروڑ ڈالر دے چکا تھا جو بعد میں امریکا نے واپس کر دیے تھے۔

لیکن پھر 2001 میں صورتحال بدل گئی۔ 9/11 کے واقعے کے بعد امریکہ میں ٹوئن ٹاورز پر حملے ہوئے۔ اس کے بعد ایشیا خصوصاً پاکستان اور افغانستان امریکی خارجہ پالیسی کے نقطہ نظر سے بہت اہم ہو گئے اور اس وقت کے پاکستانی صدر پرویز مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت کا وعدہ کیا ۔

اس کے بعد امریکہ نے پاکستان پر سے پابندی ہٹاتے ہوئے پاکستان کو 18 جدید ایف 16 طیارے دیے۔ اس کے علاوہ پہلے سےخریدے ہوئے جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا.

2011 میں، ایف 16 سمیت سی -130، ٹی- 37 اور ٹی -33 طیاروں کے پرزوں کے لیے 6۔2 کروڑ ڈالر کے معاہدے کی منظوری دی گئی تھی۔

پھر 2016 میں امریکا نے پاکستان کے ساتھ تقریباً 70 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا، جس کے تحت اسے آٹھ ایف 16 بلاک 52 طیارے فروخت کیے گئے۔

اس کے بعد 2019 میں پاکستان کی درخواست پر ایف 16 منصوبے میں تکنیکی معاونت کے لیے ٹیکنیکل سکیورٹی ٹیم کے لیے 12 کروڑ ڈالر کے معاہدے کی منظوری دی گئی تھی۔

رافیل کے مقابلے ایف 16 کتنا طاقتور ہے؟

لیکن ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب جب امریکہ نے پاکستان سے ان طیاروں کو ورکنگ کنڈیشن میں رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تو اس کے پورے خطے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس کا اثر پاکستان کی عسکری طاقت پر بھی پڑے گا؟

انڈیا کے پاس جنگی طیاروں کا ایک بڑا بیڑا بھی ہے، جس میں جدید رافیل طیارے بھی شامل ہیں، جو انڈیا نے فرانس سے خریدے ہیں تو رافیل کے مقابلےایف 16کتنے طاقتور ہیں؟

راہول بیدی کا کہنا ہے کہ ‘ایف 16 تقریباً 3.5 جنریشن طیارے ہیں جبکہ رافیل 4۔5 جنریشن کا طیارہ ہے اور بہت بہتر ہے۔ سکھوئی-30 اورمیراج 2000 بھی ایف 16کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ‘ امریکہ نے بیان میں کہا ہے کہ اس سے خطے کے فوجی توازن پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ ایک سپورٹ پیکج ہے، ہتھیاروں کا کوئی نیا سودا نہیں ہے اور پاکستان کافی عرصے سے ایف 16 چلا رہا ہے’۔

پاکستان کے پاس کتنے F-16 طیارے ہیں؟

فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایرون سٹین اور رابرٹ ہیملٹن کی 2020 کی ایک اہم رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس کل 85 ایف 16 طیارے ہیں۔

ان میں سے 66 پرانے بلاک 15 کے ہیں اور 19 جدید بلاک 52 ماڈل کے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان اب تک F-16 طیاروں کی دیکھ بھال پر 3 ارب ڈالر سے زائد خرچ کر چکا ہے ۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا امریکہ اور چین کے بگڑتے تعلقات کے پیش نظر پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا سلسلہ جاری رکھے گا؟

منوج جوشی کا کہنا ہے کہ ‘یہ درست ہے کہ پاکستان ایک طرف امریکہ سے ہتھیار لے گا تو دوسری طرف چین سے بھی ہتھیار لیتا رہے گا کیونکہ امریکہ اسے ہر قسم کے ہتھیار نہیں دے گا۔ لیکن امریکہ کو یہ پہلے سے معلوم ہے اور اسے پاکستان پر بھروسہ ہے کہ وہ ایک حد سے آگے نہیں بڑھے گا اور امریکہ کے خلاف کچھ نہیں کرے گا۔‘

حالانکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انڈیا کے لیے معاملہ ابھی اتنا سنجیدہ نہیں لگتا۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘امریکہ پاکستان کے معاملے میں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھائے گا اور انڈیا کے لیے معاملہ اس وقت سنگین ہوگا جب امریکا پاکستان کو نئے ہتھیار دے گا۔‘

ساتھ ہی راہول بیدی کا کہنا ہے کہ ‘ ایسا نہیں ہے امریکہ کے اس فیصلے سے پاکستان کی فوج مضبوط ہوگی، لیکن اسے اعتماد ضرور ملے گا، پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان میں یہ سوچ تھی کہ امریکا نے پاکستان کو چھوڑ دیا ہے، لیکن امریکہ کے اس اقدام نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ رہنے کی اس کی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ‘میرے خیال میں یہ شروعات ہیں، امریکا آنے والے وقت میں پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا، یہ نہیں معلوم کہ امریکا پاکستان کو ایف 16 دے گا یا نہیں، لیکن یہ بات طے ہے کہ دونوں کے درمیان تعلقات بہتر ہوں گے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25926 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments