آخری پرواز سے پہلے


یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ وہ کسی ہسپتال میں داخل ہوا ہو۔ اس سے پہلے بھی زندگی میں ایسے کئی مواقع آئے جب اسے نہ چاہتے ہوئے بھی ہسپتال داخل ہونا پڑا۔ جانے کیوں اسے ہسپتال آنا، ہمیشہ کمزوری کی علامت دکھائی دیتا۔ شاید اس لئے کہ آپ یہاں دوسروں کے رحم وکرم پر آ جاتے ہیں۔ ایک عقلی اپروچ رکھنے والے فرد کی حیثیت سے، اس بات پر وہ کئی بار تنہائی میں خود سے بھی الجھتا کہ ہر انسان کو کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی وجہ سے ان راہداریوں سے ہو کر ہی گزرنا پڑتا ہے تو اس میں کمزوری کی بھلا کیا بات ہے مگر وہ چاہتے، نہ چاہتے ہر بار اس معاملے میں خود کو قائل کرنے اور اپنی رائے بدلنے میں ناکام رہا۔ یہی وجہ تھی کہ جب تک اور جہاں تک ممکن ہوتا، وہ اس کلوروفوم زدہ ماحول سے بھاگنے کی ہی کوشش کرتا، لیکن اس بار اپنی تمام تر ناپسندیدگی اور دیرینہ منطق کے باوجود وہ ایسا کرنے میں یکسر ناکام تھا۔

آج اسے یہاں داخل ہوئے دو ہفتے سے زیادہ ہو چکا تھا اور اس کمرے میں موجود ہر شے اسے یوں دکھائی دیتی جیسے وہ انھیں جانے کب سے جانتا ہے۔ نرسوں کے قدموں کی چاپ اور صفائی والے کی کھٹ کھٹ سے وہ اس بات کا اندازہ لگاتا تھا کہ اس کے گردونواح میں کیا ہو رہا ہے۔ سورج کب طلوع ہوتا ہے اور کب، دن کے اختتام کا اعلان کرتا ہے، وہ ان سب باتوں سے بے خبر ہو چکا تھا۔ ہاں، ڈاکٹروں کی کھسر پھسر سے وہ آہستہ آہستہ یہ قیاس کرنے لگا تھا کہ اس کے خلاف کیا سازش ہو رہی ہے۔ اس نے زندگی کے سارے رنگ دیکھے تھے۔ اپنے ہی فیصلوں سے زندگی کے نشیب و فراز کا انتخاب کیا تھا مگر اس نے خوف کو کبھی اپنے قریب آنے نہ دیا اور اب بھی اس تنہائی میں وہ بہت بہادری سے اس تکلیف کا سامنا کر رہا تھا جسے برداشت کرنا، شاید کسی اور کے بس میں نہ ہوتا۔

وارڈ کی خاموشی، تنہائی اور تاریکی کبھی کبھی اسے سینما گھر کی طرح محسوس ہوتی جہاں اس کی زندگی کی ریل خود بہ خود چل پڑتی اور وہ اس دوران، بچپن سے لے کر عمر کے ہر حصے کے نقش، پوری تازگی کے ساتھ اپنی آنکھوں میں ابھرتے اور ڈوبتے دیکھتا۔ اس کے سارے خواب اس کی آنکھوں میں تعبیر کی صورت، اس وارڈ سے نکل کر اس سے ملنے کا کہتے۔ وہ خود ان خوابوں کے ساتھ جینے کا آرزومند تھا اور ہمیشہ اس نے ان کا تعاقب بھی کیا۔ یہ الگ بات کہ ان دونوں کے درمیان موجود فاصلہ اس کی تمام تر خواہش اور جستجو کے، کبھی کم نہ ہوسکا۔

ہواؤں میں اڑنے والے کو کبھی اندازہ ہی نہ ہوا کہ زمین پر چلنا کتنا مشکل ہے۔ وہ بادلوں کو چیرتے ہوئے با آسانی آگے نکل جاتا تھا مگر حالات کو سلجھانے میں در آنے والی مشکلات سے نکلنے کے لئے حفاظتی جیکٹ اسے خود کبھی میسر نہ آئی۔ وہ جس نے ہمیشہ دوسروں کے لئے جینے کا عزم کر رکھا تھا، جس نے ہمیشہ اپنی ترجیحات پر دوسروں کی خواہشات کو فوقیت دی، خود سے اس قدر بے خبر رہا کہ اپنی طرف کبھی مڑ کے نہ دیکھا۔ جمع تفریق کی اس دنیا میں اسے اس بات کا احساس ہی نہ رہا کہ اس بازار میں کس چیز کا کیا بھاؤ ہے۔ وہ انمول چاہتوں کا سودائی تھا اور محبت کے باٹ سے سارے تعلقات، تولا کرتا تھا۔

وہ زندگی کو ان کتابوں کے عکس کی طرح دیکھنا چاہتا تھا جنہیں اس نے ہمیشہ شوق سے پڑھا اور ان کے مندرجات کو عملی طور پر سینے سے لگائے رکھا۔ وہ ان کتابوں میں درج الفاظ کی پشت پر دکھائی نہ دینے والے مفہوم اور مفہوم میں پوشیدہ پس منظر کا ہمیشہ متلاشی رہا۔ ان ہی حروف کا یہ کرشمہ تھا کہ فضاؤں میں رہتے ہوئے بھی اس نے کبھی اونچی اڑان کا نہ سوچا اور دوستوں، بہی خواہوں، رشتہ داروں اور ساتھ منسلک کارکنوں کو اپنے لئے چھت جیسا محسوس کیا۔

اپنے شہر سے اتنی دور، اس شہر میں آنے کا فیصلہ اس نے کوئی بہت منصوبہ بندی سے نہیں کیا تھا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اب اپنے شہر کا تصور بھی اس کے لئے تبدیل ہو چکا تھا۔ اسے یوں لگتا جیسے ہر شہر ایک جیسا ہوتا ہے، بس وہی شہر، اپنا شہر ہوجاتا ہے جہاں آپ کے دوست ( اور غم خوار ) آپ کو میسر ہوں اور آپ اپنے دل کا بوجھ، ان کے سامنے کسی تکلف کے بغیر، پوری سچائی کے ساتھ اتار سکیں۔

اس نئے شہر میں، یہ نئی آزمائش بھی اسے غنیمت لگی کہ اس دوران وہ خاموشی سے، سب سے چھپ کر ڈاکٹروں کی نشتر زنی کا سامنا کرسکے گا اور یہاں سے نکل کر، ایک دن، اپنی تندرستی سے، سب کو حیران کردے گا۔ اس حیرانی سے پہلے، خود اس کے لئے ایک حیرانی مقابل تھی جب اس نے اپنے وارڈ میں ایک جگری دوست کو کھڑا پایا۔ اس نے تو کسی کو بھی اپنی یہاں موجودگی کا نہیں بتایا، پھر یہ یہاں کیسے!

کیا دوستوں کو سچے خواب نہیں آسکتے، دوست کی اس دلیل کے آگے وہ لاجواب تھا۔

اب ڈاکٹروں کی کھسر پھسر والی سازش میں، جس دوست پر بہت اعتماد تھا، وہ بھی شریک ہو چکا تھا۔ بلکہ اس عمل میں پہلے سے زیادہ تیزی دکھائی دینے لگی تھی۔ وہ، دوست کا چہرہ پڑھ کر بہت آسانی سے یہ جان سکتا تھا کہ اس پر کیا لکھا ہے۔ اب وہ عمر کے اس حصے سے گزر چکا تھا جہاں دوست کے چہرے کی مسکراہٹ، اسے کسی امید کی علامت دکھائی دیتی یا کسی خوش فہمی سے دوچار کر دیتی۔

اور پھر وہی ہوا جس کا اسے اندیشہ تھا۔ کسی اور کے لئے شاید یہ خبر بہت ہولناک محسوس ہوتی مگر اپنے ابتدائی پیشے اور دنیا بھر کے تجربات اور مشاہدات سے وقت کے ساتھ، اس کے مزاج میں بہت ٹھہراؤ اور مشکلات جھیلنے کا ہنر آ چکا تھا۔ ڈاکٹروں نے اسے تسلی دیتے ہوئے یقین دلایا کہ اب اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ دوست نے بھی ڈاکٹروں کی رائے سے اختلاف نہ کیا۔ اس سے شاید ڈاکٹر، تفصیل سے زخم کی نوعیت اور جسم میں اس کے پھیلاؤ کے بارے میں تبادلہ خیال کر چکے تھے۔ دوست کے ہوتے ہوئے، گھر والوں سے رابطہ بھی ممکن ہو چکا تھا جن کی اس انتہائی قدم کے لئے رضا مندی ایسے معاملات میں ہسپتال کی طرف سے ضروری تصور کی جاتی ہے۔

اس نے ردعمل میں کسی سے کچھ نہ کہا، مگر اسے خود یہ احساس ہو گیا تھا کہ یہ اس کی زندگی کی آخری پرواز ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اب وہ ایسے کسی پیشے سے وابستہ بھی نہیں مگر ایک ٹانگ کے ساتھ زندگی گزارنے کا تصور، اس کے ذہن میں جانے کتنے سوالات اور امکانات لئے آ موجود ہوا۔ وہ تو، وہ شخص تھا جسے ہسپتال آنے سے ہی ہمیشہ اس لئے اکتاہٹ ہوتی تھی کہ آپ اس ماحول میں دوسروں کے رحم و کرم پر آ جاتے ہیں۔

بے بسی کے اس احساس کے ساتھ، کلمہ پڑھتے ہوئے، اسے آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا۔ دوست سمیت گھر والوں کی دھڑکن ہسپتال کی گھڑی کی سوئی کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکی تھی۔ خاموشی سے کی جانے والی دعائیں، وہاں موجود، سب کو صاف سنائی دے رہی تھیں۔ ڈاکٹر جو زخم کی شدت اور اس کے اثرات سے آگاہ تھے، اپنے تئیں پوری کوشش میں تھے کہ معجزہ ہو جائے۔

افسوس! تمام تر انسانی کوششوں کے یہ معجزہ نہ ہو سکا۔

دوست، آپریشن تھیٹر سے سسکیاں بھرتا، جب اس کے خالی وارڈ میں، اس کا سامان سمیٹنے داخل ہوا تو سائڈ ٹیبل پر رکھی کتاب سے اپنی توجہ نہ ہٹا سکا۔ کتاب اور کتاب کے صفحات کی حالت بتا رہی تھی کہ اسے بار بار پڑھا گیا ہے۔

دوست نے کتاب کے مڑے ہوئے صفحے کو کھولا تو وہاں منصور حلاج کے واقعے کا وہ حصہ درج تھا جہاں سب اسے پتھر مارتے ہیں اور وہ اف تک نہیں کرتا مگر جب اس کا دوست شبلی اسے مٹی کا ڈھیلا مارتا ہے تو وہ کراہ اٹھتا ہے کہ پتھر مارنے والے تو مجھے نہیں جانتے، شبلی تو مجھے جانتا ہے۔

دوست کی ہچکیاں نہ رکیں جیسے وہ اس کی زندگی کی بے لوث قربانیوں اور دوسروں کے لئے کی گئی ساری خدمات سے واقف ہو۔

Facebook Comments HS