کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں


گزشتہ روز اتوار کو ہونے والے ایشاء کپ کے فائنل میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ہار نے شائقین کو کافی مایوس کیا۔ جس ٹیم کی جیت پر شائقین داد دیتے نہیں تھکتے تھے، وہی تنقید کی زد پر آ گئی۔ ہار  نے گزشتہ کارکردگی پر بھی پانی پھیر دیا۔ کسی نے کپتان کو کھری کھری سنائیں اور کسی نے مڈل آرڈر بلے بازوں کو کوسا۔ کسی نے خراب فیلڈنگ پر شاداب کا بھرکس نکالا اور کسی نے فخر، آصف، نواز اور خوشدل کو آڑے ہاتھوں لیا۔ رضوان کی سست بلے بازی پر تو بہت سوں نے کیڑے نکالے۔ باقی نے انتظامیہ اور سلیکشن ٹیم کو نا اہل قرار دیا۔ ہار سے لے کر اب تک غصے سے لبریز تبصروں اور تنقیدوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

گزارش ہے کہ پر سکون رہیے۔ نہ تو یہ جنگ کا میدان تھا اور نہ ہی انتخابی معرکہ۔ کرکٹ کو کھیل ہی رہنے دیں۔ تنقید کے لئے سیاسی محاذ کافی نہیں؟ کھیل کا حسن ہی ہار اور جیت میں ہے۔ اگر ایک ٹیم نہ ہارے تو کھیل میں دلچسپی نہیں رہتی۔ ہر دن ہر ٹیم کا نہیں ہو سکتا۔ جو ٹیم غلطی کرتی ہے وہ ہار جاتی ہے۔ کھیل میں win۔ win صورتحال کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ دونوں ٹیمیں جیت جائیں۔ بلکہ کھیل میں دونوں کو اچھا کھیل پیش کرنا ہوتا ہے، جس سے شائقین بھی محظوظ ہوں یہی کھیل کے میدان کا win۔ win ہوتا ہے۔

کھیل ذہنی و جسمانی مشقوں کا نام ہے۔ زمانہ قدیم میں کھیل تفریح کے لئے کھیلے جاتے تھے۔ انسانی دماغ نے تفریح کے لئے اپنی اپنی فہم کے مطابق مختلف کھیل ترتیب دیے۔ وقت کے ساتھ کھیل معاش کا ذریعہ بننے لگے۔ اب کھیل ایک شعبے کا درجہ رکھتا ہے۔ کھیل کی اہمیت تفریح کے ساتھ ذہبی و جسمانی نشو و نما کے لحاظ سے بھی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین سمیت سب شائقین سے گزارش ہے کہ دلبرداشتہ نہ ہوں۔ ہار کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ بلکہ ہار غلطیوں کو درست کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر ہماری ٹیم اسی کامبینیشن میں جیت جاتی تو شاید آنے والے دنوں میں بیس اوور کے عالمی کپ میں کوئی بڑی تبدیلی نہ ہوتی۔ ہار نے ٹیم انتظامیہ کو بڑے ایونٹ سے پہلے سوچنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ درحقیقت پاکستان ٹیم کو آغاز کے لئے ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو دائرے کے اوور میں تیز رفتار سے کھیلنے کے ماہر ہوں۔ سست آغاز سے مڈل آرڈر کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ آغاز سے سست رن ریٹ کھلاڑیوں کو دباؤ میں رکھتا ہے۔ بابر اور رضوان مڈل آرڈر کے لئے بہتر چوائس ہیں۔ آصف علی کو اسپنرز کے خلاف اپنی تکنیک کو بہتر کرنا ہو گا۔ فخر اور خوشدل کی جگہ کسی اور موقع دیا جا سکتا ہے۔

ایشیا کپ فائنل میں بابر اعظم کی بات کی جائے تو انہوں نے دفاعی انداز میں کپتانی کی۔ جب سری لنکا کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے، تو انہیں اوور بچانے کی بجائے وکٹیں حاصل کرنے کی طرف جانا چاہیے تھا۔ اسی طرح ہسارنگا کے اوور میں آصف علی کو بھیجنے کا فیصلہ بھی غلط تھا۔ جب کہ آصف کا اسپنرز کے خلاف ریکارڈ اچھا نہیں اور ہسارنگا ایک اسٹار پلیئر ہے۔ کھیل میں ویسے ہی دباؤ ہوتا ہے اور ٹی ٹونٹی طرز میں کھیل لمحوں میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دباؤ میں صبر و تحمل کے ساتھ ذہنی صلاحیت کا پراعتماد استعمال کرنے والا دوسرے پر برتری حاصل کر جاتا ہے۔ ایسا ہی فائنل میں ہوا اور سری لنکا بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ میں پاکستان پر برتری حاصل کر کے ایشیاء کا فاتح بن گیا۔ کھیل ہارنے سے نہ تو زندگی رک جاتی ہے۔ اور نہ ہی ملک کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ ہار کا دکھ ضرور ہوتا ہے۔ لیکن اس دکھ کو ذہن پر سوار نہیں کرنا چاہیے۔ کھلاڑیوں سے گزارش ہے پرسکون اور پر اعتماد ہو کر اپنے قدرتی کھیل کا مظاہرہ کیا کریں۔

کھیل کا نتیجہ ہار اور جیت سے زیادہ کچھ نہیں۔ خدارا! کھیل کو کھیل ہی سمجھا کریں۔ کھیل اور دوسری ٹیم کے کھلاڑیوں کو خود پر حاوی نہ ہونے دیا کریں۔ اپنا سو فیصد اچھا کھیل پیش کیا کریں۔ باقی سب مقدروں پر چھوڑ دیں۔ پر اعتماد کھیل ہی اصل میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ امید کرتے ہیں ٹیم انتظامیہ عالمی کپ سے پہلے کوتاہیوں پر نظر ثانی کے ساتھ کمزوریوں کو بہتر کرے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments