ملکہ برطانیہ کے ملبوسات تیار کرنے والی خاتون کا خواب کیسے حقیقت بن گیا


ملکہ برطانیہ
مورین روز کے ہاتھوں تیار کیے جانے والے اس لباس کو ملکہ برطانیہ نے اپنی شادی کی پچاسویں سالگرہ پر پہنا تھا
ملکہ برطانیہ کے تین دہائیوں تک ملکہ کے ملبوسات تیار کرنے والی مورین روز نے اپنے اس دلچسپ تجربے کے بارے میں بی بی سی کو بتائے ہیں۔

ہیمپشائر کے رنگ وڈ علاقے سے تعلق رکھنے والی مورین روز نے دس برس کی عمر میں ملکہ برطانیہ کو ان کے شادی کے گاؤن میں دیکھنے کے بعد ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ پیشہ ورانہ طور پر کپڑے تیار کرنا چاہتی ہیں۔

اور انہوں نے اپنے اس خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے خوب محنت کی۔ وہ ڈیزائنر سر نورمن ہارٹنل کے لیے کام کرتی تھیں جب انہیں پہلی بار بکنگھم پیلس جانے کا موقع ملا۔

مورین اب 85 برس کی ہیں اور بتاتی ہیں ’مجھے نہیں پتا کہ میں اس کمرے میں کیسے داخل ہوئی۔ میں اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ میرے گھٹنے لڑکھڑا رہے تھے۔‘

مورین روز

مورین روز ڈیزائنر سر نورمن ہارٹنل کے لیے کام کرتی تھیں جب انہیں پہلی بار بکنگھم پیلس جانے کا موقع ملا

انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’اس ملاقات سے کئی روز پہلے سے میری نیند اڑ چکی تھی۔ یہی خیالات آتے تھے کہ میرے ہاتھ سے انہیں سوئی تو نہیں چبھ جائے گی یا کہیں کچھ اور برا تو نہیں ہو جائے گا.‘

مورین نے بتایا ’ملکہ کو تھائی لینڈ کے بادشاہ نے ایک کپڑا تحفے میں دیا تھا۔ وہ اس کپڑے سے چار خوبصورت سکرٹس اور بلاؤز بنوانا چاہتی تھیں۔ ‘

مورین کے بقول ملکہ کے کپڑوں کی ناپ اور فِٹنگ کے موقعے پر ہر بار ان کے تقریباً نو کتے بھی ساتھ ہوتے تھے۔

ملکہ برطانیہ

مورین کے ہاتھوں تیار ایک ڈریس میں ملکہ برطانیہ

مورین نے بتایا ’اس کے بعد ملکہ ہر بار مقناطیس لے کر فرش پر چیک کرتی تھیں کہ کہیں ہم نے کوئی سوئی تو نہیں گرا دی ہے جو ان کے کتوں کے پاؤں میں چبھ جائے۔‘

ملکہ کے ایک اور ڈریس ڈیزائنر ایئن تھومس کے ساتھ بھی مورین نے کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے خود اپنا کام شروع کر دیا اور نیو فاریسٹ کے پاس اپنی دکان کھول لی۔

یہ بھی پڑھیے:

انڈیا اور افریقہ میں ملکہ کے بارے میں کچھ مختلف سے خیالات

وہ لمحات جب ہمیں ملکہ الزبتھ کی حسِ مزاح دیکھنے کو ملی

ملکہ الزبتھ: بالمورل سے آخری سفر کا آغاز، میت کے احترام میں عوام سڑکوں پر

ملکہ برطانیہ

PA Media
مورین روز کے بقول یہ لال ڈریس ملکہ کو بے حد پسند تھی

ملکہ کی حکمرانی کے 47ویں برس 1999 میں انہیں رائل وارنٹ حاصل ہو گیا۔ یعنی وہ ملکہ کے لیے خود ڈیزائن تیار کرنے لگیں۔

مورین روز نے بتایا ’ملکہ سے بات کرتے ہوئے ایسا بالکل نہیں لگتا تھا کہ آپ کسی ملکہ سے بات کر رہے ہیں۔ ان سے گفتگو کرنا اتنا آسان ہوتا تھا۔‘

انہوں نے بتایا ’جب کئی جوڑے تیار ہو جاتے تھے تو وہ ان میں سے کوئی ایک پہن کر دیکھتی تھیں اور تب ان کے چہرے پر آپ وہ کسی سنجیدہ ملکہ جیسے تاثرات دیکھ سکتے تھے۔‘

مورین کے بقول اس کے بعد اچانک وہ میری طرف دیکھتی تھیں اور ان کی مسکراہٹ کے ساتھ ہی جیسے پورا کمرا روشن ہو جاتا تھا۔ پھر وہ کہتی تھیں ’مجھے یہ پہن کر بہت مزہ آنے والا ہے کیوں کہ یہ بہت آرام دہ ہے۔ آپ کی محنت کے لیے بہت بہت شکریہ۔‘

مورین کہتی ہیں ’ملکہ آپ سے ایسا کچھ اگر کہہ دے تو ایسی باتیں پھر ساری عمر آپ کے ساتھ رہتی ہیں۔‘

1999 میں مورین روز اپنی دکان میں کام کرتے ہوئے

1999 میں مورین روز اپنی دکان میں کام کرتے ہوئے

مورین روز نے 2003 میں ریٹائرمنٹ لے لی۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے زندگی بھر جو کام کیا وہ کسی خواب کی تعبیر کی طرح ہے۔

انہوں نے کہا ’شاندار تیس برس۔ میں بہت خوش قسمت تھی کہ چھوٹی سی عمر میں میں نے جو خواب دیکھا وہ حقیقت میں تبدیل ہو سکا۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp