ٹرین کی پٹڑی اور بچپن کے دن

وہ کہاوت ہے نہ کہ چھوٹے شہروں کے لوگ بڑے دل والے ہوتے ہیں، اسی طرح وہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بڑا سمجھ کر لطف لیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے بچپن کی ایک تفریح تو گھر کے پاس ہی واقع ڈگری کالج (جو کہ اب پوسٹ گریجوایٹ کالج بن چکا ہے ) کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں کھیلے جانے والے کرکٹ میچز ہوا کرتے تھے۔ اس وقت ایک بھاری بھرکم کھلاڑی عثمان عرف منا اپنے چھکوں کی وجہ سے مشہور تھے۔ جتنا وہ خود بھاری تھے اتنا ہی وہ اپنی دھواں دار بیٹنگ کی وجہ سے باؤلر پر بھاری پڑتے تھے۔ ہوتا کچھ یوں تھا کہ ادھر عثمان صاحب کریز پر آئے تو ادھر میرے جیسے شائقین بچوں کی دوڑیں شروع ہوجاتی تھیں۔ کیونکہ ان کی کھیلی گئی ہر شاٹ ہی میدان کیا بلکہ کالج کی چار دیواری کے پار واقع ہمارے گھروں کے آس پاس گرتی تھی۔
خیر چھوڑیے اس سے پہلے کہ کرکٹ کا ذکر کر کے سری لنکا سے ایشیاء کپ ہارنے کا دکھ مجھ پر دوبارہ سے حاوی ہو، دوسری تفریح کا ذکر کیے دیتا ہوں۔ یہاں ایک دلچسپ بات بتاتا چلوں کہ میرے گھر کے مشرق میں یہ کالج اور مغرب میں ٹرین کی پٹڑی موجود ہے تو میں اور میرے دوسرے دوستوں کے دن کا آغاز مغرب جبکہ اختتام مشرق پر ہوتا تھا۔
کیونکہ ہم سب ٹرین کی پٹڑی پر جاکر سکے، پتھر، چابیاں، دھاتی چیزیں رکھ آتے تھے۔ کیونکہ اس وقت مال گاڑی اس ٹریک سے آدھی رات کو گزرا کرتی تھی۔
علی الصبح ہی جا کر اپنی اپنی رکھی چیزوں کو اٹھاتے تھے تاکہ سکول جاکر ساتھی طالب علموں کو ششدر کرسکیں کپ کیسے ہم نے چھوٹے سے سکے کو بڑا کر دیا۔ یا پھر کسی بھی دھاتی چیز کی ہئیت ہی بدل کر لے آئے۔
ٹریفک کے شور سے دور کھیتوں کے بیچ سے گزرتی اس ٹرین کی پٹڑی کا جادو ہی کچھ اور تھا اور جادو کے طلسم میں گرفتار ہم روز ہی اس کی طرف کھنچے چلے جاتے تھے۔ کبھی کبھی خوش قسمت دن ہوتا تو کوئی مسافر گاڑی بھی آ گزرتی تھی اور جب ٹرین گزرتی تھی تو زمین پر بھی لرزش محسوس ہوتی تھی تو ایک ہاتھ سے ایک دوسرے کو ہاتھوں میں ہاتھوں ڈالے مضبوطی سے پکڑے (یوں کہ کہیں ہمیں یہ ٹرین اڑا نہ لے جائے ) ٹرین کی ایک بوگی میں موجود مسافروں کو یوں دیکھتے تھے کہ جیسے یہ کسی اور سیارے کی خوش قسمت مخلوق ہیں۔
آج جب بڑے شہروں کی زندگی گزارتے ہوئے اپنے شہر میں واپسی ہوئی اور اس ٹرین کی پٹڑی کا رخ کیا تو وہی بچپن جیسی خوشی سے سرشار تھا، بچپن ہی کے ساتھی اور دوست جنید خان کے ہمراہ ٹرین کی پٹڑی پر پہنچا تو زنگ لگی سنسان سی پڑی اس پٹڑی کے گرد و نواح میں موجود کھیتوں کی جگہ پکے مکانوں کو دیکھ کر دل مسوس ہوا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں کیسے سب نگلی جا رہی ہیں۔
کراچی کو پشاور سے ملانے والے اس ٹریک پر ٹرین چلے تو شاید تین سال سے بھی زائد گزر چکے ہیں۔ مگر ایک بات جو ابھی بھی باقی تھی وہ تھی خاموشی اور اپنائیت جو اب خال خال ہی کہیں باقی ہوگی۔ کیونکہ شام ڈھلے ہم جب یہاں پہنچے تو ہر گزرنے والا چاہے جانتا تھا یا نہیں سلام کر کے اور حال احوال پوچھ کر گزرا۔ اور لہجے میں ایسی مٹھاس اور شناسائیت تھی کہ جیسے عرصے سے یارانہ ہو۔
ستمبر میں بھی ہوش اڑا دینے والی گرمی کا تو یہاں سے لینا دینا ہی نہیں تھا۔ ڈھلتے سورج کی کرنوں کو پرے دھکیلتے ہوا کے جھونکے اور ذہن میں موجود یادیں کتاب کے پلٹتے ورق کی مانند ایک ایک کر کے سامنے آ رہی تھیں۔ والد محترم مرحوم کے ساتھ پیدل چل کر سٹیشن پہنچنے کا لمحہ یاد آیا تو ویسا ہی جوش آ گیا کہ جیسا اس لمحے تھا۔ کیونکہ اس خوشی کی بات ہی الگ تھی کہ جیسا ہم نے دنیا کا دوسرا کنارا جا لیا ہو۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ بڑے ہو کر لاہور، کراچی، اسلام آباد، کے پی گھوم لیا مگر آج تک بچپن کی اس طلسم سے بھری ریل گاڑی کا سفر نہیں کیا۔
قارئین کرام اس جگہ جانے سے نہ صرف بچپن کے سنہری دنوں کی یادیں تازہ ہوئیں بلکہ کالم یا دیگر تحاریر لکھنے سے اچاٹ ہوا دل بھی یوں سمجھیں کہ زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ دل تو چاہ رہا ہے کہ بچپن کا ایک ایک لمحہ اس تحریر کے حوالے کردوں مگر آج کی بھاگتی ہوئی زندگی کے ساتھ بھاگتے قارئین کے وقت اور بوریت کا خیال آیا تو بس جاوید اختر صاحب کے اس شعر پر تحریر کا اختتام کیے دیتا ہوں کہ
اک کھلونا جوگی سے کھو گیا تھا بچپن میں
ڈھونڈتا پھرا اس کو وہ نگر نگر تنہا

